• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

24 ستمبر 1944ء کو گاندھی کی طرف سے قائد اعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ آپ کی مدد سے میں معاہدہ کرنے کے امکانات پر غور کررہا ہوں تاکہ لاہور میں مسلم لیگ کی قرارداد کے ذریعےکیے گئے دعویٰ پر عمل کیا جائے تاکہ آپ کو کوئی خوف نہ ہو کہ اگست والی قرارداد ہمارے درمیان ہونے والے تصفیہ کے لئے رکاوٹ بن جائے گی‘ گاندھی جی نے اس خط میں مزید کہا کہ وہ اس تصور کو آگے رکھ کر آگے بڑھ رہا ہے کہ ہندوستان کو دو اور مزید قوموں کا ملک تصور کرنے کے بجائے اس بات پر اتفاق کیا جائے کہ ہندوستان ایک خاندان ہے جس کے ممبر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہندوستان کے شمال مغربی خطوں میں یعنی بلوچستان‘ سندھ‘ شمال مغربی سرحدی صوبے اور پنجاب کا وہ حصہ جہاں مسلمان دیگر لوگوں کے مقابلے میں بہت بڑی اکثریت میں ہیں مگر وہ چاہتے ہیں کہ وہ ہندوستان کے باقی حصے سے الگ رہیں۔ گاندھی جی نے اس خط کے ذریعے قائد اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجموعی طور پر آپ سے اختلاف کرنے کے باوجود میں کانگریس اور ملک کو سفارش کرسکتا ہوں کہ مندرجہ ذیل شرائط پر 1940ء میں لاہور میں مسلم لیگ کی طرف سے منظور کی جانے والی قرارداد کے مطابق علیحدگی کے دعویٰ کو تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ شرائط یہ ہیں۔ (اے) کانگریس اور مسلم لیگ کی منظوری سے قائم کیے جانے والے کمیشن کے ذریعے ان علاقوں کی حد بندی کی جائے ،جن علاقوں کی حد بندی کی جائے گی وہاں کے لوگوں کی خواہشات کی تحقیق ان علاقوں کے بالغ لوگوں کے ووٹوں سے یا کسی اور ایسے طریقہ کار سے کرائی جائے۔ (بی) اگر ووٹ ملک کو تقسیم کرنے کے حق میں آئے تو اس بات سے اتفاق کیا جائے گا کہ جب ہندوستان بیرونی تسلط سے آزاد ہوجائے تو جلد سے جلد ان علاقوں کو ایک الگ ریاست تسلیم کیا جائے‘ اسی طرح ہندوستان دو خود مختار آزاد ریاستوں میں تقسیم ہوسکتا ہے۔ (سی) ہندوستان سے علیحدگی کے بارے میں ایک معاہدہ ہونا چاہئے جس میں یہ بات بھی طے کی گئی ہو کہ خارجی معاملات‘ دفاع‘ اندورن ملک مواصلات‘ کسٹم‘ تجارت اور ایسے ہی ایشوز کے معاملات کو سنبھالنے کے لئے ایک اہل اور اطمینان بخش انتظامیہ قائم کی جائے جو معاہدہ کرنے والی ریاستوں کے مشترکہ مفاد کا حصہ ہونی چاہئے۔ (ڈی) اس معاہدے میں دونوں ریاستوں کی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے شرائط بھی موجود ہونی چاہئیں۔ (ای) کانگریس اور مسلم لیگ کی طرف سے اس معاہدے کو منظور کرنے کے ساتھ ہی فوری طور پر دونوں ریاستیں ہندوستان کی خود مختاری حاصل کرنے کے لئے ایک مشترکہ کارروائی کرنے کا فیصلہ کریں۔ (ایف) بہرحال مسلم لیگ آزاد ہوگی کہ وہ چاہے تو اس کارروائی سے الگ رہے جس کی کانگریس ہوسکتا ہے کہ مخالفت کرے جبکہ مسلم لیگ ہوسکتا ہے کہ اس کارروائی کا حصہ نہ بنے۔

25 ستمبر 1944ء کو قائد اعظم نے گاندھی کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ ’’آپ نے پہلے ہی لاہور قرارداد کے بنیادی اصول اور بنیاد کو رد کردیا ہے‘ آپ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ مسلمان ایک قوم ہیں‘ آپ اس بات کو بھی تسلیم نہیں کرتے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ آزادی حاصل کریں‘ آپ یہ بھی تسلیم نہیں کرتے کہ مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ وہ اکیلے آزادی حاصل کرسکتے ہیں‘ آپ یہ بھی تسلیم نہیں کرتے کہ پاکستان کے دو خطے نارتھ‘ ویسٹ اور نارتھ ایسٹ ہیں جو چھ صوبوں سندھ‘ بلوچستان‘ نارتھ ویسٹ فرنٹیئر صوبہ‘ پنجاب‘ بنگال اور آسام پر مشتمل ہیں اور یہ فیصلہ اس بات سے مشتروط ہے کہ ان کی علاقائی حدود کو درست کرنا ہوگا جن سے اس وقت اتفاق کیا جائے گا جب لاہور کی قرارداد میں اس کا ذکر ہو‘‘۔ قائد اعظم نے اپنے خط میں مزید کہا کہ’’ مذکورہ بنیادی ایشوز پر اتفاق ہونے کے بعد حلقوں کی حد بندی اور وضاحت کے معاملات اٹھائے جائیں گے اور اس مقصد کی خاطر معاہدہ کرنے کے لئے مشینری بنائی جائے گی‘ ہمارے درمیان خطوط کے تبادلے اور بحث کرنے کے بعد میں محسوس کررہا ہوں کہ یہ سوال کہ انڈیا ہندوستان اور پاکستان پر مشتمل ہے فقط آپ کے لبوں پر ہے جبکہ یہ بات آپ کے دل میں نہیں ہے‘‘ اس کے بعد قائد اعظم نے اپنے خط کے ذریعے گاندھی جی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اب وہ ان کے ساتھ خاص شرائط پر بات کرنا چاہتے ہیں کہ (اے) میں اس سوچ پر بات کرنا چاہتا ہوں کہ انڈیا کو دو یا زیادہ قوموں کا ملک تصور نہ کیا جائے مگر ایسا ایک خاندان تصور کیا جائے جس کے کئی ممبر ہوں جن میں سے مسلمان جو نارتھ‘ ویسٹ زون یعنی بلوچستان‘ سندھ‘ نارتھ‘ ویسٹ فرنٹیئر صوبہ اور پنجاب کے اس علاقے میں رہتے ہیں جہاں وہ بڑی اکثریت میں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ باقی انڈیا سے علیحدہ ہوں ،اگر اس شرط کو تسلیم کیا گیا اور عمل کیا گیا تو یہ صوبے محدود اور معذور ہوجائیں گے اور ہم منتشر ہوجائیں گے اور یہ سب کچھ لاہور قرارداد کے منافی ہوگا۔ (بی) اگر ان معذور علاقوں کی بھی اسی طرح تشکیل کی گئی تو مسلمان خود مختاری کا حق استعمال نہیں کرسکیں گے جبکہ ان کے بجائے ان علاقوں کی اس طرح حد بندی کرنے کے بعد ان علاقوں کے رہائشی یہ حق استعمال کرسکیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بھی لاہور قرارداد کے بنیادی اصولوں کے منافی ہوگا۔

تازہ ترین