استحکام اور طویل سکوت کے بعد پی آئی اے کی پاکستانی صنعت کاروں کو نیلامی اور پی ایس ایل کی دو ٹیموں کی 3ارب60 کروڑ میں بیرونِ ملک آباد پاکستانیوں کی خریدا ری کیا اس بات کی علامت ہے کہ معاشی پہیہ چلنے لگا ہے؟
پی آئی اے کی پہلی نیلامی ناکام ہوئی تو بہت مایوسی ہوئی تھی انتہائی اعلیٰ سطح پر پریشانی یہ تھی کہ اب جبکہ پاکستانیوں نے اسے نہیں خریدا تو نتیجتاً اب اسےبیرون ملک کی کمپنیوں کو اسے بیچنا پڑے گا پھر اسکا منافع بھی بیرون ملک جائے گا اور پاکستان کا برانڈ بھی ہاتھ سے جاتا رہے گا۔ اس تشویش اور مایوسی میں پاکستانی صنعت کاروں تک یہ پیغام پہنچایا گیا کہ سب پاکستانی اسی ملک کی نعمتوں اور برکتوں سے مستفید ہوتے ہیں منافع بخش بینک اور سیمنٹ فیکٹریاں خریدنے میں تو سب پیش پیش تھے ملک کو ضرورت پڑی ہے تو کوئی آگے آنے کو تیار نہیں !حکومت نے بھی ایک معاشی ٹاپ گن سے درخواست کی کہ آپ اس نیلامی میں حصہ لیں مگر نفع اور نقصان کو دیکھنے والا کوئی آگے نہ آیا۔ اس پر بھری محفل میں ایک سیاسی رہنما نے شدید گلہ بھی کیا مگر اُدھر سے مایوسی ہی ہوئی۔ تاہم صنعت کاروں کے ایک گروپ نے پیش کش کی کہ وہ اسے بیرونی پارٹی کو نہیں دینے دیں گے چنانچہ سب سے پہلے وہ تیار ہوئے تو ان کے مدمقابل اور بھی آگئے۔ ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ ایک طرف آئی پی پی کے مالک تھے تو دوسری طرف آئی پی پیز کے خلاف مہم چلانے والے۔ جب خریداری کے دعویدار کئی آگئے تو پہلے گروپ نے پیش کش کی کہ اب تو خریدار ہیں آپ باقیوں کو دے دیں مگر آخری صبح ان کے جذبہ حب الوطنی کو جگایا گیا تو نیلامی کامیاب ہوگئی ۔کئی دہائیوں سے نجکاری کا رکا ہوا عمل بحال ہوا۔ حکومت کو خسارے میں چلنے والے ادارے کو فروخت کرنے میں کامیابی ملی اور ایک دفعہ پھر سے پاکستان اور اس میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ سنا ہے آجکل اس حوالے سے اس عمل کو تکمیل کی طرف لے جایا جارہا ہے۔
کرکٹ کے حوالے سے بھی غیر ضروری تنازعات پیدا کرنے کے باعث جب پاکستان سپرلیگ کی سیالکوٹ اور حیدرآباد ٹیموں کی نیلامی کی بات چلی تو اندازہ نہیں تھا کہ ان کی بولی اس قدر مہنگی ہوجائے گی ۔ بیرون ملک آباد پاکستانیوں نے یہ ٹیمیں خرید کر ایک بار پھر سے وطن اور کرکٹ سے محبت کا اعادہ کیا ہے حیدرآباد ٹیم خریدنے والے نے تو حیدرآباد میں نیا اسٹیڈیم اور ڈیولپمنٹ کا وعدہ بھی کیا ہے سیالکوٹ ٹیم کے خریدار بھی بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں۔ یہ دوخبریں خوش آئند ہیں۔
پاکستان کا مسئلہ یہی ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے لئے ہر سال اربوں ڈالر درکارہیںاور بیرون ملک سے 50ارب ڈالر سے100ارب ڈالر کی جو توقع لگائی گئی تھی وہ پوری نہیں ہوئی۔ نظر ثانی شدہ فیصلوں میں یہ بھی اندازہ کیا گیا کہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ سے ملک میں انفراسٹرکچر تو آجاتا ہے مگر منافع بیرونِ ملک چلاجاتا ہے اور وہ ملک کی معیشت میں نہ دوبارہ لگتا ہے نہ زیر گردش آتا ہے اس لئے یہی خیال غالب آیا کہ پاکستان کی معاشی خوشحالی کا راز پاکستان ہی کے کامیاب بزنس گروپس کو سرمایہ کاری پر مائل کرنے میں مضمرہے، اس حوالے سے یہ سوچ بھی سامنے آئی کہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ کاری تب کریں گے جب پاکستانی صنعت کار خود یا بیرون ملک پارٹیز کے ذریعے سرمایہ کاری پر تیار ہوں گے۔
پاکستان اور تیسری دنیا میں اکثر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ہر دولت مند دراصل لوٹے ہوئے پیسے سے دولت مند بنا ہے مگر آج کی مارکیٹ اکانوی میںدولت پیدا کرنے والے کو سراہا جاتا ہے کہ وہ روزگار بھی فراہم کرتا ہے اور ملکی معیشت میں استحکام اور بڑھوتری بھی لاتا ہے ۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے اعدادوشمار کے مطابق فوجی گروپ سب سے ٹاپ پر رہا ہے مگر اس گروپ میں60 سے70 فیصد عوام کے حصص بھی ہیں اعدادو شمار میں دوسرے نمبر پر سر انور پرویز کا بیسٹ وے گروپ ہے، ملک بھر میں دوسرے نمبر پر اسٹاک میں رہنے کے باوجود اس گروپ کے80فیصد شیئرز خود سر انور پرویز کے ہیں انہوں نے صرف 20فیصد شیئرز مارکیٹ میں بیچے ہیں گویا برطانیہ سے پیسہ کمانے والے اور وہاں سے سر کا خطاب پانے والے سر انور پرویز اس وقت پاکستان کے ٹاپ بزنس مین ہیں۔ ان کی ملکیت میں یونائیٹڈ بینک اور بیسٹ وے سیمنٹ ہیں۔ یونائیٹڈ بینک کے پاس 3797 ملین ڈالر کا سرمایہ موجود ہے اور بیسٹ وے سیمنٹ 1117 ملین ڈالر سرمایہ رکھتا ہے۔ دونوں کے سرمائےیا کیپٹل کو ملایا جائے تو وہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سب سے بڑے سرمایہ کار ہیں ۔افسوس یہ ہے کہ انہیں حکومت برطانیہ نےانہیں سر اور ان کے بھتیجے چودھری ضمیر حسین کولارڈ کا خطاب دیا ہے ضروری ہے کہ انہیں پاکستان کا سب بھی سے بڑا اعزاز نشان پاکستان دیا جائے اور انہیں وی وی آئی پی کے طور پر پاکستان کے دورے کی دعوت دی جائے۔ ویسے بھی وہ عمر میں90کے ہیر پھیر میں ہیں پاکستان سے ان کی محبت کا قرض اتارنے کا یہ بہترین طریقہ ہوگا۔ پی آئی اے اور پی ایس ایل خریدنے والے، مایوسی اور اندھیرے میں ڈوبے پاکستانیوں کے لئے روشنی کی طرح ہیں اپنے ملک پر اعتماد کرکے انہوں نے حب الوطنی اور مٹی سے آشفتگی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔