ب سے بندہ بنتا ہے اور بندوں کی بہت سی قسمیں ہیں۔ ایک بندہ وہ ہوتا ہے جو اقتدار کے دوران میں اللّٰہ کے بندوں کا ناس مار دیتا ہے اور جو اقتدار سے محرومی پر خود کو ” بندہ بشر‘‘کہہ کر اپنی غلطیوں کی معافی مانگتا ہے۔ ایسے بندے کو بندہ ء اقتدار کہتے ہیں۔
بندوں کی دوسری قسم بندہ نوازوں کی ہے،بندہ نواز سے دھیان طبلہ نواز کی طرف جاتا ہے کیونکہ بندہ نواز اور طبلہ نواز کی صرف قافیہ اور ردیف ہی نہیں حرکتیں بھی ملتی جلتی ہیں۔ طبلہ نواز بڑی بے دردی سے ، طبلے کی درگت بناتا ہے اور پھر اس کے’’ زخموں‘‘ پر آٹے وغیرہ کی مرہم بھی لگاتا ہے تاکہ اگلے روز پھر اسے استعمال میں لا سکے۔
آج کل کے بندہ نواز بھی طبلہ نواز ہی واقع ہوئے ہیں۔ وہ پہلے اپنے بندوں کی اچھی طرح درگت بناتے ہیں اور بعد میں ان پر لفظوں کی مرہم لگا دیتے ہیں، ان دونوں طبقوں کا شمار فن کاروں میں ہوتا ہے اور ان کی فن کاری کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ بندے اور طبلے اپنی اپنی جگہ ان’’ نوازوں‘‘ سے خوش رہتے ہیں، بس اتنا ہے کہ ان کے لیے بندہ ڈھیٹ ہونا چاہیے، طبلہ ڈھیٹ ہونا چاہیے۔
بندوں کی ایک قسم وہ بھی ہے جنہیں اکثر یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ” بندے دے پتر ‘‘بن جائیں۔ ہم نے ایسے بہت سے بندے دیکھے ہیں، ماضی میں ایسے بندوں کو متذکرہ مشورہ نہ ماننے کی صورت میں مفت لباس، رہائش اور کھانے کی سہولت دی جاتی تھی، البتہ جیل کا انتخاب حکام خود کرتے تھے۔ مشورہ ماننے کی صورت میں، یعنی’’ بندے دا پتر‘‘ بن جانے پر ان بندوں کو وزیر، مشیر کے عہدے ملتے تھے اور پھر وہ اپنی جلالی تقریروں میں دوسروں کو’’بندے دا پتر‘‘بننے کا مشورہ دیتے تھے۔ کچھ لوگ تو ایسے بھی تھے جنہیں ساری عمر یہ خواہش رہی کہ کوئی انہیں بھی یہ مشورہ دے اور وہ تعمیل ارشاد کرتے ہوئے فوراً بندے دے پتر بن جائیں اور پھر عروس اقتدار کا گھونگھٹ اٹھا سکیں، لیکن ان کی یہ خواہش ان ہزاروں خواہشوں جیسی تھی جن میں سے ہر ایک پر صرف دم نکلتا ہے، پوری نہیں ہوتیں۔
ب سے اگر بندہ بنتا ہے، تو اسے اُلو بھی بنتا ہے۔ ہم نے بہت سے بندوں کو بھی الو بنتے دیکھا ہے الو تو خیر اُلو ہوتے ہی ہیں۔ ایک اُلو کی ایک طوطے کے ساتھ بڑی یاری تھی، ایک روز اُلو طوطے کے ہاں مہمان ہوا۔ طوطے نے اس کی آمد پر بڑی خوشی کا اظہار کیا، لیکن کھانے کو نہ پوچھا۔ الو کافی دیر تک صبر سے کام لیتا رہا۔ بالآخر اس نے تمام آداب بالائے طاق رکھے اور کہا :’’ مجھے سخت بھوک لگی ہے کھانا کھلاؤ۔‘‘طوطے نے یہ سنا تو سامنے والے درخت کی طرف اڈاری ماری جہاں ایک مینا بیٹھی تھی اور کافی دیر تک سر جوڑے اس کے ساتھ باتیں کرتا رہا۔ پھر واپس اپنے درخت پر آیا اور اُلو سے دوبارہ میٹھی میٹھی باتیں شروع کر دیں۔ الو نے کچھ دیر ضبط سے کام لیا، بالآخر اس نے ایک بار پھر کہا : ’’ مجھے سخت بھوک لگی ہے، میرے لیے روٹی کا بندوبست کرو۔‘‘ طوطے نے یہ سنا تو اڈاری مار کر ایک دوسرے درخت پر پہنچ گیا، جہاں ایک چڑیا بیٹھی تھی اور اس کے کان میں کچھ باتیں کرنے کے بعد واپس اپنے درخت پر آ گیا۔ بھوک سے قریب المرگ اُلو نے تیسری دفعہ اسے کھانے کی یاد دہانی کرائی، تو طوطا ایک کونے کے ساتھ مصروف گفتگو ہو گیا اور کچھ دیر بعد واپس اپنے درخت پر آکر دوبارہ اُلو سے پیار محبت کی باتیں کرنے لگا۔
اُلو میں اب مزید فاقہ کشی کی ہمت نہ تھی۔ اس نے طوطے کو مخاطب کر کے کہا : ’’تم اگر مجھے روٹی نہیں کھلا سکتے ؛تو میں چلتا ہوں !طوطے نے یہ سن کر ایک چوتھے درخت کی طرف اڈاری مارنے کے لیے اپنے پر پھیلائے اور اُلو کو خفگی سے دیکھتے ہوئے کہا :’’ارے الو !،میری خارجہ پالیسی دیکھو،روٹی پر لعنت بھیجو‘‘۔