• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اب محض وقت گزارنا، بیانیہ گھڑنا یا اعداد و شمار کی نمائش کافی نہیں رہی۔ ریاست، سیاست اور معیشت تینوں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اور اگر ان میں سے ایک بھی کمزور ہوی تو پورا نظام لرز سکتا ہے۔ کیا پاکستان واقعی معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، یا ہم ایک بار پھر خود کو اعداد و شمار کے سہارے دھوکہ دے رہے ہیں؟ معاشی استحکام کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے ہیں یا کسی عالمی ادارے نے وقتی طور پر اطمینان کا اظہار کر دیا ہے۔ حقیقی معاشی استحکام تب ہوتا ہے جب بیرونی دنیا آپ پر اعتماد کرے، جب غیر ملکی سرمایہ کار یہ سمجھے کہ اس کا سرمایہ محفوظ ہے، کہ یہاں قوانین مستقل ہیں، پالیسیاں شخصیات کے ساتھ نہیں بدلیں گی اور ریاست خود اس سرمایہ کی محافظ ہوگی۔ آج پاکستان میں یہ اعتماد کہاں دکھائی دیتا ہے؟ یہ بات درست ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر 21.6بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، حقیقت مگر یہ ہے کہ یہ ذخائر زیادہ تر قرضوں، رول اوورز اور دوست ممالک کی عارضی معاونت کا نتیجہ ہیں۔ یہ سرمایہ کاری نہیں ، یہ وقتی سانس ہے۔ سرمایہ کاری وہ ہوتی ہے جو فیکٹری لگائے، روزگار پیدا کرے، ٹیکس دے، اور معیشت کو پائیدار بنیاد فراہم کرے۔ اگر سرمایہ کاری آ رہی ہوتی تواسکے اثرات صنعت، برآمدات اور روزگار میںنظر آ رہے ہوتے۔مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں معاشی استحکام کو اب بھی ایک تکنیکی اصطلاح سمجھا جاتا ہے، جبکہ عوام کیلئے اس کا مطلب بالکل سادہ ہے: کیا مہنگائی کم ہوئی؟ کیا بجلی اور گیس کے بل قابلِ برداشت ہوئے؟ کیا روزگار کے مواقع بڑھے؟ کیا علاج اور تعلیم عام آدمی کی پہنچ میں آئے؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر تمام معاشی بیانیے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔عام آدمی کو نہ گرین پاسپورٹ کی عزت سے دلچسپی ہے، نہ عالمی فورمز پر کی گئی تقاریر سے۔ اس کی دلچسپی صرف اس بات میں ہے کہ اس کا گھر چلے۔ جب ایک شخص دن بھر محنت کے باوجود اپنے بچوں کو دو وقت کا کھانا نہیں دے سکتا، جب کسی گھر میں ماں کینسر جیسی بیماری میں مبتلا ہو اور علاج کے اخراجات نہ ہوں، تو وہ شخص ریاستی کامیابیوں کی فہرست سے کیا امید رکھے؟ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے،اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے، اور اعتماد کے بغیر نہ سیاست چلتی ہے، نہ معیشت۔ وفاقی سطح پر بڑے ترقیاتی منصوبوں کی عدم موجودگی بھی اسی بحران کی علامت ہے۔ اگر ریاست واقعی معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہی ہوتی تو کم از کم چند ایسے منصوبے ضرور سامنے آتے جو شفاف، دیرپا اور عوامی مفاد پر مبنی ہوتے۔ جناح میڈیکل کمپلیکس اس حوالے سے ایک سبق آموز مثال ہے۔ ستر ارب روپے کا یہ منصوبہ، جو جدید طبی سہولیات کی امید بن سکتا تھا، بیوروکریسی کی نااہلی، بدانتظامی اور مبینہ طور پر من پسند کمپنیوں کو نوازنے کے عمل کے باعث ایک سو پچاس ارب روپے تک جا پہنچا۔ یہ صرف لاگت میں اضافہ نہیں، یہ اس نظام کی عکاسی ہے جہاں منصوبے عوام کیلئے نہیں، بلکہ مخصوص مفادات کیلئےبنائے جاتے ہیں۔معاشی بحران کے ساتھ ساتھ سیاسی صورتحال اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ پاکستان اس وقت شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ سیاست نظریات، پالیسیوں یا کارکردگی کے بجائے بیانیوں کی جنگ بن چکی ہے۔ اس ماحول میں نہ سرمایہ کار خود کو محفوظ سمجھتا ہے، نہ عام شہری کو مستقبل کی کوئی واضح سمت نظر آتی ہے۔حکومتی سیاسی جماعت کے ایک مرکزی رہنما کے مطابق ، انہیں تحریک انصاف سے زیادہ فکر ان نئے ووٹرز کی ہے جو الیکشن سے قبل ووٹرز لسٹ میں شامل ہو جائیں گےاور ممکن ہے کہ وہ ریاستی بیانیے کے خلاف ووٹ ڈالیں، دراصل ایک بہت بڑی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ وہ ووٹرز ہیں جو کسی سیاسی جماعت کے ساتھ جذباتی وابستگی نہیں رکھتے، بلکہ اپنی روزمرہ زندگی کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔ ان کے لیے ووٹ ایک امید نہیں، ایک احتجاج بن چکا ہے۔ یہ نئی نسل نعروں سے متاثر نہیں ہوتی۔ وہ دیکھتی ہے کہ مہنگائی کہاں کھڑی ہے، تعلیم اور صحت کتنی مہنگی ہو چکی ہے، اور ریاست انکے مسائل حل کرنے میں کتنی سنجیدہ ہے۔ جب انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ نظام ان کیلئے کچھ نہیں کر سکتا، تو وہ ریاستی بیانیے سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ خطرہ ہے جسے آج شاید پوری طرح سمجھا نہیں جا رہا۔حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج کوئی سیاسی جماعت نہیں، بلکہ عوامی مایوسی ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب عوام یہ طے کر لیں کہ ریاست انکی نہیں، تو پھر کوئی بیانیہ، کوئی طاقت، کوئی وقتی کامیابی انہیں دوبارہ ساتھ نہیں لا سکتی۔ معاشی استحکام اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب سیاسی استحکام ہو، اور سیاسی استحکام اعتماد کے بغیر ناممکن ہے۔سرمایہ کاری ایک حساس پرندہ ہوتی ہے۔ وہ وہاں اترتی ہے جہاں ماحول محفوظ ہو، جہاں قوانین واضح ہوں، جہاں کل کا نقشہ آج سے مختلف نہ ہو۔ پاکستان میں بدقسمتی سے صورتحال اس کے برعکس ہے۔ یہاں ہر حکومت آتے ہی پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو متنازع بنا دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی سنجیدہ سرمایہ کار اپنا سرمایہ لگانے سے پہلے سو بار سوچے گا۔جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ معاشی بحران کی جڑ ناقص حکمرانی، سیاسی عدم استحکام اور عوامی اعتماد کے فقدان میں ہے، تب تک کوئی اصلاح ممکن نہیں۔آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا ہم واقعی اس راستے پر چلنے کیلئے تیار ہیں؟ اگر عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہوں، اگر علاج اور تعلیم خواب بنتے جا رہے ہوں، اور اگر ریاست پھر بھی خود کو کامیاب قرار دے رہی ہو، تو پھر یہ صرف وقت کا کھیل ہے۔ وقت جو نہ نعروں کو مانتا ہے، نہ بیانیوں کو، بلکہ آخرکار فیصلہ عوام کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔یہ فیصلہ خاموش ہوتاہے، مگر اسکے نتائج بہت بلند آواز میں سنائی دیتے ہیں۔

تازہ ترین