ٹیکنالوجی کے انقلاب نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں بہت کچھ بدل دیا ہے۔ اب زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں ٹیکنالوجی کا عمل دخل نہ ہو۔ پہلے اطلاعاتی ٹیکنالوجی، کمپیوٹر اور موبائل فون نے دھوم مچائی اور اب ہر طرف مصنوعی ذہانت کا چرچا ہے۔ ایسے میں یہ کس طرح ممکن ہوتا کہ تجارت، مالیاتی لین دین اور حسا ب، کتاب کے شعبے اس ضمن میں پیچھے رہ جاتے۔ چناں چہ ان شعبوں میں بھیوقت کے ساتھ ٹیکنالوجی کا عمل دخل بڑھتا گیا اور آج یہ عالم ہے کہ عالمی سطح پر تجارت اور مالیاتی لین دین کا تصور اس کے بغیر نامکمل ہے۔
یہ ڈیجیٹل دور ہے تو اس کی معیشت بھی ڈیجیٹل ہوچکی ہے۔ کوئی ملک اس سفر میں بہت آگے نکل چکا ہے تو کوئی اب تک چند قدم ہی بڑھاسکا ہے۔ پاکستان بھی اُن ترقّی پذیر ممالک میں سے ایک ہے جہاں معیشت کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض ماہرینِ اقتصادیات کا اندازہ ہے کہ اگر ہم ڈیجیٹل معیشت کو اپنالیں تو اس سے ملک کی جی ڈی پی چالیس ارب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔
اس جانب پیش قدمی کے ضمن میں چند یوم قبل ایک یہ بڑی خبر آئی کہ پاکستان نے امریکاکے صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کے اہم کرپٹو بزنس، ورلڈ لبرٹی فائنانشل سے وابستہ ایک فرم ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز کے ساتھ معاہدہ کیا ہے تاکہ بین الاقوامی ادائیگیوں میں USD1 اسٹیبل کوائن کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز کے ساتھ مفاہمت نامہ، جسے اس نے ورلڈ لبرٹی سے وابستہ ادارہ قرار دیا ہے، ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ڈھانچوں کے بارے میں تیکنیکی اور تبادلہ خیال کی راہ وم وار کرے گا۔ یہ اعلان ورلڈ لبرٹی، جو ستمبر2024میں شروع ہونے والا ایک کرپٹو بیسڈ فنانس پلیٹ فارم ہے، اور کسی خودمختار ریاست کے درمیان کیے جانے والے پہلے سرکاری تعاون میں سے ایک ہے۔
معاہدے میں شامل ایک ذریعے کے مطابق معاہدے کے تحت ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز پاکستان کے مرکزی بینک کے ساتھ کام کرے گی تاکہ اپناUSD1اسٹیبل کوائن پاکستان کے ریگولیٹڈ ڈیجیٹل پیمنٹس ڈھانچے میں ضم کیا جا سکے، جس سے یہ ٹوکن پاکستان کی موجودہ ڈیجیٹل کرنسی انفراسٹرکچر کے ساتھ کام کرے گا۔ زچری وٹکوف ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز کے بھی سی ای او ہیں۔
کمپنی ڈیلاویئر میں رجسٹرڈ ہے اور ورلڈ لبرٹی کے ساتھ مل کرUSD1اسٹیبل کوائن برانڈ کی ملکیت رکھتی ہے، جیسا کہ جولائی2025کے اسٹیبل کوائن کے ذخائر کی دستاویزات سے ظاہر ہے۔ یاد رہے کہ اسٹیبل کوائنز، جو عام طور پر امریکی ڈالر سے منسلک ہوتے ہیں، حالیہ برسوں میں اپنی قدر میں بے پناہ اضافہ کر چکے ہیں۔
ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکا نے وفاقی قوانین متعارف کرائے جو اس سیکٹر کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں اور دنیا بھر کے ممالک اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ادائیگیوں اور مالیاتی نظام میں اسٹیبل کوائنز کس حد تک کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دست خط کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے خوش آئندقرار دیاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم او یو سے ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا اور بین الاقوامی ٹرانزیکشن میں آسانی پیدا ہوگی۔ وزیر اعظم کے مطابق پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن رہا ہے، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی جدت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار پاکستان کی وسعت اختیار کرتی ڈیجیٹل معیشت کا ایک اہم جزو ہے اور پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل فنانس کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ جون تک تمام سرکاری ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہوجائیں گی۔
حکومت میں شامل افراد کے مطابق موجودہ حکومت کا وژن اور ریگولیٹری پیش رفت پاکستان کی بٹ کوائن اور ڈیجیٹل معیشت کو ترقی کی نئی سمت دے رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی شفافیت اور قانونی نظام کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کرپٹو کونسل اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی گئیں۔
ان اداروں کا مقصد کرپٹو مارکیٹ کی ریگولیشن صارفین کو تحفظ اور ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ پاکستان میں اہم ایکس چینجز کے لیے عبوری لائسنس، مائننگ، ٹوکنائزیشن اور فنٹیک کے پائلٹ پروجیکٹس شروع کیے گئے ہیں۔
زمینی حقائق
اب ہم آتے ہیں اپنی حقیقتوں کی جانب۔
پاکستان میں تقریباً 5کروڑ 90لاکھ اسمارٹ فون استعمال کرنے والے صارفین ہیں جن میں سے 83فی صد اینڈ رائیڈ فونز استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے آن لائن صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور صارفین کو اب بینک کی کسی خاص برانچ میں جانے کی ضرورت نہیں۔
اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل پیمنٹس میں گزشتہ برس 8فیصد اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 2025ء کی پہلی سہ ماہی میں جولائی سے ستمبر تک اس کی ٹرانزیکشنز کی تعداد تقریباً 2000ارب اور مالیت 136 کھرب روپے تک پہنچ گئی تھی جس میں47فی صد فنڈز ٹرانسفر، 33فیصد کیش نکالنا، 11فیصد ریٹیل POS اور 6فی صدبلوں کی ادائیگی وغیرہ شامل ہیں۔
جولائی سے ستمبر کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں حیرت انگیز اضافہ ہوا جس میں موبائل ایپس استعمال کرنے والوں کی تعداد 59ملین، موبائل بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد 17ملین، انٹرنیٹ بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد 11ملین اور EMI والٹ صارفین 3ملین شامل ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق ریٹیل شاپس پر پوائنٹ آف سیل (POS) ٹرمینلز کی تعداد بھی 132244سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ان مشینوں کے ذریعے ہونے والی ٹرانزیکشنز کی تعداد 83ملین اور مالیت 429 ارب تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں سالانہ 36 ارب ڈالرز سے زیادہ کی ترسیلات زر ہوتی ہیں، تقریباً چار کروڑ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور کرپٹو کرنسی کا سالانہ تجارتی حجم 300ارب ڈالرز تک پہنچتا ہے۔ یہ بات ہماری ریگولیٹری اتھارٹی بھی جانتی اور بتاتی ہے۔
غیر دستاویزی معیشت
وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر موجود ایک پریس ریلیز کے مطابق وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان میں اب بھی زیادہ تر لین دین نقد کی صورت میں ہوتا ہے اور اندازہ ہے کہ ملک کی غیر دستاویزی معیشت اب بھی جی ڈی پی کا40فی صد ہے، جس کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار اور مـحصولات میں کمی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
تاہم ماہرینِ اقتصادیات کہتے ہیں کہ اس ضمن میں کوئی درست تخمینہ لگانا مشکل ہے، کیوں کہ ا سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کبھی باضابطہ طور پر غیر دستاویزی معیشت کے حوالے سے اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں، لیکن وزیرِ خزانہ کے بعض بیانات کے مطابق پاکستان کی معیشت کا مجموعی حجم ایک کھرب امریکی ڈالرز لگایا گیا ہے، جس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ معیشت کا حقیقی حجم 500 سے 600ارب امریکی ڈالرز کے درمیان ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق پاکستان کی معیشت کا موجودہ حجم تقریباً 410 ارب امریکی ڈالر زہے۔
تبدیلی آرہی ہے؟
سرکاری حکّام کہتے ہیں کہ پاکستان میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس سلسلے میں حکومت کی سطح پرکافی ہم آہنگی ہے۔ ڈیجیٹل بینک اور فِن ٹیک ادارے مالی شمولیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ، کیش لیس نظام کی توسیع اور مالی شمولیت کو آگے بڑھانے سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ادائیگیوں کے نظام اور سرکاری لین دین کی ڈیجیٹلائزیشن جیسے اہم شعبوں پر واضح اہداف کے ساتھ کام جاری ہے تاکہ کیش پر انحصار کم ہو اور معیشت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ ڈیجیٹل بینکس اور فِن ٹیک ادارے مالی شمولیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، خاص طور پر ان طبقات کے لیے جو اب تک رسمی بینکاری نظام سے باہر رہے ہیں۔
چھوٹے کسانوں اور کم آمدنی والے افراد کے لیے قرضوں اور مالی سہولیات کی فراہمی میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کلیدی اہمیت رکھتے ہیں،حکومت زرعی شعبے سمیت مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل حل کے ذریعے رسائی اور شفافیت بڑھانا چاہتی ہے۔
حکّام بتاتے ہیں کہ ملکی معیشت کی مجموعی صورت حال سمیت، معیشت کے استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات، ٹیکس نیٹ کے فروغ، توانائی کے شعبے میں بہتری اور سرکاری اداروں کی نجکاری حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ استحکام کے بعد اگلا بڑا ہدف پائے داراقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کا فروغ بتایا جا رہا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے کئی ممالک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ڈیجیٹل فنانس کے فروغ سے محاصل کی وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے ہاں بھی کیو آر کوڈ پر مبنی ادائیگیوں اور مرچنٹ ڈیجیٹلائزیشن کو مزید وسعت دی جا رہی ہے تاکہ صارفین اور کاروباری طبقے کے لیے ڈیجیٹل لین دین کو روزمرہ معمول بنایاجا سکے۔
بایومیٹرک تصدیق اور رجسٹریشن کے اخراجات سے متعلق عملی خدشات اگرچہ اب بھی موجود ہیں،لیکن سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالی شمولیت، سرمایہ کاری کے مواقعے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے تاکہ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کا سفر مزید تیز اور موثر بنایا جا سکے۔ دوسری جانب دنیا میں ٹیکنالوجی ایک نیا انقلاب برپا کر چکی ہے جس کے تناظر میں پاکستان کی جامعات کو نئی معیشت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔
ڈیجیٹل معیشت کے بعض ماہرین کے بہ قول پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت مضبوط ہو رہی ہے اور گزشتہ برس ہماری آئی ٹی کی برآمدات نے نئی تاریخ رقم کی۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت ملکی ترقی کے سنہرے دور میں داخل ہوگئی ہے، ایس آئی ایف سی کی موثر پالیسیوں کے باعث پاکستان کی آئی ٹی کی برآمدات تیزی سے وسعت اختیار کرنے لگی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی کی برآمدات میں اضافہ نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کا ذریعہ ہے، بلکہ روزگار کے مواقعے، ڈیجیٹل خودمختاری اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت بھی ہے۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران آئی ٹی کی برآمدات میں 19 فی صداضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ گزشتہ برس جولائی سے نومبر کے دوران آئی ٹی کی برآمدات کا مجموعی حجم ایک ارب80کروڑ ڈالرز تک جا پہنچا تھا اور صرف نومبر میں آئی ٹی کی برآمدات 356 ملین ڈالرز ریکارڈ کی گئیں۔ حکام کے مطابق ایس آئی ایف سی کی مؤثر پالیسیوں اور سہولت کاری سے آئی ٹی سیکٹر میں تیز رفتار ترقی ممکن ہوئی جس سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام دنیا بھر کی معیشتوں کو تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ان کے ذریعے شفافیت میں اضافہ، غیر رسمی معیشت میں کمی، رقم کی گردش میں تیزی اور جامع اقتصادی ترقی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کا ڈیجیٹل ادائیگی کاپلیٹ فارم، راست، تیزی سے ملک کے ڈیجیٹل مالیاتی ڈھانچے کی بنیاد بن چکا ہے۔ اب تک43ملین سے زائد صارفین، 8لاکھ41ہزار تاجر اور 36 بینک راست میں شامل ہو چکے ہیں۔یہ پلیٹ فارم اب روزانہ45لاکھ سے زائد لین دین کو پراسیس کرتا ہے۔
اس کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صرف مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں لین دین کی تعداد 37 کروڑ 10لاکھ تک پہنچ گئی اور ان کی مالیت 8.5 کھرب روپے تک جا پہنچی۔ منہگے بین الاقوامی کارڈ نیٹ ورکس کے برعکس، راست صفر لاگت پر کیو آر کوڈ، آئی بی اے این اور موبائل نمبر پر مبنی لین دین کی سہولت فراہم کرتا ہے، جسے قومی سطح پر پھیلایا گیا ہے اور اسے مکمل حکومتی تعاون حاصل ہے۔
اپنے آغاز سے اب تک راست34کھرب روپے سے زائد کی لین دین پراسیس کر چکا ہے، جس کے باعث نقدی پر انحصار اور غیر ملکی ادائیگی نیٹ ورکس کی ضرورت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم، راست کی تیکنیکی کام یابی کے باوجود پاکستان مجموعی طور پر ڈیجیٹل ادائیگی کے استعمال میں پیچھے ہے۔ اس خلا کی بنیادی وجہ ساختی اور رویّے کی رکاوٹیں ہیں۔ ساختی طور پر ملک کو کم سطح کی ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی، تاجروں کے لیے کم اہم مراعات اور بکھرے ہوئے آن بورڈنگ کے طریقہ کار کا سامنا ہے۔
حوصلہ افزا اعدادوشمار اور خطرات
بینک دولتِ پاکستان کی گزشتہ برس نومبر کے مہینے میں جاری کردہ سالانہ رپورٹ برائے پیمنٹ سسٹمز کے مطابق مالی سال 2025 میں ڈیجیٹل ذرائع سے ہونے والی ادائیگیاں تمام ریٹیل لین دین کا88فی صد رہی تھیں، جو مالی سال 2023 میں 78فی صد اور مالی سال 2024میں 85 فی صد تھیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں میں تیز رفتار اضافہ نہ صرف صارفین کے لیے سہولت میں بہتری لایا، بلکہ اس نے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی بہتر بنایا، تاہم بینک نے خبردار کیا کہ سائبر کرائمز میں اضافہ مالیاتی نظام کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔
دوسری جانب ایک سروے کے مطابق گزشتہ برس کے اوائل میں55فی صد پاکستانی آن لائن مالی فراڈ کا شکار ہو چکے تھے۔ چناں چہ مرکزی بینک نے کمرشل بینکس کو سائبر سیکیورٹی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی تاکہ ڈیجیٹل لین دین کے پھیلاؤ کے ساتھ صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
مرکزی بینک کی رپورٹ میں چیلنجز کے باوجود الیکٹرانک ادائیگیوں میں اضافے کو قابلِ ذکر قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق لین دین کی تعداد میں 396 فی صد اضافہ ہوا، جب کہ لین دین کی مالیت میں 731 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو مارکیٹ کے شرکا کی بھرپور دل چسپی اور ڈیجیٹل فنانس کی طرف واضح منتقلی کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریٹیل ادائیگیاں9ارب 10 کروڑ ٹرانزیکشنز تک پہنچ گئیں جن کی مجموعی مالیت6 ہزار 120 کھرب روپے رہی، جو سال بہ سال بنیادپر حجم میں38فی صد اور مالیت میں12فی صد اضافہ تھا۔ موبائل بینکنگ اس شعبے میں سب سے آگے رہی جس میں 6ارب20کروڑ ٹرانزیکشنز ہوئیں، جو52فی صد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے 29 کروڑ70لاکھ ٹرانزیکشنز ہوئیں، جو33فی صد اضافہ ہے۔ ای-منی والٹس نے سب سے تیز ترقی دکھائی، کیوں کہ ان کے لین دین کی تعداد اور مالیت دونوں دگنی ہو گئیں، جو الیکٹرانک منی کے اداروں پر عوام کے بڑھتے اعتماد کا ثبوت ہے۔ تاہم ماہرین کا موقف ہے کہ ریٹیل میں ڈیجیٹیل ادائیگیوں سے معیشت کو مکمل طور پر دستاویزی شکل نہیں دی جا سکتی۔
اچھی خبریں، مگر مسائل بھی ہیں
اقتصادی امور کے ماہرین کے مطابق ملک میں ڈیجٹیل ذرائع سے دائیگیوں میں بلاشبہ اضافہ تو ہوا ہے، لیکن مرکزی بینک کے پاس موجود ادائیگیوں کا ڈیٹا صرف ان ریٹیل اسٹورز کاہے جو ایف بی آر کے نظام سے منسلک ہیں اور بڑے شہروں میں واقع ہیں۔
ان کے مطابق اب بھی پاکستان کے ریٹیل کے شعبے میں نقد ادائیگیاں ہی سب سے زیادہ کی جاتی ہیں۔ لیکن ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کہ اگر کوئی کیش میں ٹرانزیکشن کر رہا ہے تو یہ غیر قانونی عمل نہیں ہے،کیوں کہ کرنسی نوٹ حکومت پاکستان ہی جاری کرتی ہے۔
بڑے شہروں میں تو انٹرنیٹ کی اسپیڈ بہتر ہوتی ہے، لیکن جب شہروں سے باہر نکل کر خریداری کرنا پڑے تو اس کے لیے نقد ہی استعمال ہوتا ہے، کیوں کہ شہروں سے باہر ڈیجیٹل ادائیگیوں کا کلچر نہیں ہے اور اس کے ساتھ انٹرنیٹ کی رفتار اور دیگر مسائل بھی موجود ہیں۔
مرکزی بینک کے اعدادوشمار کو مد نظر رکھ کر گفتگو کرتے ہوے بعض ماہرین اقتصادیات یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ پاکستان میں عوام اب بھی نقد ادائیگیوں کو ترجیح دیتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ا سٹیٹ بینک نے جو ڈیجٹل اور الیکٹرنک ادائیگیوں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں ان میں بینکس، کارپوریٹ اور عوامی لین دین کو شامل کیا گیا ہے، مگر عوامی سطح پر ڈیجیٹل لین دین ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
پاکستان میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ پوائنٹ آف سیلز ہیں۔ لیکن دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کل نوجوان اور تعلیم یافتہ افراد ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگیاں کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اب بینکس کے باہر یوٹیلیٹی بلز جمع کرانے والوں کا رش نظر نہیں آتا۔
اب مزدور طبقہ بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف آ رہا ہے اور موجودہ دور میں مزدور طبقے اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے پاس بھی ایزی پیسہ اکاؤنٹس موجود ہیں اور یہ بات عام مشاہدے میں آئی ہے کہ مکینک، پلمبر اور دیگر ہنر مند بھی ان دنوں موبائل والٹس کا استعمال کر رہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کےمطابق ’’ویژن 2028‘‘ کے تحت ریگولیٹری اقدامات اُٹھائے ہیں جو ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اقتصادی تجزیہ کار بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک اور حکومتی سطح پر ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے کے لیےکافی کام ہورہا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے چھوٹی ادائیگیوں کے لیے راست پلیٹ فارم متعارف کروایا ہے، اس کے بعد کیو آر کوڈ اور ڈیجیٹل ایپس کے ذریعے ادائیگیوں میں اضافہ ہورہا ہے، مگر اب بھی ایک مکمل ایکو سسٹم کے بننے میں وقت لگے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں، خصوصاً کیو آر کوڈ کے زریعے ادائیگیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ انٹرنیٹ کی سست رفتار ہے، جس کی وجہ سےاکثر اوقات ایپس کنیکٹ ہی نہیں ہوپاتیں۔
اگرچہ پاکستان کے فِن ٹیک شعبے نے گزشتہ دہائی میں ڈیجیٹل مالیاتی رسائی بڑھانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم ماہرین اور ترقیاتی ادارے خبردار کررہے ہیں کہ اصل مسئلہ صارفین کو سسٹم میں لانا نہیں، بلکہ انہیں روزمرہ بنیاد پر ڈیجیٹل ادائیگیاں استعمال کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔
پاکستان میں فِن ٹیک کا اصل چیلنج رسائی سے روزمرہ استعمال کی جانب منتقلی ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیاں تبھی کیش کی جگہ لیتی ہیں جب وہ سستی، قابلِ اعتماد اور روز مرہ زندگی میں شامل ہوں۔
ادہر ایشیائی ترقیاتی بینک کی ڈیجیٹل فنانس سے متعلق گزشتہ برس کے اواخر میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان میں لاکھوں افراد کے پاس موبائل والٹس موجود ہیں، مگر روزمرہ لین دین میں اب بھی نقد لین دین کاغلبہ ہے۔رپورٹ کے مطابق کم آمدن والے صارفین اور چھوٹے تاجروں کے لیے ٹرانزیکشن فیس بڑی رکاوٹ ہے، کیوں کہ کیش کو اب بھی مفت اور فوری سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ فراڈ، ڈیٹا کے غلط استعمال اور ناکام ٹرانزیکشنز کے خدشات کی وجہ سے صارفین کا اعتماد بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکا ہے، خاص طور پر کم تعلیم یافتہ اور نئے صارفین زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ انفرااسٹرکچرکی کم زوری بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں رکاوٹ ہے۔
شہری علاقوں کے علاوہ کئی مقامات پرموبائل انٹرنیٹ کی غیر یقینی دست یابی، نیٹ ورک میں خلل اور بجلی کی بندش، لین دین کے عمل کو متاثر کرتی ہے جس کی وجہ سے صارفین اور تاجر دوبارہ نقد لین دین کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے درمیان عدم مطابقت کی وجہ سے نظام بکھرا ہوا ہے، جس سے صارفین کو متعدد والٹس رکھنے پڑتے ہیں اور تاجروں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔