پنجابی شاعری کی روایت یہ ہے کہ اگر ظلم انسانی برداشت سے باہر ہو جائے تو براہ راست خدا کی عدالت میں مداخلت کی اپیل کی جاتی ہے۔ سب کا پختہ ایمان ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی عدالت بارگاہِ خداوندی ہے اور سب سے بڑا منصف اعلیٰ اللّٰہ میاں خود ہے۔ بابا بلّھے شاہ نے کہا’’ربّا میرے حال دا/ تو ای رکھوالا/ ہور کس نو آکھاں / درد سناواں؟ استاد دامن گویا ہوئے ’’ربّا توں وی چپ اے /ساڈےظالم وی چپ نے / انصاف دے ناں تے /لوکاں دے خون پیندے نے‘‘۔ اور پھر عصر حاضر کے بے غرض اور انسانی محبت سے سرشارمنو بھائی نے خدائے پاک کو زمین پر آکر ظالموں کے ظلم کو اور انصاف کے خون کو دیکھنے کی دعوت دی۔ اللّٰہ میاں تھلّے آ/ذرا سا آکے دیکھ / تیری مخلوق نوں/ تیری دنیا نوں۔ اس سے قبل سائیں اختر لاہوری بھی اسی بحر میں خدا کو اسی طرح پکار چکے تھے ۔ منو بھائی ہوتے تو اپنی نظم میں آج کے حالات پر ایک نیا بند ضرور تحریر کرتے مگر وُہ تو خلد آشیانی ہو چکے ،اب منو بھائی کی بجائے ان کی راہ پر چلنے کی سعی کرنیوالے نالائق اور کمزور کا زمانہ ہے سو بات تو کرنی ہے چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے ۔ خدا سے اپیلیں کرنے سے بندوں کو کون روک سکتا ہے؟
چنو بھائی ایک بے بس شہری ہے، تاریخ کا ادنیٰ طالبعلم ہے، میثاق مدینہ اور میگنا کارٹا سے اسلامی اور بین الاقوامی قوانین کی تشریح تک کو پڑھ رکھا ہے، انتہائی دکھی دل سے اس موضوع پر اظہار خیال کرنا ہے جس پر عوام اور فیصلہ ساز اکٹھے ہیں مگر انسانیت کی پیروی میں چنو بھائی تاریخی ریکارڈ کی درستی میں احتجاجی آواز بلند کرنا چاہتا ہے، خدا سے وہی اپیل کرنا چاہتاہے جو بلّھے شاہ، استاد دامن،سائیں اختر اور منو بھائی نے اپنے اپنے زمانے میں کی تھی ۔ اے میرے پیارے ربّ ، آج میں کسی مجرم ، چور، ڈاکو یا زنا بالجبر کے وارداتیے کی وکالت کرنے نہیں آیا ، بلّھے شاہ اور منو بھائی کی روایت میں ایک انسان کی حیثیت سے میں خوف زدہ ہوں ، خاموش ہوں اور میرا دماغ سوالوں سے بھرا ہوا ہے، ہماری زمین پر کچھ لوگ ہیں جو چور ڈاکو اور بدمعاش کہلاتے ہیں ،کئی بے رحم قاتل ہیں، کئی ظالم لٹیرےہیں اور کئی از لی قانون شکن ہیں ۔ ممکن ہے یہ سب سو فیصد درست ہو چنو بھائی کو اس سے انکار نہیں مگر اے میرے پیارے رب جب انہیں بغیر سنے، بغیر پرکھے، بغیر گواہیوں کے ،بغیر کسی ٹرائل اور عدالتی فیصلے کے جرم کوجڑ سے مٹانے کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے تو کیا چنو بھائی بھی بلّھے شاہ اور منو بھائی کی طرح خوفزدہ نہ ہو، اپنے رب کو نہ پکارے اور اسکے دل میں کپکپی طاری نہ ہو۔
چنو بھائی نے تو اسلام کے اصولوں اور انسانی تاریخ کی کتابوں سے سیکھا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی عدالت بارگاہِ خداوندی کی ہے وہاں بھی گو اہیاں ہونگی، ٹرائل ہوگا پھر سزا ملے گی مگر یہاں کے لوگ خدائی دعویدار بن کر انسانوں کی زندگی اور موت کے فیصلے کر رہے ہیں بغیر کسی ٹرائل کے ،بغیر گواہیوںکے، بغیر کسی عدالتی فیصلےکے۔چنوبھائی اسے اندھیر نگری نہ کہے تو کیا کہے۔ معاشرے کو جرم سے پاک کرنا جتنا بھی اچھا کام ہواگر اِس کو غیر قانونی اور غیر انسانی طریقے سے کیا جائے تووہ اس سے بھی بڑا جرم بن جاتا ہے۔مجرموں کو اس طرح ٹھکانے لگانے والا چنو بھائی کی نظر میں تاریخ کا بڑا مجرم ٹھہرتا ہے۔
چنوبھائی حیران، پر یشان اور ملول ہے کہ 1215ء میں میگنا کارٹا پر دستخط ہوئے یعنی 810 سال پہلے طے ہو گیا تھا کہ کسی بھی شخص کو بغیر ٹرائل مارا نہیں جاسکتا، ہرریاست کا قانون کے مطابق چلنا لازم ہے۔ مگر پنجاب میں اب تک ڈاکوؤں ،قاتلوں، لٹیروں اور قانون شکنوں کے نام پر 480 افراد پار کئے جا چکے ہیں جبکہ دوسرے اندازوں کے مطابق ان کی تعداد ایک ہزار سے متجاوزہے۔
یہ درست ہے اور چنو بھائی کو اس کا عالم ہے کہ تفتیشی اور عدالتی نظام بہت کمزورہے اور جرائم کی بیخ کنی کیلئے فرائی اورہاف فرائی فارمولا عوامی طور پر بہت مقبول ہے مگر بجائے اسکے کہ تفتیشی اور عدالتی نظام کو درست کیا جائے ٹانگے کے پیچھے گھوڑا لگانے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے مگر قانون نظر انداز کیا جائے تو کیا پولیس اور حکومت کی قانونی حیثیت برقرار رہے گی؟ اگر عدالتوں اور تفتیش پر بھروسہ نہیں تو سمری ٹرائل کی روایت موجود ہے ،جیل کے اندر ٹرائل بھی ہوتے رہے ہیں۔ اگر مجرموں سے ریاست اس قدر خوفزدہ تھی تو کولمبیا کی طرح ججوں کو نقاب پہنائے جاسکتے تھے۔ مگر آسان اور پاپولر راستہ اپنا کر قانون، انسانیت اور انصاف کی ایسی تیسی کر دی گئی ہے اگر ان ہزار ’’جہنمیوں‘‘ میں سے ایک بھی جنتی ہوا تو پھر اس کے قتل کا فیصلہ کرنیوالےخدائی فوجدار اپنی خیرمنائیں۔
چنو بھائی ڈاکوؤں کیلئے رحم نہیں مانگتا ، انصاف مانگتا ہے اگر آج کوئی بغیر مقدمے کے مارا گیا تو کل کسی خدائی فوجدار کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے، چنو بھائی ڈاکو اور خدائی فوجدار دونوں کیلئے انصاف کا طلب گار ہے اگر عدالت ،قانون یا انصاف مجرم کو نہیں سن سکتا توکل کلاں وہ بے گناہ کی کیسے سنے گا ؟ عدالتیں بند کر دیں ، قانون کی کتابوں پر سیاہی پھیردیں ،تفتیشی اداروں پر تالے لگا دیں اندھا انصاف تو ان کے بغیر بھی ہو سکتا ہے ۔
پنجاب پولیس کے دو ادارے کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (CTD) اور کاؤنٹر کرا ئم ڈپارٹمنٹ (CCD) سرگرم عمل ہیں۔ سی ٹی ڈی، ریاست کے دشمنوں، دہشت گردوں اور فرقہ پرست قاتلوں کی نشاندہی کرتا ہے، ریاست دشمنوں کیلئے خصوصی قوانین ہیں اس لئے اس پربحث کی آج ضرورت نہیں مگر CCDسویلین مجرموں کی بیخ کنی کیلئے بنائی گئی ہے یہ پاکستان کے سویلین قانون تعزیرات پاکستان کے تحت کام کرنے کی پابند ہے اس کو ماورائے قانون کوئی اختیار حاصل نہیں شاید اسی لئے ’’نیفے میں پستول چل جانے‘‘ یا ’’مجرموں کو چھڑانے کی کوشش میں پولیس مقابلہ‘‘ جیسی فرسودہ اور جعلی کہانیاں اپنائی جاتی ہیں ورنہ مقصد تو فرائی اور ہاف فرائی والا ہی کار فرما ہوتا ہے۔ چنو بھائی یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہے کہ اگر زمین پر فیصلہ کرنے کا حق قانون کو ہے بندوق کو نہیں تو پھر یہ ظالمانہ طریقہ کیوں رائج ہے؟ چنو بھائی نہیں جانتا کہ وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے بے گناہ تھے یا گناہ گار مگر چنو بھائی کو یہ علم ضرور ہے کہ ان کے پاس صفائی کا موقع نہیں تھا انکے مقدر میں سوال بھی نہیں تھا۔ کیا خدا کے سوا کوئی انسانوں سے یہ حق چھین سکتا ہے ؟ کیا ہمارے پیارے ملک میں انصاف اس قدر کمزور ہو گیا ہے کہ اسے گولی کے سہارے کی ضرورت ہے، کیا عدالتیں اس قدر بے بس ہو گئی ہیں کہ موت کو شارٹ کٹ بنالیا گیا ہے، کیا انسانیت اور قانون و انصاف نے صدیوں سے یاد کئے ہوئے ’’فیئر ٹرائل‘‘ اور پاکستانی آئین کے آرٹیکل 10 اے کو یکسر بھلا دیا ہے؟
چنو بھائی اپنے رب کے حضور یہ التجا لے کر آیا ہے کہ کیا خدائی فوجداروں کو وہی حق حاصل ہے جو خدا کا اختیار ہے؟ جان لینے کا اختیار تو صرف اور صرف خدا کا ہے، اگر جان لینے کا حق صرف خدا کا ہے تو پھر چنو بھائی سمیت سب اس گناہ کے خاموش شریک مجرم ہیں چنو بھائی خدا کی عدالت میں اپنی آخری اپیل لے کر آیا ہے تاکہ کل محشر کے دن وہ ان خدائی فوجداروں سے الگ بلّھے شاہ، استاد دامن سائیں اختر اور منو بھائی کی صف میں کھڑا ہو۔
چنو بھائی رب کے حضور سر جھکا کر یہ عرض کرتا ہے کہ وہ نہ ڈاکو کے ساتھ ہے نہ قاتل اور قانون شکن کے ساتھ نہ ہی اس کا کوئی رشتہ دار، سفارشی یا تعلق دار اس فہرست میں شامل ہے مگر انصاف کے نام پر بے انصافی کو تسلیم کرنا بہت بڑا تاریخی جرم ہے۔
’’اللّٰہ میاں تھلّے آ‘‘ اور دیکھ تیری زمین پر یہ کیا ہو رہا ہے...