جِلد انسانی صحت کا آئینہ ہوتی ہے اور اس پر ظاہر ہونے والے سیاہ دھبے یا رنگت کی تبدیلی کسی اندرونی مسئلے کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق ہائپر پگمنٹیشن صرف بیرونی مسئلہ نہیں بلکہ اس کا تعلق خوراک، ہارمونز اور آنتوں کی صحت سے بھی ہوتا ہے۔
غذائی اور جِلدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائپر پگمنٹیشن میں بہتری کے لیے متوازن غذا، بہتر گَٹ ہیلتھ (معدے کی صحت) اور ہارمونز کا درست ہونا ضروری ہے۔
ہائپر پگمنٹیشن کیا ہے؟
ہائپر پگمنٹیشن جِلد کی وہ کیفیت ہے جس میں جسم کے کچھ حصے اردگرد کی جِلد کے مقابلے میں زیادہ سیاہ ہو جاتے ہیں۔
یہ چھوٹے دھبوں کی صورت میں، بڑے پیچز یا بعض اوقات پورے جسم پر بھی ظاہر ہو سکتی ہے جس کی بنیادی وجہ میلانن کی زیادہ پیداوار ہے۔
ہائپر پگمنٹیشن کی اہم وجوہات:
انسولین ریزسٹنس:
انسولین کی زیادتی جِلد کے خلیات کو متحرک کر کے گردن، بغلوں اور جِلد کی تہوں میں سیاہ دھبے پیدا کر سکتی ہے۔
ہارمونز کا غیر متوازن ہونا:
ایسٹروجن اور پروجیسٹرون جیسے ہارمونز میلانن کی پیداوار بڑھا دیتے ہیں۔ حمل کے دوران یا ہارمونل ادویات کے استعمال سے میلازما عام ہو جاتا ہے۔
سوزش (Inflammation):
جلد پر چوٹ، خارش یا سوزش کے بعد شفا کے عمل میں زیادہ میلانن بنتا ہے جس سے متاثرہ جگہ سیاہ ہو جاتی ہے۔
غذائی کمی:
وٹامن بی 12 کی کمی میلانن کے توازن کو بگاڑ دیتی ہے جس سے جِلد کی رنگت گہری ہو سکتی ہے۔
پی سی او ایس:
پولی سسٹک اووری سنڈروم میں جِلد کی ایک عام علامت ایکنتھوسس نائیگریکینز ہے جس میں جِلد موٹی اور سیاہ ہو جاتی ہے، خاص طور پر جِلد کی مرحلہ وار لیئرز (تہیں)۔
ماہرین کے مطابق مسلسل ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی بھی ہائپر پگمنٹیشن کو بڑھا سکتی ہے۔ ہائپر پگمنٹیشن سے بچاؤ کے لیے مناسب غذا، طرزِ زندگی میں بہتری اور طبی مشورہ اس مسئلے پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔