گزشتہ ہفتے کراچی میں ’’آٹھویں پام آئل کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ دو روزہ کانفرنس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، انڈونیشیا کی خاتون نائب وزیر تجارت دیا ایستی پتوری اور دنیا بھر سے 100سے زائد غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں مجھے بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ۔ کانفرنس میں پاکستان میں کینیڈا اور انڈونیشیا کے سفیر، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے قونصل جنرلز، کانفرنس کے آرگنائزرز میرے دوست بشیر جان محمد اور رشید جان محمد، کینیڈا سفارتخانے کے قونصلر Daniel Arsenault، پاکستان، انڈونیشیا اور ملائیشیا پام آئل ایسوسی ایشنز کے چیئرمین اور پاکستان میں معروف پام آئل مینوفیکچررز کمپنیوں کے سربراہان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ’’پاکستان پام آئل کانفرنس‘‘ نہایت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ کانفرنس میں پوری دنیا میں پام آئل پر ہونے والی تحقیق اور ڈویلپمنٹ شیئر کی جاتی ہیں۔ 2024-25 میں پاکستان کی سب سے بڑی امپورٹ پیٹرولیم مصنوعات (13 ارب ڈالر) تھیں۔ دوسرے نمبر پر فوڈ آئٹمز کی امپورٹ 8.14 ارب ڈالر تھی جن میں صرف پام آئل کی امپورٹ 3.4 ارب ڈالر اور سویا بین کی امپورٹ 344 ملین ڈالر تھی۔ اس طرح پاکستان کی خوردنی تیل کی مجموعی امپورٹ تقریباً4 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان پام آئل کی ضرورت کا 85 فیصد (3 ملین ٹن) امپورٹ کررہا ہے اور اس وقت دنیا میں خوردنی تیل خریدنے والا آٹھواں بڑا خریدار ہے۔ پام آئل سورج مکھی، سرسوں اور کینولا بیجوں سے نکالا جاتا ہے جو پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے سمندری علاقوں میں کاشت کئے جاتے ہیں۔ پام آئل ویجی ٹیبل آئل ہے جس میں کوکونٹ کے مقابلے میں کولیسٹرول نہایت کم ہوتا ہے اور اسے صحت مند کھانا بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پام آئل چاکلیٹ، آئس کریم اور کنفکشنری میں بھی استعمال ہوتا ہے جبکہ خوردنی تیل سے حاصل ہونے والے بائی پروڈکٹس صابن، ڈیٹرجنٹ پائوڈر، لبریکنٹ، کاسمیٹکس، موم بتی اور پولٹری فیڈ میں استعمال ہوتے ہیں۔ دنیا میں خوردنی تیل کی مجموعی پیداوار تقریباً 22 ملین ٹن سالانہ ہے جس میں ملائیشیا، انڈونیشیا، نائیجریا اور کولمبیا سرفہرست ہیں۔ ملائیشیا پوری دنیا میں خوردنی تیل کی پیداوار کا 50 فیصد طلب پورا کرتا ہے لیکن اب انڈونیشیا عالمی مارکیٹ میں تیزی سے اپنا شیئر بڑھارہا ہے۔ گزشتہ چند سال سے پاکستان میں کپاس اور خوردنی تیل کی کاشت کے رقبے میں کمی ہوئی ہے جبکہ گیہوںاور گنے کے رقبے میں اضافہ ہوا ہے جسکی وجہ سے حکومت کو کپاس اور خوردنی تیل کی امپورٹ پر خطیر زرمبادلہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان، کینیڈا سے ایک ملین ٹن سالانہ کینولا بیج امپورٹ کرتا تھا جسکی مالیت 500 ملین ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی تھی لیکن 2023 میں وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی طارق بشیر چیمہ نے صحت کے حفاظتی اقدامات کے مدنظر GMO فصل (کینولا بیج) کی امپورٹ پر پابندی عائد کردی تھی جسکی وجہ سے کینیڈا سے کینولا بیج کی امپورٹ صفر ہوگئی تھی لیکن کینیڈا کے سفارتخانے کے معاشی قونصلر نے مجھے بتایا کہ 22 اکتوبر 2025 کو پابندی کے خاتمے کے بعد ہمارا پہلا جہاز کینولا بیج لے کر کراچی پورٹ پہنچا ہے جس کیلئے ایک تقریب رکھی گئی ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ خوردنی تیل کی فی کس کھپت (50 کلوگرام) امریکہ کی ہے۔ دوسرے نمبر پر یورپ (47 کلو گرام)، تیسرے نمبر پر جاپان (21 کلو گرام)، چوتھے نمبر پر چین (18 کلو گرام)، پانچویں نمبر پر پاکستان (17 کلو گرام) اور چھٹے نمبر پر بھارت (12 کلو گرام) ہے جبکہ دنیا میں تیل کی فی کس کھپت کا اوسط 18.7 کلو گرام ہے۔ پاکستان میں خوردنی تیل کی فی کس کھپت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ آبادی میں اضافہ، شہری طرز زندگی اور خوراک کے بدلتے رجحانات اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ ملکی ضروریات کا بڑا حصہ پام آئل، سویا بین آئل اور سورج مکھی کے تیل کی امپورٹ سے پورا کیا جاتا ہے۔ ان میں پام آئل کا حصہ سب سے زیادہ ہے کیونکہ یہ نسبتاً سستا اور صنعتی استعمال کیلئے نہایت موزوں ہے لیکن اس کی بڑھتی ہوئی طلب زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو ڈال رہی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ زرعی اجناس کی کاشت کو ترجیح دی جائے اور سورج مکھی، کینولا، سرسوں اور سویا بین جیسی فصلوں کی مقامی کاشت کیلئے کسانوں کو آگاہی، ترغیبات، خصوصی مراعات، معیاری بیجوں کی دستیابی اور ضروری رہنمائی فراہم کی جائے۔ پاکستان میں خوردنی تیل کی ریفائننگ اورپروسیسنگ کی صنعتیں موجود ہیں لیکن یہ صنعتیں امپورٹ شدہ خام تیل پر انحصار کرتی ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک سے پاکستان کے تقابلی جائزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس معاملے میں کئی ہمسایہ ممالک سے پیچھے رہ گئے ہیں حالانکہ ہمارے پاس قدرتی وسائل اور زرعی صلاحیت کسی سے کم نہیں۔ بھارت خوردنی تیل کا ایک بڑا ایکسپورٹر ہے جہاں سویا بین، سرسوں اور سورج مکھی کی بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہے۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا دنیا میں سب سے زیادہ پام آئل اور خوردنی تیل پیدا کرنے والے ممالک ہیں جبکہ پاکستان ان ممالک سے پام آئل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ حکومت اور پاکستان آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کو چاہئے کہ وہ کینولا، سویا بین، سورج مکھی اور سرسوں کے بیجوں پر ریسرچ کرکے فی ایکڑ زیادہ پیداواری بیج دریافت کریں تاکہ خوردنی تیل کی مقامی سطح پر پیداوار بڑھاکر خطیر زرمبادلہ بچایا جاسکے۔