• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلیجی عرب ریاستوں میں سے سلطنتِ عمان کا تذکرہ یوں ضروری ہے کہ پاکستان کی دُور رس نتائج کی حامل، گہرے پانی کی قدرتی اہم سمندری پٹّی اور گوادر بندرگاہ 1783ء سے لے کر 1958ء تک سلطنتِ عمان کا حصّہ تھی۔ حاکمِ قلّات کے لیے’’خان‘‘ لقب سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ پختون یا پٹھان تھے، لیکن حقیقت میں یہ براہوی بلوچ قبیلے کے سردار تھے۔ قلّات، وسطی بلوچستان کا وہ علاقہ ہے، جس کی سرحد گوادر کے مقام پر گہرے سمندر سے ملتی ہے۔ 

قلّات کی ریاست1666 ء میں میر احمد خان نے قائم کی تھی، تب سے اُس کے حُکم ران’’خان آف قلّات‘‘ کے لقب سے اِس پر حکومت کر رہے تھے۔ ان کی عمل داری میں تقریباً سارا بلوچستان شامل تھا۔ قلّات کا مرکزی قصبہ 1935ء کے زلزلے میں تباہ ہو گیا تھا، جس کے بعد اُسی مقام پر ملبہ صاف کر کے نیا شہر آباد کیا گیا۔ گوادر کے بحیرۂ عرب کے پار، پڑوسی مُلک عمان(مسقط ) ہے، اِسی لیے کئی سو سال سے عمان کے حُکم رانوں کے خان آف قلّات سے گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔

سیکڑوں بلوچ خاندان سمندر پار جا کر عمان میں آباد ہو گئے، جنہیں عمانی شہریت حاصل ہے۔ بلوچی، عمان کی تیسری بڑی تسلیم شدہ زبان ہے۔ آج بھی عمان اور مسقط میں کثیر تعداد میں بلوچ رہتے ہیں، جو تجارت اور ملازمتیں کر رہے ہیں۔ ریاستِ عمان، خلیجی عرب ممالک میں سعودی بادشاہت سے بہت پہلے قائم ہو گئی تھی۔ اِسی جغرافیائی قربت کی وجہ سے عمان کے حُکم رانوں اور قلّات کے خوانین کے آپس میں گہرے تعلقات تھے۔

عمان کے شہزادے، سلطان بن احمد کا اپنے بھائی سے اقتدار کا جھگڑا تھا، جس کی وجہ سے شہزادے کو کچھ عرصے کے لیے اقتدار سے محروم ہو کر خان آف قلّات، نوری نصیر خان کے ہاں پناہ لینی پڑی۔ خان آف قلات نے گوادر اِس شرط پر شہزادے کو دے دیا کہ اس کی آمدنی کا نصف حصّہ خان کو ملے گا اور جب شہزادے کو مکمل اقتدار ملے گا، تو وہ گوادر، خان آف قلّات کو واپس کر دے گا، لیکن جب شہزادہ برسرِ اقتدار آ گیا، تو اُس نے گوادر واپس کرنے کا وعدہ پورا نہ کیا۔ یوں یہ عمان کی ملکیت رہا۔ 

آخر نومبر 1958ء میں گوادر کا بندرگاہی علاقہ پاکستان نے تین ملین ڈالرز کے عوض عمان سے خرید لیا۔ موجودہ خلیجی ریاستیں امارات، بحرین اور قطر وغیرہ برطانیہ نے پہلی جنگِ عظیم کے آس پاس عثمانی خلافت کے ٹکڑے کر کے قائم کی تھیں۔ بحرین میں شیعہ آبادی زیادہ ہے، اِسی لیے ایران کا اُس پر دعویٰ ہے۔1700 ء میں عمان نے بحرین پر قبضہ کر لیا تھا، لیکن کچھ عرصہ بعد ایران نے اُس سے یہ علاقہ چھین لیا۔ 

تاریخ کی پرانی کتابوں میں بھی ہمیں بحرین اورشارجہ ہی کا ذکر ملتا ہے۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں خلیجی ریاستیں شارجہ، دُبئی اور راس الخیمہ وغیرہ عمان کے تابع تھیں۔ اسی کی نگرانی میں ان شہروں کی تجارتی اہمیت اجاگر ہوئی اور یہ مشہور ہوئیں۔ عمان آزاد اور منفرد حیثیت میں سترہویں صدی سے بھی پہلے سے قائم تھا۔ انگریزی استعمار نے جب اپنے قدم پھیلائے، تو ایک ایک کر کے یہ ریاستیں عمان کے قبضے سے نکل گئیں۔

ہم افشاری خاندان کے ایرانی بادشاہ نادر شاہ کے’’نادر شاہی‘‘احکام تاریخ و ادب میں بطور محاورہ اور تلمیح پڑھتے ہیں۔ اُس نے 1739ء میں دہلی پر حملہ کیا تھا، جس کے دوران تاخت و تاراج اور لُوٹ مار کی بدترین مثال قائم کی گئی۔ اگرچہ اس سے قبل ایران کی ساسانی سلطنت کا دائرۂ اقتدار ایران و شام، عرب کے کچھ حصّوں ، کوہ قاف اور ہندوستان تک پھیلا ہوا تھا، لیکن اٹھارہویں صدی کے اواخر میں ایرانی بادشاہ، نادر شاہ کی تاراجی اور غارت گری عروج پر تھی۔

اُس نے مختصر عرصے کے لیے عمان پر بھی قبضہ کیا تھا، لیکن وہاں کے امام احمد بن سعید البوسعیدی نے سخت مزاحمت جاری رکھی اور اسے خلیجی خطّے سے مار بھگایا۔ اِس طرح امام احمد بن سعید البوسعیدی ہی جدید عمان کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ ابھی تک عمان پر اُسی خاندان کی حکومت ہے۔ عمان کے حُکم ران بعد میں اِمام کا لقب تَرک کر کے سلطان کہلانے لگے۔

مغربی تاریخ نویسوں نے عالمِ اسلام سے متعلق جو بہت سے مغالطے پیدا کیے، اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خلیجی عرب کے لوگ بحری قذاق تھے۔ وہ بحری جہاز لُوٹنے کے علاوہ حاجیوں کے قافلوں پر بھی حملے کرتے اور اُن کا مال چھین لیتے۔ شارجہ کے حاکم، ڈاکٹر شیخ سلطان بن محمّدالقاسمی کو یہ امتیاز اور اعزاز حاصل ہے کہ وہ تمام عرب حُکم رانوں میں سب سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پہلے شخص ہیں، جنہوں نے پی ایچ ڈی کی دو ڈگریز حاصل کیں، جب کہ اُنہیں کئی یونی ورسٹیز نے اعزازی اسناد سے بھی نوازا۔

پی ایچ ڈی کی پہلی ڈگری کے لیے اُن کے تحقیقی مقالے کا موضوع، اسی تاریخی مغالطے کی اصلاح تھا۔ شیخ سلطان بن محمد القاسمی نے اس غلط تصوّر کے رد میں جو مقالہ لکھا، اُس کا عنوان’’ Myth of Arab Piracy in Arabian Gulf from 1797 to 1820‘‘ہے۔ یہ ڈگری اُنہوں نے برطانوی یونی ورسٹی آف ایگزیٹر (University of Exeter) سے حاصل کی۔ یہ مقالہ اِسی نام سے کتابی شکل میں بھی شائع ہوچُکا ہے۔ 

اُنہوں نے خلیجی عرب کی استعمار کے خلاف مزاحمت اور آزادی پسندی اجاگر کرنے کے لیے عمان کے امام احمد بن سعید البوسعیدی کی مثال پیش کی، جنہوں نے ایرانی قابض سے مقابلہ کیا اور اپنا وطن آزاد کروایا۔ اِس سے پہلے عمان ہی کی اسرۃ ال یعرب (Al Ya'arab Dynasty)کے اِماموں نے پرتگال سے ٹکر لی تھی، جس نے1650 ء میں عمان کی بندرگاہ، مسقط پر قبضہ کر لیا تھا۔ عمانی امام نے 1742ء تک پرتگالی استعمار کے خلاف مسلّح جدوجہد کی اور اسے خلیج سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔

قارئین کے لیے یہ امر حیرت اور دل چسپی کا موجب ہو گا کہ موجودہ خلیجی ریاستوں میں سعودی بادشاہت سے بھی قدیم، ریاستِ عمان کا دائرۂ اختیار بحرِ احمر کے مغربی ساحل پر زنجیبار(Zanzibar) تک پھیل گیا تھا۔ عمان کے حاکم، سیّد سعید بن سلطان نے 1832ء میں پرتگیزیوں کو ممباسا اور زنجیبار سے نکال کر اپنا دارالحکومت اور شاہی دربار زنجیبار میں قائم کر لیا اور ایک بحری سلطنت کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ 1856ء میں سعید بن سلطان کی وفات کے بعد عمانی سلطنت دو حصّوں، عمان اور زنجیبار میں بٹ گئی اور اُن کے دو بیٹے الگ الگ حاکم بن گئے۔ 

ماجد بن سعید زنجیبار اور ثوینی بن سعید مسقط و عمان کے حُکم ران بنے۔انیسویں صدی تک یہ سلطنت اپنے عروج پر رہی اور اس سلطنت کا بحری کنٹرول خلیجِ فارس سے بحرِ ہند تک پھیلا ہوا تھا۔ خلیج میں ہرمز کی پٹّی سے لے کر جنوبِ بعید میں موزمبیق اور موجودہ پاکستان کی بندرگاہ گوادر تک سب اسی سلطنت کے حصّے تھے۔ 

گویا، اہم ساحلی مراکز اس کے قبضے میں تھے۔ لونگ، گرم مسالے، ہاتھی دانت اور غلاموں کی تجارت اس کی آمدنی کے بڑے ذرائع تھے۔ واضح رہے کہ غلاموں کی تجارت اُس زمانے میں یورپ اور جدید امریکا سے لے کر عثمانی سلطنت تک میں ہو رہی تھی۔ کولمبس کے امریکا دریافت کرنے کے بعد یورپی، بطورِ خاص برطانیہ، افریقا سے غلاموں کے جہاز بَھر بَھر کر امریکا پہنچاتے تھے اور زرعی فارمز یا ترقیاتی کاموں میں بڑی بے رحمی کے ساتھ اُن سے کام لیتے۔

انیسویں صدی کے وسط آخر میں عمان کی مستحکم سلطنت ایک تو داخلی طور پر دو حصّوں میں بٹی ہوئی تھی، پھر قبائلی رقابتوں کی وجہ سے داخلی شورشیں بھی اسے کم زور کر رہی تھیں۔ عرب قومیت اورکمیونزم کا طوفان اُٹھا، تو اُس نے عمان پر بھی منفی اثرات مرتّب ہوئے۔ انیسویں صدی کے وسطِ آخر میں اس پر برطانیہ کے استعماری اثرات غالب آئے اور برطانیہ نے اس سے زنجیبار چھین لیا، جہاں غلاموں کی تجارت عمانی سلطنت کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ تھی۔

برطانیہ نے غلاموں کی تجارت پر پابندی لگا دی، حالاں کہ اسی برطانیہ کے نوآبادکار افریقا سے غلاموں کے جہاز بَھر بَھر امریکا پہنچا رہے تھے، جہاں مناسب خوراک اور صحت کی بنیادی سہولتوں کے بغیر بڑی بے رحمی سے کام لیتے۔ بہرحال، زنجیبار کے چِھن جانے کے بعد عمانی سلطنت، عمان و مسقط تک محدود ہو گئی، لیکن اس کی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے خلیجی ریاستوں میں اسے اب بھی اہمیت حاصل ہے۔

عمان، خلیجی تعاون کاؤنسل کا رُکن ہے، لیکن یہ عالمی معاملات میں نہیں اُلجھتا، بلکہ مصالحانہ کردار ادا کرتا ہے۔ براہمی اس کا ایک صوبہ اور اس صوبے کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر امارات کے شہر، العین سے اِس طرح جُڑا ہوا ہے کہ ایک سڑک کا ایک طرف والا حصّہ براہمی کا ہے اور دوسری طرف العین کی ہے۔اِسی صوبے کی نسبت سے امارات کے ساتھ اس کے کچھ سرحدی تنازعات بھی ہیں۔عمان میں تیل اور گیس کی دریافت1967 ء میں ہوئی۔ 

اس کی آمدنی اور ترقّی کا سب سے بڑا انحصار قدرتی گیس اور تقریباً ساڑھے پانچ بلین بیرل خام تیل پر ہے۔ اس کی خام مُلکی پیداوار(GDP)کا تیس سے پینتیس فی صد اسی پر منحصر ہے۔ انفرا اسٹرکچر میں اس نے خاصی ترقّی کی ہے، جو اسی آمدنی سے ہوئی۔ یہ روزانہ ایک ملین بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔ یہ مُلک تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم، اوپیک کا رُکن نہیں ہے، اِس لیے اس پر تنظیم کے فیصلوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔

احمد بن سعید اور حماد بن سعید کو وسیع عمانی سلطنت کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ جدید عمان کی تعمیر و ترقّی سلطان قابوس بن سعید کے دَور میں ہوئی، جو 1967ء میں اپنے والد، سعید بن تیمور کے خلاف بغاوت کر کے برطانیہ کی پُشت پناہی سے اور برطانوی ہیلی کاپٹر کے ذریعے محل پر اُتر کر برسرِاقتدار آئے تھے اور 10 جنوری 2020ء کو اُن کا انتقال ہوا۔ اُن کے والد، سعید بن تیمور قدامت پسند اور مغربی طرزِ زندگی کے سخت مخالف تھے۔ 

سلطان قابوس بن سعید خلیجی ریاستوں میں پہلے شخص تھے، جنہوں نے برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی اسینڈرسٹ سے فوجی ٹریننگ حاصل کی تھی۔ وہ اپنے والد کی اجازت سے گئے تھے، لیکن جب ٹریننگ کے بعد واپس آئے، تو اُنہوں نے فوجی وردی پہنی ہوئی تھی۔ اُن کے والد فرنگی لباس دیکھ کر بہت برہم ہوئے۔ سلطان قابوس کے والد مغربی طرزِ زندگی اور لباس کو سخت ناپسند کرتے تھے۔

کمیونزم اور سرمایہ داری جیسے جدید نظریات اور نظاموں سے متعلق اُن کی معلومات بہت محدود تھیں۔ اُس وقت اُن کے مُلک میں کمیونزم پھیل رہا تھا، لیکن اُنہوں نے اس کے آگے بند باندھنے کے مناسب اقدامات نہیں کیے۔ اُن کے دَور میں عمان، دنیا سے الگ تھلگ اور تنہائی کا شکار تھا۔ بہرحال، محل میں ایک مختصر سی جھڑپ کے بعد اُنہیں حراست میں لے کر برطانیہ منتقل کر دیا گیا اور سلطان قابوس نے اقتدار سنبھال لیا۔

خلیجی ممالک میں سعودیہ کی سرکاری فقہ، حنبلی ہے اور متحدہ عرب امارات میں مالکی فقہ ہے، لیکن حنبلی مکتبِ فکر بھی موجود ہے۔ ان ریاستوں میں عمان کی ایک جُداگانہ مسلکی پہچان یہ ہے کہ اٹھارہویں صدی کے نصفِ اوّل کے آخری برسوں(1744-1749)میں جب اِمام احمد بن سعید البوسعیدی نے یہاں آلِ سعید کی حکومت قائم کی، تو اُنہوں نے اِباضیہ مسلک اختیار کر لیا۔ 

اباضیہ، خوارج کی ایک اعتدال پسند شاخ ہے۔ فرقہ اِباضیہ کا اصل بانی، جابر بن زید تھا، لیکن اس کی اشاعت میں عبداللہ بن اِباض کا سب سے زیادہ کردار تھا، اِس لیے یہ فرقہ اُسی کے نام سے موسوم ہو گیا۔بعدازاں ،یہ عمان اور شمالی افریقا میں پھیل گیا۔ عمان میں اس کا پہلا اِمام، الجولندی تھا، جب کہ شمالی افریقا کے ممالک میں اِس مسلک کے الگ الگ اِمام تھے۔

سلطان قابوس(مرحوم) بے اولاد تھے، اِس لیے اُنہوں نے وصیّت کی تھی کہ اُن کے بعد اُن کے چچازاد، ہیثم بن طارق آلِ سعید عمان کے سلطان ہوں گے۔ سلطان ہیثم نے عمانی قبائل اور بیرونی دنیا سے تعلقات کی وہی متوازن پالیسی اختیار کی، جن کی بنیاد سلطان قابوس نے رکھی تھی۔ اُنہوں نے اسرائیل کو عملاً تسلیم کر لیا تھا۔ کئی عالمی تنازعات میں ثالث کا کردار بھی ادا کرتے رہے۔ 

عمان کے لوگوں سے متعلق رسول اللہ ﷺ کا ایک ارشاد صحیح مسلم میں آیا ہے، جس میں اہلِ عمان کی تحسین کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو(جوظاہر ہے، کوئی صحابی ہی تھے) عرب قبائل میں سے ایک قبیلے کی طرف بھیجا۔ 

وہ وہاں گئے، تو اُس قبیلے کے لوگوں نے اُنہیں بُرا بھلا کہا اور مار پیٹ کی۔ اُنہوں نے واپس آ کر رسولِ پاک ﷺ کو اِس واقعے سے متعلق بتایا۔ آپؐ نے فرمایا۔ ’اگر تم اہلِ عمان کے پاس جاتے، تو وہ تمہیں گالیاں دیتے اور نہ ہی مارتے۔‘‘ (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید