• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گل پلازہ میں آتشزدگی ایسا دلخراش سانحہ ہے جس نے مجھ سمیت ہر پاکستانی کو غمزدہ کردیا ہے۔ یہ سانحہ ہماری بے حسی، ناقص حفاظتی انتظامات اور کمزور حکومتی نگرانی کو بے نقاب کرتا ہے جس کے باعث منٹوں میں بھڑکنے والی آگ نے نہ صرف 26 قیمتی جانیں نگل لیں بلکہ درجنوں خاندانوں کو عمر بھر کا صدمہ دے گئی اور 76افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ پلازہ میں لگنے والی آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ عمارت میں موجود سینکڑوں افراد کو نکلنے کا موقع ہی نہ مل سکا جسکی وجہ خارجی راستے کی بندش بتائی جاتی ہے۔ فائر الارم، ایمرجنسی خارجی راستے، فائر فائٹنگ آلات اور تربیت یافتہ عملہ یہ سب وہ بنیادی سہولتیں ہیں جو کسی بھی کمرشل عمارت کیلئے ناگزیر ہوتی ہیں مگر بدقسمتی سے گل پلازہ میں یہ سہولتیں یا تو موجود ہی نہ تھیں یا محض کاغذی کارروائی تک محدود تھیں۔ گل پلازہ کراچی میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والوں کیلئے خریداری کا معروف مرکز تھا۔ ابتدا میں یہ عمارت 3 منزلوں پر مشتمل تھی تاہم انتظامیہ کی ملی بھگت سے عمارت میں غیر قانونی طور پر چوتھی منزل کا اضافہ کرکے 180 سے زائد دکانیں تعمیر کی گئیں جبکہ خارجی راستوں پر بھی دکانیں تعمیر کردی گئیں جو لوگوں کی اموات کا بڑا سبب بنیں۔ بزنس کمیونٹی سے تعلق اور پاکستان مسلم لیگ (ن) بزنس فورم کے مرکزی صدر کی حیثیت سے میں نے بزنس فورم کے سینئر عہدیداران کے ہمراہ سانحہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی اور تاجر برادری سے یکجہتی کیلئے آتشزدگی کے اگلے روز جائے وقوع کا دورہ کیا اور وہاں جو دلخراش مناظر دیکھے، وہ ناقابل فراموش تھے۔ گوکہ آتشزدگی پر 33گھنٹے بعد بمشکل قابو پایا گیا مگر جلی ہوئی عمارت سے اب بھی دھواں اٹھ رہا تھا، آدھے سے زیادہ حصہ زمین بوس ہوگیا تھا اور میرے سامنے ملبے سے جلی ہوئی دو لاشیں نکالی گئیں جبکہ عمارت کے اطراف کھڑے لوگ اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہے تھے اور کسی معجزے کے منتظر تھے۔ گل پلازہ کے تباہی کے مناظر دیکھ کر وہاں موجود متاثرہ دکانداروں پر سکتہ طاری تھا، ان کا کہنا تھا کہ اب ہم اپنے خاندان کی کفالت کس طرح کریں گے۔ مجھے بتایا گیا کہ عمارت کے ملبے میں پھنسے افراد اندر سے پکارتے رہے لیکن کوئی ان کی مدد کو نہ آیا۔ یہ پہلا موقع نہیں جب کراچی کے کسی کمرشل پلازہ، عمارت یا فیکٹری میں آتشزدگی نے قیمتیں جانیں لی ہوں، ماضی میں ایسے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں جس کے بعد وقتی شور شرابہ، انکوائری کمیٹیاں اور چند افسران کی معطلیاں تو ہوئیں مگر عملی اصلاحات نہ ہوسکیں جس کے نتیجے میں نئے سانحات جنم لیتے رہے۔ گوکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے ایک ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کرکے اپنی ذمہ داری پوری کردی لیکن میرے نزدیک جاں بحق افراد کی جانیں حکومتی معاوضے سے کہیں زیادہ قیمتی تھیں۔

کراچی پاکستان کا معاشی حب اور سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے جو ملک کے مجموعی ریونیو کا 46فیصد سے زائد ٹیکس ادا کرتا ہے اور 2024-25 ء میں کراچی نے 3.5 کھرب روپے سے زائد ٹیکس ادا کیا۔ کراچی کے شہری حکومت سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اُن کا دیا گیا کھربوں روپے کا ٹیکس کہاں خرچ کیا جارہا ہے اور کراچی کو اب مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ڈھائی کروڑ سے زائد آبادی کے شہر کیلئے صرف 28 فائر اسٹیشنز ہیں جبکہ آبادی کے لحاظ سے کم از کم 200 فائر اسٹیشنز ہونے چاہئیں، ہمارا فائر فائٹنگ سسٹم ابھی تک دقیانوسی ہے اور جدید طرز کے تقاضوں کے ہم آہنگ نہیں، کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس اور کلفٹن میں کچھ شاپنگ مالز میں فائر فائٹنگ سسٹم، اسپرنگر اور اسموگ ڈکیٹرز کا موثر نظام موجود ہے تاہم شہر کے بیشتر شاپنگ سینٹرز اور بلند و بالا عمارتوں میں فائر سیفٹی معیار پر عملدرآمد نہیں ہورہا، اس طرح شہر قائد میں فائر سیفٹی کا بحران سنگین صورت اختیار کرگیا ہے جہاں 80 فیصد عمارتوں اور شاپنگ سینٹرز میں آتشزدگی سے بچاؤ کا کوئی موثر نظام موجود نہیں جبکہ 90 فیصد عمارتوں میں ایمرجنسی خارجی راستے تک نہیں جس کے باعث لاکھوں شہری روزانہ خطرے کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

سانحہ گل پلازہ میں صرف 1200 دکانیں نہیں جلیں بلکہ ان سے منسلک 4 ہزار سے زائد افراد کے گھر بھی جل گئے اور یہ سوال چھوڑ گئے کہ یہ سانحہ محض ایک حادثہ تھا یا نظام کی ناکامی کا نتیجہ تھا اور اس المیے کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف پلازہ کا مالک قصوروار ہے یا بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز، فائر ڈپارٹمنٹ، میونسپل ادارے اور ضلعی انتظامیہ؟ میرے نزدیک اس المیئے کے سب ذمہ دار ہیں، نہ گل پلازہ کے منتظمین نے قوانین کا پاس کیا اور نہ ہی حکومت نے سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کرایا۔ جب قوانین موجود ہوں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہو، جب معائنے رشوت کی نذر ہوجائیں اور انسانی جان کی قیمت محض ایک کروڑ مقرر کردی جائے تو ایسے سانحات ناگزیر ہوجاتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہمیں تعزیتی بیانات اور علامتی اقدامات سے آگے بڑھنا ہوگا، کمرشل عمارتوں کا ازسرنو حفاظتی آڈٹ، فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد، ذمہ داران کے خلاف شفاف اور غیرجانبدارانہ کارروائی اور عوامی سطح پر آگاہی مہم ناگزیر ہوچکی ہے۔ سانحہ گل پلازہ پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے، قیمتی جانوں کی تلافی نہیں ہوسکتی۔ یہ سانحہ ہمیں یاد دہانی کراتا ہے کہ ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں اور تجارتی مراکز کا نام نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اگر ہم نے اپنے طرز عمل میں تبدیلی نہ لائی اور سانحہ گل پلازہ سے سبق نہ سیکھا تو مستقبل میں ایسے سانحات ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں گے اور یہ آگ کل کسی اور پلازہ، کسی اور فیکٹری اور کسی اور گھر کا رخ کرسکتی ہے۔

تازہ ترین