• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سول سروس (یا بیوروکریسی) کسی بھی حکومتی بندوبست کی ناگزیر ضرورت سمجھا جانے والا وہ ادارہ ہے جسکی کارکردگی اور طرز عمل سے پورے نظام کی کیفیت وکمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حکومت کا مزاج نو آبادیاتی ہو، قومی ہو، مطلق العنانیت پر مبنی ہو یا جمہوری اقدار سے گندھا ہوا عوام دوست ہو۔ اس کا مظہر سول بیورو کریسی کا انداز کار ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا کہلانے والے جس خطے میں واقع ہے، اس میں برطانوی استعماری دور آیا تو اس نے پورے حکومتی ڈھانچے اور طور طریق کو اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لئے سول سروس کا مخصوص دھانچہ بھی بنایا جس کے لئے ابتدا میں افسران انگلستان سے آئے مگر بعد کی ضروریات کے لئے مقامی آبادی میں سے بھی افسروں کا چناؤ کیا گیا۔ دوسری طرف تعلیمی نظام میں تبدیلی لاکر اور انگریزی کو سرکاری زبان بناکر جہاں بہت سے لائق فائق افراد کو عملاً جہلا کی صف میں دھکیل دیاگیا وہاں اپنے نظام کی ضرورتوں کے لئے مقامی سطح پر کلرکوں کی بڑی تعداد تیار کی گئی ۔ان کلرکوں کے بارے میں مجید لاہوری کا یہ مصرعہ عرصےتک مشہور رہا: ’’کر کلرکی ،کھا ڈبل روٹی‘‘۔ یہ طبقہ بابو کہلاتا اورپنشن والی سرکاری ملازمت پر فخر کرتا تھا۔ انتظامی سطح کی ان تبدیلیوں کےحوالے سے یہ امر بطور خاص ملحوظ رکھنے کا ہے کہ جو برطانوی افسر برصغیر میں طویل عرصے تک خدمات انجام دینے کےبعد واپس اپنے وطن جاتے تھے، انہیں وہاں سرکاری ملازمتوں کیلئے اس بنا پر نااہل سمجھا جاتا تھا کہ ایک غلام خطےمیں تعیناتی کے دوران ان کے طرز عمل میں حکم چلانے اور دوسروں کو کمتر و حقیر سمجھنے کا عنصر پروان چڑھ چکاتھا۔ انڈین سول سروس( آئی سی ایس) کے لئےافسروں کے چناؤ میں ان کے مزاج کی کیفیت سے لے کر دوران تربیت ان کی نجی زندگی کی مصروفیات پر بھی خاص توجہ دی جاتی تھی اور اس امر کا مشاہدہ کیا جاتا تھا کہ حاکمانہ طرز عمل ان کے مزاج میں کس حد تک رچ بس گیا ہے۔ بعد کے ادوار میں جب برٹش راج کی گرفت کمزور پڑ چکی تھی، ایسے مقامی لوگ بھی سول سروس کا حصہ بنے جو اپنی ثقافتی وسماجی اقدار سے وابستگی کسی نہ کسی حد تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ مزید تفصیل میں جائے بغیر بطور خلاصہ یہ کہنا کافی ہے کہ برطانوی استعماری دور میں وضع کردہ سول بیورو کریسی کا نظام اس دور کی استعماری ضروریات پر پورا اترتا تھا مگر آزاد ہونے والے ملک کی ضروریات مختلف تھیں جن کے مطابق اس نظام کو پوری طرح بدلنے سے غفلت برتی گئی۔ بعد ازاں بد عنوانیوں کے فروغ نے نوبت یہاں تک پہنچا دی کہ الماریوں کے اندر اور بستر کے گدوں سے کروڑوں روپے کی رقوم برآمد ہونے کی خبریں اخبارات میں آئیں، جب کہ بیورو کریسی کے اپنے مرتب کردہ قوانین کے تحت چوری شدہ رقم کا محض ایک حصہ ادا کرکے پاک وصاف بننے کے عمل کو احتساب کا نام دیدیا گیا۔ سرخ فیتے کے تحت لوگوں کے مسائل حل کرنے میں طوالت اور سائلوں کو بار بار دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنا کسی مخصوص طرز عمل کا تسلسل ہے جو نو آبادیاتی دور سے مسلسل جاری اور کئی شعبوں کی شہرت کو داغدار کرنے کا ذریعہ بنا ہے۔ اس تاحال جاری طریق کارنے کئی شعبوں، بالخصوص جائیداد کی منتقلی کے شعبے کی شہرت کو داغدار کیا۔ بلاشبہ نا پسندیدہ افعال میں ملوث افراد کی تعداد کم ہے۔ مگر ان کی وجہ سے پوری مشینری کا جو تاثر نمایاں ہوا، اس کا ایک اظہار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اس مطالبے یا شرط کی صورت میں سامنے آیا کہ سول سروس میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی جائیں اور افسران کے اثاثوں پر نظر رکھی جائے۔

بیوروکریسی میں اصلاحات لانے کے بعض اقدامات پہلے بھی سامنے آتے رہے مگر جس بڑے پیمانے پر اس کا مزاج اورہیئت بدلنے کی ضرورت تھی اس پر اب توجہ دی گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس مقصد کیلئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی،ترقی وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی سرکردگی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کا نام ’’کمیٹی برائے سول سروس اصلاحات‘‘ ہے۔ اس کمیٹی نے جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ملکی سول سروس کی تشکیل نو کے ضمن میں پاک فوج، کارپوریٹ سیکٹر اور عالمی تجربات میں رائج انسانی وسائل ( ہیومن ریسورس) کا مفصل جائزہ لیا جن میں تربیت، بھرتی ، کارکردگی کے نظم ونسق، معاوضوں اور ادارہ جاتی تنظیم نو جیسے شعبوں میں اصلاحات پر توجہ دی گئی ہے۔ موجودہ سول سروس نظام کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پاک فوج کے انسانی وسائل سے متعلق طریق کار کو متاثر کن قرار دیا اور اس ماڈل سے سیکھتے ہوئے اہم سفارشات پیش کی ہیںجن کا مقصد سول بیوروکریسی کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔ سفارشات میں تربیت، ترقی، شعبہ جاتی مہارت سمیت اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے رائے دی ہے کہ سول سرونٹس کے لئے ترقیاتی بورڈز اپنے طے شدہ اجلاس سے بہت پہلے افسروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔اصلاحات کا عمل اگر کسی ادارے کی ساخت میں بڑی تبدیلی لارہا ہو تو بعض حلقوں کے تحفظات فطری ہوتے ہیں۔ چنانچہ بیوروکریسی کی اصلاحاتی اسکیم پر عمل درآمد کی اعلیٰ سطحی کمیٹی میں شامل سینئر بیوروکریٹس موجودہ عمومی نظام سے ہٹ کر کسی بڑی تبدیلی کے خلاف نظر آتے ہیں جب کہ وفاقی وزراء بھرتی کے اسپیشلائزڈ نظام کی بھرپور حمایت کررہے ہیں۔ عموماً ایسے معاملات کا کوئی نہ کوئی حل نکال لیا جاتا ہے جب کہ حتمی فیصلہ بہرحال وزیر اعظم کا ہوتا ہے۔توقع کی جانی چاہئے کہ اس باب میں سفارشات جلد عملی صورت اختیار کرتی نظر آئیں گی۔یہ ایک بڑا کام ہے جس کی پہلے مضبوط بنیادیں استوار ہوں گی، چند برسوں میں حوصلہ افزا نتائج ایسی کارکردگی کے روپ میں سامنے آئیں گے جس سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوگا اور ملکی سول سروس پر عوام کا اعتماد بڑھے گا۔

تازہ ترین