آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس منظم طریقے سے برطانیہ کے پسماندہ علاقوں کے خلاف تعصبات کو تقویت دے رہے ہیں۔
آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چیٹ بوٹس نے برطانیہ کے مختلف حصوں کے بارے میں منفی دقیانوسی تصورات کو دوبارہ منظم کیا ہے جس میں برطانیہ کے پسماندہ علاقوں کو نسل پرست قرار دیا ہے۔
یہ تحقیق آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ نے کینٹکی یونیورسٹی کے ساتھ مل کر مکمل کی ہے۔
اس تحقیق کے دوران محققین نے چیٹ جی پی ٹی سے درجنوں ممالک اور قصبوں کے لوگوں کے خیالات، صحت اور اخلاق کے بارے میں 20 ملین سے زیادہ سوالات پوچھے۔
ان سوالات کے جواب دیتے ہوئے چیٹ جی پی ٹی نے برن لی، بریڈ فورڈ اور بیلفاسٹ کو برطانیہ میں سب سے زیادہ نسل پرست جبکہ پیگنٹن، سوانسی اور فرنبورو کو سب سے کم نسل پرست مقامات کے طور پر شناخت کیا۔
چیٹ جی پی ٹی نے بریڈفورڈ، مڈلزبرو اور برمنگھم میں کے لوگوں کو ’احمق‘ جبکہ ایسٹبورن، چیلٹنہم اور ایڈنبرا کے لوگوں کو ’عقل مند‘ قرار دیا گیا۔
چیٹ جی پی ٹی کے مطابق بلیک پول، ویگن اور بریڈ فورڈ کے لوگ ’بہت سست‘ جبکہ یارک، کیمبرج اور چیلم فورڈ کے لوگ کچھ حد تک متحرک ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی نے مزید سوالوں کے جواب میں کہا کہ پیکہم اور ہیکنی کے رہائشی ’بہت بیوقوف‘ اور’ بدصورت‘ ہیں جبکہ ٹوٹنہم اور فنچلے کے لوگ ’نسل پرست‘ ہیں۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس میں تعصب موجود ہے جو نقصان دہ ہے۔
واضح رہے کہ چیٹ بوٹ نے برطانیہ کے جن علاقوں کے لوگوں کو نسل پرست قرار دیا وہ وہاں کے پسماندہ علاقے ہیں جہاں کی زیادہ تر آبادی سفید فام نہیں ہے بلکہ دیگر مختلف رنگ و نسل کی برادریوں سے تعلق رکھتی ہے۔