• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملزمان کا عدالت دیر سے آنا وتیرہ بن گیا ہے، جج کے ایمان مزاری و ہادی علی کیس میں ریمارکس

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی کیس میں ریمارکس دیے کہ ملزمان کا عدالت دیر سے آنا وتیرہ بن گیا ہے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کی۔

جج افضل مجوکہ نے کہا کہ ملزمان عدالت پیش نہیں ہوئے، پراسیکیوشن ٹیم عدالت میں ہے، 2 روزہ حفاظتی ضمانت کے باوجود ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ہائیکورٹ نے 4 روز کے اندر جرح مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

ایڈیشن سیشن جج نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم 20 جنوری کو موصول ہوچکا ہے، ملزمان کو ہائیکورٹ حکم کے پیش نظر 24 جنوری ساڑھے 3 بجے تک جرح مکمل کرنی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملزمان کا عدالت دیر سے آنا وتیرہ بن گیا ہے، ملزمان عدالت کا جان بوجھ کر وقت ضائع کر رہے ہیں۔

جج افضل مجوکہ نے یہ بھی کہا کہ ملزمان ساڑھے 9 بجے جرح شروع کریں اور ساڑھے 3 بجے مکمل کریں، ڈیڑھ بجے آدھے گھنٹے کا وقفہ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کی جانب سے وقت ضائع کرنے پر مزید وقت نہیں دیا جائے گا، 24 جنوری ساڑھے 3 بجے تک جرح مکمل نہ کی تو جرح کا حق ختم کردیا جائے گا۔

عدالت نے متنازع ٹوئٹس کی سماعت کل تک ملتوی کردی اور ایمان مزاری اور ہادی علی کو گواہان پر جرح مکمل کرنے کا شیڈول جاری کردیا۔

قومی خبریں سے مزید