• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند روز قبل اسلام آباد کے ایوانِ صدر میں ایک غیر معمولی منظر دیکھا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایک تفصیلی بریفنگ دے رہے تھے۔ موضوع تھا سندھ کی ترقی، ادارہ جاتی بہتری اور عوامی خدمات میں نمایاں اضافہ۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو دانستہ طور پر ’’گلاس آدھا خالی‘‘ صوبہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ 2008 کے بعد سندھ میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، غربت میں کمی، زراعت، صنعت اور ریونیو کے شعبوں میں غیر معمولی بہتری آئی ہے۔ صحت کے بجٹ میں اضافے، بڑے اسپتالوں کی توسیع، این آئی سی وی ڈی کے نیٹ ورک اور ایس آئی یو ٹی کی خدمات کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔ تعلیم کے شعبے میں جامعات کی تعداد میں اضافے کو بھی ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔ یہ سب سننے میں اچھا لگا لیکن سندھ سے ،جاننے والوں سے پوچھیں تو شکایتیں ختم نہیں ہوتیں۔ بلاول کے اعداد و شمار متاثر کن تھے، پاور پوائنٹ سلائیڈز میں ترقی واضح دکھائی دیتی تھی۔ مگر بدقسمتی سے، سیاست میں اکثر اعداد و شمار اور زمینی حقیقت کے درمیان ایک خلیج موجود ہوتی ہے اور یہی خلیج چند دن بعد ہی کراچی میں لگنے والی آگ نے بے رحمی سے عیاں کر دی۔ گل پلازہ کی آگ نے صرف ایک عمارت کو نہیں جلایا، بلکہ حکومتی دعوؤں کے پردے بھی چاک کر دیے۔ کراچی کے ایک مصروف تجارتی علاقے میں واقع تین منزلہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پاکستان کی حالیہ تاریخ کے بدترین شہری سانحات میں شمار ہو رہی ہے۔ کم از کم 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے، جبکہ 83 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ خدشہ ہے کہ بڑی تعداد میں افراد ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔ یہ آگ 24 گھنٹوں میں بھی نہ بجھائی جا سکی۔ ریسکیو آپریشن شدید مشکلات کا شکار رہا۔ عمارت کا ڈھانچہ کمزور تھا، اندر وینٹی لیشن نہ ہونے کے برابر تھی، اور جگہ جگہ ملبہ رکاوٹ بنا رہا۔ آگ بجھنے کے بعد بھی شعلے دوبارہ بھڑکتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سندھ واقعی ادارہ جاتی طور پر مضبوط ہو چکا ہے تو کراچی جیسے شہر میں ایسی عمارتیں کیسے موجود ہیں جو بنیادی فائر سیفٹی قوانین پر بھی پورا نہیں اترتیں؟ اگر مقامی حکومت مؤثر ہے تو سینکڑوں دکانوں پر مشتمل عمارت کی کبھی مکمل حفاظتی جانچ کیوں نہ ہوئی؟ اگر ریگولیٹری ادارے فعال ہیں تو فائر الارم، ایمرجنسی ایگزٹ اور حفاظتی راستے کیوں ناپید تھے؟ اتنے بڑے حادثہ پر نہ کوئی استعفیٰ آیا نہ عوام سے کسی نے معافی مانگی۔ میئر کراچی نے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے۔ کمشنر کی نگرانی میں انکوائری ہو گی یعنی کچھ نہیں ہو گا کیوں کہ میئر کی کیا مجال کہ کراچی اور سندھ کے حکمرانوں پر اس حادثہ کی کوئی ذمہ داری ڈال سکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے متاثرہ خاندانوں کیلئے ایک کروڑ روپے فی کس امداد کا اعلان بھی کر دیا۔ یہ سب کچھ اُس نااہلی کو چھپانے کی کوشش ہے جو اب سب پر عیاں ہو چکی۔ کراچی میں آگ لگنا کوئی نیا واقعہ بھی نہیں۔ بلدیہ فیکٹری، علی انٹرپرائزز، بولٹن مارکیٹ، صدر کی عمارتیں، اور اب گل پلازہ- یہ ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں۔ ہر بار تحقیقات ہوتی ہیں، رپورٹیں بنتی ہیں، ذمہ داروں کا تعین ہوتا ہے، مگر پھر سب کچھ فائلوں میں دفن ہو جاتا ہے اور اگلے حادثہ تک سب کچھ ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی آج بھی فائر سیفٹی کے حوالے سے ایک خطرناک شہر بنا ہوا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف وسائل کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔ سندھ اور کراچی کس کی حکمرانی میں رہا یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ترقی صرف اعداد و شمار کا نام نہیں ہوتی۔ ترقی وہ ہوتی ہے جو بحران کے وقت نظر آئے۔ اگر ادارے واقعی مضبوط ہوتے تو فائر بریگیڈ جدید آلات سے لیس ہوتی، عمارتوں کی باقاعدہ انسپیکشن ہوتی، اور کسی پلازہ میں سینکڑوں افراد موت کے جال میں نہ پھنسے ہوتے۔ گل پلازہ کی آگ نے یہ ثابت کر دیا کہ سندھ میں شاید کچھ شعبوں میں ترقی ہوئی ہو، مگر گورننس کی بنیاد ابھی کمزور ہے۔ قانون موجودہے، مگر عملدرآمد نہیں۔ ادارے موجود ہیں، مگر اختیار اور جوابدہی نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ سندھ کو اس کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا سندھ کے عوام کو وہ حق مل رہا ہے جو ایک محفوظ زندگی کی صورت میں انہیں ملنا چاہیے؟ ایک ماں جو اپنے بیٹے کی لاش کا انتظار کر رہی ہے، اس کیلئے بجٹ کے اعدادوشمار اہم نہیں ۔ ایک تاجر جو ملبے کے نیچے دب گیا، اس کیلئے پاور پوائنٹ سلائیڈز کوئی معنی نہیں رکھتی۔ گل پلازہ کی آگ محض ایک حادثہ نہیں یہ ایک آئینہ ہے۔ ایسا آئینہ جو ہمیں بتاتا ہے کہ دعوؤں اور حقیقت کے درمیان فاصلہ کتنا جان لیوا ہو چکا ہے۔ سیاست کو دعوؤں اور نعروں کی بجائے عملی عوامی خدمت کی ضرورت ہے تاکہ سیاست کو گالی کی بجائے احترام حاصل ہو۔

تازہ ترین