• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارا ہمسایہ ایران محض ایک ملک نہیں ایک تہذیب ہے دنیا کی قدیم ترین اور عظیم ترین تہذیبوں میں سے ایک، زرتشت اور سائرس اعظم جیسی ہستیوں کی سرزمین، حافظ اور سعدی شیرازی کی جنت ارضی،مرشدِ اقبال اور صوفیاء کے امام پیر رومی کی جنم بھومی۔ ہمارے شاعر مشرق نے تو ایران کیلئے عظیم خواب دیکھے تھے’’ تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا.... شاید کرہء ارض کی تقدیر بدل جائے‘‘ جی ہاں، یہی ایران جو رضا شاہ پہلوی کے دور میں خطے کی منی سپر پاور تھا نہ صرف مشرقِ وسطیٰ پراس کی دھاک تھی بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی ایران کو امید و تعظیم بھری نظروں سے دیکھتے تھے سمجھانے والوں نے شاہ ایران کو خوب باور کروایا کہ وہ اتاترک بن سکتے ہیں نہ اتنی شتابی سے ایران کو ماڈرنائز اور ویسٹرنائز کر سکتے ہیں کیونکہ اندر کھاتے سوسائٹی کے مخصوص مذہبی طبقات اور دینی مدارس پر آیت اللہ صاحبان کی گرفت تمہاری بادشاہت سے کسی طرح کم نہیں ، یہ چنگاری بھڑک اٹھی تو قابو پانا آپ کیلئے ممکن نہیں ہوگا مگر شہنشاہ کی شاہی طاقت نے اس دانائے راز کی نصیحت کا اثر لینے کی بجائے روایتی شاہی استبداد کو مذہبی طاقت کا توڑ جانا اور پھر جب ان کی دنیوی بادشاہت آیت اللہ صاحبان کی مذہبی بادشاہت سے ٹکرائی تویہ ایسے پاش پاش ہوئی کہ اپنوں نے بھی شہنشاہ ایران سے منہ موڑ لیا بالآخر انور سادات کے مصر میںپناہ ملی۔ وہ دن اور آج کا دن خمینی کے اسلامی انقلاب سے جو بھی ٹکرایا پاش پاش ہو گیا البتہ خود اس انقلاب نے بیگانوں کو بخشا نہ اپنوں کو۔ خود آیت اللہ خمینی کے لبرل ساتھیوں میں سے اگر کسی نے اس مذہبی قیادت پر اختلافی پوائنٹ اٹھانا چاہا تو غیرمرئی ہاتھوں نے اسے اس ملک عدم بھجوا دیا ۔جی چاہ رہا ہے کہ یہ داستان غم مفصل تحریر کروں کہ انقلابی جبر شدید ترین اذیتیں پہنچاتے ہوئے کیسے کیسے ہیروں کو کھا گیا۔ نتیجتاً آج سوائے مخصوص متشدد ہمنواؤں کے عظیم ایرانی قوم کے پاس کوئی متبادل قیادت نہیں بچی ہے۔سیکولربادشاہ کے’’ دور سیاہ ‘‘میں معاشی خوشحالی تھی، اب سارا سرمایہ شیطانِ بزرگ کو نابود کرنے کیلئے ملکوں ملکوں میںاپنی پراکسیاں پالنے پر صرف ہونے لگا سیال سونے کی دولت سے مالا مال اور قدرتی گیس جیسی قیمتی معدنیات کے باوجود ایرانیوں کی معاشی حالت اتنی پتلی ہو گئی کہ آج ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں پندرہ بلکہ سترہ لاکھ ایرانی ریال خرچ کرنے پڑتے ہیں۔یہ ہے وہ پس منظر جس میں تہران کے گرینڈ بازار سے تاجروں نے ہڑتال کی راہ اپنائی اورسڑکوں پر نکل آئے پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ احتجاج پورے اکتیس صوبوںمیں پھیلتا چلا گیا۔ ابتدا میں تو صدر مسعود پزشکیان کے مشورے پر حکومت نے انکے ساتھ تھوڑی نرمی برتی اور یہ اعلان تک کر ڈالا کہ واپس گھروں کو چلے جاؤ ہم آپ کو پورے سات ڈالر جی ہاں سات ڈالر مہینے کی امداد دیں گے ان غریبوں نے سات ڈالروں کو اونٹ کے منہ میں زیرا کہتے ہوئے اپنا احتجاج مزید بڑھا دیا اس پر ولایت فقیہ کی انقلابی طاقت کو غصہ آ گیا پھر کیا تھا لاشیں گرنا شروع ہو گئیں۔ احتجاجی عوام بھی حملوں پر اتر آئے۔ اگرچہ اس حوالے سے مختلف اطلاعات ہیں مرنے والوں کے حوالے سے، کیونکہ میڈیا پوری طرح حکومتی کنٹرول میں ہے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پوری طرح بند کر دیا گیا ہے ، ایلون مسک نے جو متبادل دیا اس پر بھی رشین جیمرز لگا دیے گئے ہیں۔قابل افسوس صورت حال یہ ہے کہ اب یہ احتجاج پر امن نہیں، پرتشدد ہو چکا ہے۔ وہ ایرانی عوام جو کبھی دین و مذہب کے دیوانے تھے آج اپنے پیشواؤں ہی سے نہیں بلکہ مذہب سے بھی بیزار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ درویش معذرت کے ساتھ عرض گزار ہے کہ مذہب کے سیاسی و مفاداتی استعمال کا یہی وہ نتیجہ نکلنا تھا جو پچھلی صدیوں میں یورپ میں مسیحیت کے زوال کا باعث بنا تھا ۔ عرب و عجم کے تمام اہل ایمان کو اس حوالے سے غور و فکر کرنی چاہیے اور اس کے محرکات کو سمجھنا ہوگا ۔ آج اگر ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ اگر ایرانی عوام کی ہلاکتیں مزید بڑھیں تو ایرانی عوام کواستبداد سے بچانے کیلئے انہیں پیش قدمی کرنا پڑے گی اور یہ کہ ہم ایران کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جس کے جواب میں ولایت فقیہ کے رتبے پر فائز آیت اللہ علی خامنہ ای ٹرمپ کو یہ دھمکی دے رہے ہیں کہ تو اِدھر آیا تو ہماری روحانی طاقت سے بھسم ہو جائے گا تیرا انجام وہی ہوگا جو فرعون، نمرود اور رضاشاہ پہلوی جیسے ظالموں کا ہوا ۔موصوف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں وہ دشمنان اسلام ہیں امریکی و اسرائیلی ایجنٹ ہیںہم انہیں کچل کر رکھ دیں گے‘‘ درویش کی نظر میں ولایت فقیہ کی گدی پر فائز شخصیت کو اس نوع کے شدید بیانات اور اقدامات سے گریز کرنا چاہئے۔

تازہ ترین