• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی پیشہ وارانہ صلاحیت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی پیشہ وارانہ صلاحیت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے اپنے ہیڈکوارٹر میں بھی فائر سیفٹی میکزم موجود نہیں۔ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز میں 2007 کے بعد کوئی بھرتیاں نہیں ہوئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 18 سال میں بھرتی کیے گئے اسٹاف کی کبھی ٹریننگ ہی نہیں ہوئی، کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے پاس فائر سروس کے لیے 250 کا فائر اسٹاف ہے، کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے پاس 100 ایمبولینسز کا اسٹاف ہے۔

ریسکیو ذرائع نے کہا کہ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے پاس 23 ایمبولینسز اور 20 فائر وہیکلز ہیں جبکہ کنٹرول روم میں وہیکل ٹریکنگ کا سافٹ وئیر موجود نہیں۔

کیپیٹل ایمرجنسی سروس کے پاس صرف 4 اسٹیشن ہیں، ڈبلیو ایچ او کے اسٹینڈرڈ کے مطابق اسلام آباد میں 14 اسٹیشن ہونے چاہئیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ کیپیٹل ایمرجنسی سروس کا ریسپانس ٹائم 17 سے 50 منٹ تک ہے۔

قومی خبریں سے مزید