• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گل پلازا کی زمین کب، کس نے اور کس کو الاٹ کی، ابتدائی رپورٹ تیار

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سانحہ گل پلازا کی زمین کب، کس نے اور کس کو الاٹ کی، حکومت نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی۔

گل پلازا آتشزدگی واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہے، جس کے مطابق یہ زمین کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کی ملکیت تھی۔

رپورٹ کے مطابق گل پلازا کی زمین 1883ء میں ٹرام سروس کےلیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی گئی۔

رپورٹ کیے گئے انکشاف کے مطابق جینیکا کمپنی نے 1979ء سے زمین پر نظریں رکھنا شروع کیں اور 1983ء میں زمین کی 99 سالہ لیز ختم ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق لیز ختم ہونے سے 1 ماہ قبل زمین جینیکا نامی گروپ نے خریدلی، جماعت اسلامی کے میئر عبدالستار افغانی کے دور میں زمین کا تبادلہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے میئر عبدالستار افغانی 1979 سے 1987ء تک میئر رہے، جن کے دور میں لیز ختم ہونے کے باوجود گل پلاز ا عمارت کی تعمیر شروع ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق بغیر لیز گل پلازا کی تعمیر ات 7 سال تک جاری رہیں، اس کی زمین ایم کیو ایم کے میئر فاروق ستار کے دور میں لیز پر دی گئی۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گل پلازا کے لیے کے ایم سی کی زمین ایم کیو ایم کے میئر فاروق ستار کے دور میں 3 نومبر 1991ء کو باضابطہ طور پر الاٹ کی گئی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ گل پلازا کی لیز پر سابق میئرکراچی فاروق ستار کے دستخط موجود ہیں، کے ایم سی کی زمین گل پلازا کےلیے صرف 3 روپے فی گز کرائے پر لیز کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 2003 ء میں گل پلازا کے اضافی فلور ریگولرائز کئےگئے، اضافی فلور کی منظوری جماعت اسلامی کے میئر نعمت اللہ خان کے دور میں دی گئی۔

قومی خبریں سے مزید