کراچی کی حالیہ آگ اب محض ایک خبر نہیں رہی، یہ ایک اجتماعی نوحہ بن چکی ہے۔ اب تک اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد چھبیس سے تجاوز کر چکی ہے اور ساٹھ سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ہر گزرتا لمحہ ان خاندانوں کے لیے قیامت ہے جو اسپتالوں، ملبے اور فہرستوں کے درمیان اپنے پیاروں کے نام تلاش کر رہے ہیں۔ دل یہی دعا کرتا ہے کہ لاپتہ افراد زندہ نکل آئیں، مگر کراچی کی تاریخ گواہ ہے کہ جب اس شہر میں آگ کسی کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے تو وہ اکثر زندگی نہیں، راکھ واپس کرتی ہے۔یہ سوال اب ثانوی ہو چکا ہے کہ آگ کیسے لگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کراچی کو اس حد تک غیر محفوظ کس نے بنایا کہ ایک عمارت اجتماعی قبر میں بدل جائے۔ اگر یہ پلازہ چند منزلیں اور بلند ہوتا تو لاشوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی، مگر اس سے حکمرانوں کے ضمیر پر شاید کوئی بوجھ نہ پڑتا، کیونکہ اس شہر میں مرنے والے اکثر بے نام، بے قیمت اور بے آواز سمجھے جاتے ہیں۔ کراچی میں سانحات حادثہ نہیں لگتے، یہ ایک تسلسل کا حصہ نظر آتے ہیں، جیسے کسی نے طے کر لیا ہو کہ یہ شہر یوں ہی جلتا رہے گا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ سانحہ بلدیہ آج بھی اس شہر کے ماتھے پر ایک جلتا ہوا داغ ہے۔ ڈھائی سو سے زائد انسان زندہ جل گئے تھے، فیکٹری دروازے بند تھے، ایگزٹ موجود نہیں تھے، اور فائر سیفٹی صرف کاغذوں میں تھی۔ اس دن بھی یہی کہا گیا تھا کہ تحقیقات ہوں گی، ذمہ داروں کو سزا ملے گی، نظام بدلے گا۔ برسوں گزر گئے، نظام وہی ہے، صرف لاشیں بدل گئی ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے قیامت اس دن ختم نہیں ہوئی تھی اور نہ آج ہوئی ہے، کیونکہ انصاف آج تک ملبے کے نیچے دبا ہوا ہے۔
اب پھر وہی سوال سر اٹھا رہا ہے کہ کیا ایک کروڑ روپے کسی انسانی جان کی قیمت ہو سکتے ہیں؟ کیا کسی باپ کی جلی ہوئی لاش، کسی ماں کی ٹوٹتی ہوئی چیخ اور بچوں کے تاریک مستقبل کا مداوا چند نوٹوں سے ممکن ہے؟ اگر انسانی جان کا نعم البدل رقم ہے ؟ معاوضے کے اعلانات دراصل ہمدردی نہیں بلکہ ناکامی کا اعتراف ہوتے ہیں، جن کے ذریعے حکمران اپنی ذمہ داری سے جان چھڑاتے ہیں۔ زندگیاں بچانا حکمرانی ہے، مرنے کے بعد چیک دینا محض رسمی کارروائی۔کراچی کے ساتھ یتیموں جیسا سلوک کسی باہر والے نے نہیں کیا۔ یہ سلوک خود اس کے ان بیٹوں نے کیا ہے جو تیس تیس سال سے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔ انہی سیاسی جماعتوں نے حکومتیں بنائیں، بجٹ ترتیب دیے، وسائل تقسیم کیے، مگر کراچی کے لیے نہ کوئی مضبوط فائر سیفٹی نظام کھڑا کیا گیا اور نہ ہی کوئی مؤثر ایمرجنسی رسپانس ڈھانچہ بنایا گیا۔ یہ شہر ملک کو بندرگاہ دیتا ہے، صنعت دیتا ہے، ریونیو دیتا ہے، مگر بدلے میں اسے دھواں، راکھ اور قبریں دی جاتی ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کراچی کو کبھی مکمل طور پر اپنا شہر سمجھا ہی نہیں گیا۔ اسے ہمیشہ کمائی کا ذریعہ سمجھا گیا، ایک ایسا شہر جس سے فائدہ اٹھایا جائے مگر جس پر خرچ نہ کیا جائے۔ دہائیوں سے اقتدار میں رہنے والی جماعتیں آج بھی یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جاتی ہیں کہ مسائل پرانے ہیں، حالانکہ پرانے مسائل دراصل پرانی نااہلی کی علامت ہوتے ہیں۔ اگر تیس سال میں بھی ایک شہر کو محفوظ نہیں بنایا جا سکا تو پھر سوال یہ نہیں کہ مسائل کیوں ہیں، سوال یہ ہے کہ اقتدار آخر کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
کراچی سے لاہور آنے والا شخص یہ فرق اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ جیسے وہ کسی لاوارث، ٹوٹے اور کچے علاقے سے نکل کر کسی اور ملک میں داخل ہو گیا ہو۔ لاہور میں سڑکیں بہتر ہیں، ٹریفک منظم ہے، ریاستی مشینری متحرک دکھائی دیتی ہے، اور ایمرجنسی رسپانس فوری ہوتا ہے۔ یہ فرق وسائل کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔ اگر ایک شہر کو ترقی دی جا سکتی ہے تو دوسرے کو کیوں نہیں؟ سچ یہ ہے کہ کراچی کو کبھی ترجیح سمجھا ہی نہیں گیا، اسے صرف کمائی کی مشین بنایا گیا۔یہ کہنا کہ کراچی کے مسائل پیچیدہ ہیں، ایک گھسا پٹا بہانہ بن چکا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں انسانی جان کو کبھی حکمرانی کی بنیاد نہیں بنایا گیا۔ آگ لگنے کے بعد کمیٹیاں بنتی ہیں، انکوائریاں شروع ہوتی ہیں، مگر نہ کوئی بڑا مجرم سامنے آتا ہے اور نہ کوئی طاقتور کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے۔ ذمہ داری کبھی عمارت پر ڈال دی جاتی ہے، کبھی تاروں پر، کبھی شارٹ سرکٹ پر، مگر اس پورے نظام پر نہیں جو ان سب کو جنم دیتا ہے۔اسی پورے پس منظر میں پنجاب میں ریسکیو 1122 جیسے ادارے کی مثال ایک کڑوا سوال بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہ ادارہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ریاست چاہے تو شہری کی جان بچانے کا منظم نظام کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ جدید آلات، تربیت یافتہ عملہ، واضح کمانڈ اور فوری رسپانس اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حادثے کے بعد ماتم نہیں بلکہ حادثے سے پہلے تیاری کی جاتی ہے۔ ریسکیو 1122 کسی کرشمے کا نتیجہ نہیں، یہ سیاسی عزم اور ترجیح کا نتیجہ ہے۔سوال یہ ہے کہ جب یہ سب ممکن تھا تو کراچی میں کیوں نہیں کیا گیا؟ کیوں اس شہر کو فرسودہ فائر بریگیڈ، ناکافی عملے اور ٹوٹے ہوئے نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا؟ تیس سالہ اقتدار کے باوجود اگر کراچی میں ریسکیو 1122 جیسا مربوط ادارہ نہیں بنایا جا سکا تو یہ محض نااہلی نہیں بلکہ دانستہ غفلت ہے۔ یہ فیصلہ تھا کہ کراچی کو کم سے کم دیا جائے اور زیادہ سے زیادہ لیا جائے۔آج جب 60سے زائد لاشیں ہمارے سامنے ہیں اور ساٹھ خاندان اپنے پیاروں کی خبر کے منتظر ہیں، تو یہ وقت رسمی بیانات، انکوائریوں اور معاوضوں کا نہیں۔ یہ وقت جواب دہی کا ہے۔ یہ وقت یہ ماننے کا ہے کہ مسئلہ وسائل کا نہیں، نیت کا ہے۔ جب تک کراچی کو بھی وہی اہمیت نہیں دی جاتی جو دوسرے شہروں کو دی جاتی ہے، جب تک انسانی جان کو سیاست اور اقتدار سے اوپر نہیں رکھا جاتا، تب تک یہ شہر یتیم ہی رہے گا۔