• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قوموں کی تقدیر کا انحصار انکی ذہانت، علمی صلاحیت، تخلیقی قوت اور خیالات کو قیمتی مصنوعات میں ڈھالنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں پاکستان اس میدان میں بہت پیچھے تھا۔ ہماری جامعات مناسب سہولیات سے محروم تھیں، ہماری تحقیقی پیداوار نہایت کمزور تھی اور ہمارے ذہین ترین اذہان مواقعوں کی کمی کے باعث ملک چھوڑ کر جا رہے تھے۔ ایسے ماحول میں مجھے مارچ 2000ء میں پہلے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجیکی ذمہ داری سونپی گئی، اور بعد ازاں 2002ء میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے بانی چیئرمین کے طور پر تعینات کیا گیا۔ اسکے بعد ایک ایسی دہائی کا آغاز ہوا جس میں پاکستان میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے میدان میں ایک انقلابی تبدیلی آئی، جسکے نتیجے میں دنیا بھر میں ہمارے ملک کو بے مثال پذیرائی حاصل ہوئی۔ وفاقی وزیر کی حیثیت سے میری اولین ترجیح یہ تھی کہ ملک کے سائنسی بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ہم نے بڑے پیمانے پر ایسے پروگراموں کا آغاز کیا جنکے تحت جامعات اور تحقیقاتی مراکز کو جدید سائنسی آلات سے لیس کیا گیا جیسے کہ نیوکلیئر میگنیٹک ریزونینس اسپیکٹرو میٹرز، ایکس رے ڈیفریکٹو میٹرز، جین سیکوئنسرز اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کلسٹرز یہ وہ آلات ہیں جنکے بغیر چند میدانوں میں بامعنی تحقیق ممکن نہیں ۔ سائنس کیلئے مختص بجٹ میں کئی ہزار فیصد اضافہ کیا گیا، یہاں تک کہ یہ پچھلی نصف صدی کے مجموعی بجٹ سے بھی بڑھ گیا۔ ملک بھر میں انکیوبیٹرز اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا گیا تاکہ جدت طرازی کو فروغ دیا جا سکے۔ بینڈوڈتھ کے اخراجات، جو دنیا میں بلند ترین سطح پر تھے، نوے فیصد سے زیادہ کم کئے گئے، جس سے جامعات کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت سستی ہوئی اور ہمارے نوزائید آئی ٹی شعبے کیلئے بنیاد فراہم ہوئی۔ ہزاروں نوجوان مرد و خواتین کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات میں تربیت دی گئی۔

2002 ء میں راقم کو اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے قیام اور اسکی قیادت کی دعوت دی گئی۔ ہماری سب سے جراتمندانہ کاوشوں میں سے ایک بڑی سطح پر پی ایچ ڈی اسکالر شپ پروگرامز کا آغاز تھا۔ ہم نے 11000سے زائد ذہین اور باصلاحیت نوجوان طلباء کو امریکہ، برطانیہ، جرمنی، چین اور دیگر تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی اعلیٰ جامعات میں بھیجا ، اس شرط کیساتھ کہ وہ وطن واپس آکر کم از کم پانچ سال پاکستان کی خدمت کرینگے۔ اسی دوران، پاکستان میں بھی5000سے زائد اسکالرز ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کر کے وطن واپس لوٹے۔ قابل اساتذہ کو متوجہ کرنے کیلئے ہم نے ٹینور ٹریک سسٹم متعارف کرایا، جس کے تحت اساتذہ کو عالمی سطح کے مد مقابل تنخواہوں کی پیشکش کی گئی۔ اسکے نتیجے مین پہلی بار پاکستان میں ایک پروفیسر کی تنخواہ حکومت کے ایک وفاقی وزیر کی تنخواہ سے چار گنا زیادہ ہو گئی تھی، ترقی کا معیار مدت ملازمت کے بجائے اہلیت اور قابلیت پر رکھا گیا تھا۔ سیکڑوں غیر ملکی اساتذہ کو پرکشش مراعات اور تنخواہوں پر بھر تی کیا گیا تاکہ جامعات کو مضبوط کیاجا سکے، اور انکی موجودگی سے پیشہ ورانہ طرز عمل اور مسابقت کا ماحول پیدا ہو۔ ایک قومی ڈیجیٹل لائبریری قائم کی گئی، جسکے تحت ہر پاکستانی طالبعلم اور محقق کو 25000سے زائد بین الاقوامی تحقیقی جرائد اور 65000الیکٹرانک کتب تک مفت رسائی حاصل ہوئی۔

بائیو ٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ جیسے شعبے اُن اداروں میں ترقی کرنے لگے جو ماضی میں اوسط یا کم معیار کا شکار تھے ۔نئی جامعات اور مراکزِ فضیلت قائم کئے گئے یا ان میں وسعت دی گئی، جن میں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز، کوئٹہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اسلام آبادنیشنل سینٹر فار فزکس، اسلام آباد مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، سندھ انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز کراچی۔ یہ ادارے نہ صرف مقامی صلاحیتوںکے لیے مرکز بنے بلکہ بین الاقوامی تعاون کیلئے بھی اہم سنگ میل ثابت ہوئے۔اسی طرح ہماری آئی ٹی (IT) اور انجینئرنگ کی افرادی قوتمیں نمایاں تبدیلی آئی۔اس عرصے کے دوران ہزاروں انتہائی تربیت یافتہ طلبا پی ایچ ڈی مکمل کرکے غیر ملکی جامعات سے واپس آئے۔ بہت سے افراد نے نجی شعبوں میں شمولیت اختیار کی اور ہماری آئی ٹی برآمدات کی ترقی کو فروغ دیا۔ دیگر افراد نے دفاع سے متعلق منصوبوں میں حصہ لیا اور ایویونکس، ریڈار، سیٹلائٹ امیجنگ اور سائبر دفاع جیسے شعبوں میں نمایاں پیشرفت کی۔ جب پاکستان نے 2025ء میں اپنی فضائی حدود کا کامیابی سے دفاع کیا اور بھارت کے چھ طیارے مار گرائے، جن میں جدید فرانسیسی رافیل طیارے بھی شامل تھے، تو یہ سب اس انسانی سرمائےکی بدولت ممکن ہوا جو اس صدی کے پہلے عشرے میں تیار کیا گیا تھا۔وہ آئی ٹی ماہرین اور انجینئرز، جنہوں نے ہماری دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری اور دیکھ بھال میں کلیدی کردار ادا کیا، وہ انہی اصلاحات کا نتیجہ تھے جو ہم نے شروع کی تھیں۔ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہےکہ 21ویں صدی میں قومی سلامتی کا انحصار علمی سلامتی پر ہے۔2025ء میں مار گرائے گئے بھارتی طیارے صرف ہتھیاروں سے نہیں گرے،بلکہ ان ذہنوںکی بدولت گرے جو دنیا کی اعلیٰ جامعات میں ہمارے تربیتی پروگراموں کے ذریعے تربیت یافتہ اور بااختیاربن چکے تھے۔ بین الاقوامی اداروںجیسے کہ یونیسکو ، عالمی بینکاور اقوامِ متحدہ کا کمیشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی برائے ترقی نے پاکستان کو ترقی پذیر ممالک کیلئے ایک مثالی نمونہ قرار دیا۔مجھے عاجزی کے ساتھ یہ بھی شکریہ کرنا چاہئے کہ دنیا بھر سے اعلیٰ ترین اعزازات اور انعامات حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ آسٹریا کی حکومت نے سائنس اور ٹیکنالوجی کیلئے آسٹرین کراس آف آنر سے نوازا۔ چین کی حکومت نے نہ صرف مجھے غیر ملکی سائنسدانوں کا سب سے بڑا قومی اعزازInternational Science and Technology Collaboration Award دیا بلکہ ہونان جامعہ برائے چینی ادویات میں راقم کے نام سے ایک تحقیقی ادارہ بھی قائم کیا۔ملائیشیا میںجامعہ ٹیکنالوجی مارا نے عطا الرحمٰن ادارہ برائے قدرتی مصنوعات کی دریافت قائم کیا۔ سب سے بڑا ذاتی اعزاز یہ تھا کہ راقم کو لندن کی رائل سوسائٹیکا فیلو منتخب کیا جو دولتِ مشترکہ میں کسی بھی سائنسدان کیلئے بلند ترین اعزاز ہے۔ میں نے ان تمام اعزازات کو کبھی ذاتی کامیابی نہیں سمجھابلکہ انہیں پاکستان اور ان گنت طلباء، اساتذہ، اور ساتھیوں کو خراجِ تحسین سمجھ کر قبول کیا جنکی انتھک محنت نے ان اصلاحات کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ان اصلاحاتکے طویل المدتی اثراتآج بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔آج پاکستان کے پاس سائنسدانوں اور انجینئروں کی ایک فعال اور متحرک برادری موجود ہے جو عالمی سطح پر نمایاں ہے۔ لیکن یہ سفر ابھی شروع ہوا ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت ، بائیو ٹیکنالوجی، کوانٹم ٹیکنالوجیوں ، اور نینو سائنس کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ پاکستان کو اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ ان سائنسی میدانوں کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، لیکن اب ضروری ہے کہ ہم اس ہنرکو استعمال کرتے ہوئے ایک مضبوط ٹیکنالوجی پر مبنی، علم پر مبنی معیشت کی طرف پیش قدمی کریں۔

تازہ ترین