امریکا اور ایران میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے عراقی وزیرِاعظم محمد شیاع السودانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مارکو روبیو نے گفتگو کے دوران داعش سے منسلک قیدیوں کی شام سے عراق منتقلی اور خطے میں بڑھتی ہوئی ایران امریکا کشیدگی پر بات چیت کی ہے۔
مارکو روبیو نے داعش کے جنگجوؤں کی منتقلی اور حراست کے عمل میں عراقی حکومت کے کردار کو سراہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ ہفتے شام کے شہر حسکہ سے 150 قیدیوں کو عراق منتقل کیا ہے جبکہ مجموعی طور پر 7 ہزار افراد کی منتقلی کا منصوبہ ہے۔
امریکا کا یہ اقدام شام میں امریکی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل امریکا کرد قیادت والی ایس ڈی ایف پر انحصار کرتا رہا ہے تاہم بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکا نئی شامی حکومت کے ساتھ شراکت کر رہا ہے۔
ٹیلی فونک رابطے کے دوران مارکو روبیو نے زور دیا کہ عراق کو ایران کے اثر و رسوخ سے دور رہنا چاہیے، ایران کے زیر اثر حکومت عراق کے مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور عراق کے درمیان یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب عراق میں نئی حکومت کی تشکیل متوقع ہے اور سابق وزیراعظم نوری المالکی کی واپسی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کی جانب جنگی بحری بیڑہ روانہ کیا جا رہا ہے جبکہ ایران نے بھی کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں سخت جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، خطے میں عدم استحکام صرف ایران نہیں بلکہ تمام علاقائی ممالک کے لیے خطرہ ہے۔