بالی ووڈ کی سینئر ترین اداکارہ وحیدہ رحمان نے کہا ہے کہ موسیقار اے آر رحمان کو کم کام ملنے کی وجہ مذہب نہیں بلکہ ان کی عمر ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اے آر رحمان کی عمر صرف 59 برس ہے۔ 87 سالہ لیجنڈری اداکارہ نے یہ بات بالی ووڈ میں مذہبی تعصب سے متعلق اے آر رحمان کے بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا اے آر رحمان نے گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران ہندی فلم انڈسٹری میں مذہبی تعصب اور طاقت کے توازن میں تبدیلی کی بات کی تھی۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وحیدہ رحمان نے کہا کہ میں نے اس بارے میں پڑھا ہے، لیکن میں اس میں زیادہ گہرائی میں جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی، جب سب کچھ ٹھیک چل رہا ہو تو میں ایسی باتوں پر توجہ دینا پسند نہیں کرتی، ایسی چھوٹی موٹی باتیں ہر ملک میں ہوتی ہیں۔
وحیدہ رحمان نے کہا کہ ان باتوں پر کتنا یقین کیا جائے، لیکن کیا یہ واقعی سچ بھی ہے یا نہیں؟ ہمیں اس میں پڑنے کی ضرورت ہی کیوں ہے؟ کم از کم میں تو اس عمر میں کسی بھی چیز یا کسی بھی شخص کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتی، سکون سے رہیں، یہ ہمارا ملک ہے، بس خوش رہیں، میں تو یہی کہہ سکتی ہوں۔
انھوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ اے آر رحمان کو کم کام مل رہا ہو، لیکن اس کی وجہ ان کے مذہب سے زیادہ بدلتا ہوا وقت اور عمر بھی ہے۔ کام تو اوپر نیچے ہوتا ہی رہتا ہے۔ ایک عمر کے بعد لوگ کہتے ہیں کہ کسی نئے یا مختلف شخص کو لے آؤ۔ اس مرحلے پر کام ملنے کی صلاحیت بدل جاتی ہے۔ یہ سب وجوہات کچھ لوگوں کے پیچھے رہ جانے کا سبب بن سکتی ہیں۔
وحیدہ رحمان نے کہا اگر وہ بہت اونچائی پر پہنچے ہیں تو کیا وہ وہیں پر رہیں گے، صرف انہی کو لیا جائے گا، ایسا بھی تو نہیں ہوتا، اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
دریں اثنا ہدایت کار و پروڈیوسر رام گوپال ورما نے حال ہی میں فریدون شہر یار کے ساتھ ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران اے آر رحمان کے مذہبی تعصب سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ کے فیصلوں میں اب بھی تجارتی کامیابی ہی بنیادی محرک ہے۔
واضح رہے کہ اے آر رحمان نے اپنے مذکورہ بالا انٹرویو پر بعد ہونے والی تنقید پر ایک بیان میں بھارت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کیا اور اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتے تھے۔