• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اے آر رحمان کے بیان نے بالی ووڈ میں نئی بحث چھیڑ دی

رحمان نے کہا تھا کہ اب وہ لوگ فیصلے کر رہے ہیں جو تخلیقی نہیں ہیں: کولاج بھارتی میڈیا
رحمان نے کہا تھا کہ اب وہ لوگ فیصلے کر رہے ہیں جو تخلیقی نہیں ہیں: کولاج بھارتی میڈیا

اے آر رحمان کے ہندی فلم انڈسٹری میں طاقت کے توازن میں تبدیلی سے متعلق حالیہ بیان نے نئی بحث چھیڑ دی۔

آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار نے انکشاف کیا کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران ان کے پاس آنے والے کام میں کمی آئی ہے، جس کی وجہ وہ فیصلہ سازی کے اختیار میں تبدیلی کو قرار دیتے ہیں۔

رحمان نے کہا تھا کہ اب وہ لوگ فیصلے کر رہے ہیں جو تخلیقی نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تبدیلی میں ایک فرقہ وارانہ پہلو بھی ہو سکتا ہے، اگرچہ اس کا براہِ راست اظہار نہیں کیا جاتا۔ مجھے افواہوں کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے آپ کو بک کیا تھا، لیکن میوزک کمپنی نے آگے بڑھ کر اپنے پانچ کمپوزرز کو رکھ لیا۔

اے آر رحمان جنوبی بھارت سے تعلق رکھنے والے پہلے موسیقار ہیں جنہوں نے ہندی فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور خود کو منوایا۔ انہوں نے اس صورتحال پر ہمیشہ کی طرح پُرسکون ردِعمل دیا اور کہا کہ یہ تو بہت اچھا ہے، میرے لیے آرام ہی سہی، میں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزار سکتا ہوں۔

رحمان کے ان تبصروں پر ردِعمل دیتے ہوئے معروف گلوکار ہری ہرن نے کہا کہ موجودہ نظام نہ مکمل طور پر سیاہ ہے اور نہ ہی سفید۔ یہ ایک گرے ایریا ہے۔ میری واقعی خواہش ہے کہ زیادہ تخلیقی لوگ، یا کم از کم وہ لوگ جو موسیقی کو صحیح معنوں میں سمجھتے ہوں، ایسے فیصلے کریں۔

ہری ہرن نے اس بات پر زور دیا کہ موسیقی کے معاملے میں حساسیت کو تجارتی مفادات پر فوقیت دینی چاہیے۔ آپ کو پہلے تخلیق کے بارے میں سوچنا چاہیے اور بعد میں پیسے کے بارے میں۔ اگر فن میں صرف پیسے کو ترجیح دی جائے تو پھر مستقبل کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

موسیقار اور گلوکار لیسلی لیوس نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ طاقت کا توازن ضرور بدلا ہے، تاہم ان کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی قدرتی طور پر آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہا کہ خود میوزک انڈسٹری میں تبدیلی آئی ہے۔ اب صرف پرانے کھلاڑی نہیں رہے۔ نئے خیالات کے ساتھ نئے لوگ آئے ہیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے پورا منظرنامہ بدل دیا ہے۔

لیوس نے نشاندہی کی کہ یوٹیوب اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نے فنکاروں کو اپنا ہی لیبل بننے کا موقع دیا ہے، جس سے پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، لیکن فیصلہ سازی مزید کارپوریٹ ہو گئی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پہلے ہمیں جانچنے والے لوگ تجربہ اور تخلیقی حس رکھتے تھے۔ آج یہ سب کچھ بہت کارپوریٹ ہو چکا ہے۔ فیصلہ کرنے والا اکثر اپنی ملازمت کو محفوظ رکھنے کے بارے میں سوچتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ موسیقی سے محبت کرتا ہو، لیکن ہمیشہ یہ تجربہ نہیں رکھتا کہ صحیح فنکار کا انتخاب کر سکے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید