وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بند کمروں کے فیصلے سے لوگ دل برداشتہ ہوگئے ہیں۔
اسمبلی اجلاس سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے اور اس کے عوام کے لیے کسی کے ساتھ بھی بیٹھنے کو تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے خیبر پختونخوا کے عوام کو سہولیات فراہم کرنی ہے، بند کمروں کے فیصلے سے لوگ دل برداشتہ ہوگئے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ ایک بار پھر تیراہ کے لوگوں کا جبری انخلاء کیا جارہا ہے، مجھے ہرانے کے لیے تیراہ میں آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ جبری انخلاء ہوا تو میں تیراہ گیا، لوگوں نے مجھے عزت دی، ہم حل بھی دیتے ہیں، آپ کیوں بضد ہیں، تمام اسٹیک ہولڈر کےساتھ مل بیٹھیں۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ ان سے غلطی ہوگئی کہ شدید سردی میں لوگوں کا انخلاء کیا تو کل اس پر پریس ریلیز جاری کی، پریس ریلیز میں 4 ارب کا ذکر کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کے ذمے ہمارے 4 ہزار 758 ارب روپے بقایا ہیں، جو نہیں دیے جا رہے، ملک دیوالیہ ہوتا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ وفاق 52 ارب روپے کا ہمارے آئی ڈی پیز کا مقروض ہے، یہ ہمیں کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں، اب تحریری رابطہ ہوگا۔