وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی طور پر لازم وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے خط میں واضح کیا ہے کہ وفاقی رقوم کی منتقلی میں مسلسل تاخیر صوبے کو شدید مالی بحران سے دوچار کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں صوبائی گورننس، بجٹ عمل درآمد اور عوامی خدمات کی فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں نشاندہی کی کہ صوبائی بجٹ آئینی مالی حقوق اور متوقع وفاقی ریلیزز کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، تاہم عملی طور پر اصل ریلیز بجٹ اہداف سے نمایاں طور پر کم رہی ہیں۔
انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب روپے کے مقابلے میں اب تک صرف 604 ارب روپے موصول ہوئے ہیں، جس کے باعث 54 ارب روپے کا واضح شارٹ فال پیدا ہوا ہے، جس نے کیش مینجمنٹ اور ترقیاتی و سماجی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو شدید متاثر کیا ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے اس امر پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ ہے اور قومی سطح پر بھاری اخراجات برداشت کر رہا ہے۔
انسداد دہشت گردی، سیلاب سے بحالی، عارضی طور پر بے گھر افراد کی دیکھ بھال اور امن و امان کے قیام جیسے امور پر آنے والا مالی بوجھ غیر منصفانہ طور پر صوبے پر ڈالا جا رہا ہے، جو درحقیقت قومی ذمہ داریاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیٹ ہائیڈل منافع، آئل اینڈ گیس رائلٹیز اور این ایف سی منتقلیاں آئینی واجبات ہیں اور معمول کی ماہانہ این ایف سی منتقلی روکنا نہ صرف آئین بلکہ کوآپریٹو فیڈرلزم کی روح کے بھی منافی ہے۔
خط میں وزیراعلیٰ نے ضم شدہ اضلاع کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان اضلاع کے لیے صوبائی سطح پر 292 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جبکہ وفاق کی جانب سے اب تک صرف 56 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، وفاقی سطح پر تاخیر نے انضمام کے مقاصد کو نقصان پہنچایا ہے اور اس سے قومی یکجہتی بھی کمزور ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی واجبات کی فوری اور غیر مشروط ادائیگی یقینی بنائی جائے کیونکہ مزید تاخیر صوبے پر مالی دباؤ میں اضافے کا باعث بنے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ این ایف سی منتقلی، نیٹ ہائیڈل منافع، تیل و گیس رائلٹیز اور ضم شدہ اضلاع کے فنڈز آئینی تقاضوں کے مطابق فوری طور پر جاری کیے جائیں۔
خط کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم کی فوری اور ذاتی توجہ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس معاملے میں مزید تاخیر صوبے پر مزید مالی دباؤ کا باعث بنے گی۔