اب تک پاکستان کے کسی سیاسی خاندان نے پاکستان کیلئے اتنی خدمات سر انجام نہیں دیں جتنی بھٹو خاندان نے دی ہیں۔ بھٹو خاندان کی چند اہم خدمات مندرجہ ذیل ہیں (1) بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا اس کی وجہ سے امریکا بھٹو کا بہت مخالف ہوا اور جس کے نتیجے میں امریکا کے دباؤ میں پاکستان میں مارشل لا کے ذریعےاسکی پھانسی کا فیصلہ ہوا۔ (2) بھٹو نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی جس میں کئی ملکوں کے سربراہوں نے شرکت کی جن میں خاص طور پر شاہ فیصل، لیبیا کے کرنل قذافی، شام کے حافظ اسد وغیرہ شامل تھے۔
اس کانفرنس کے دوران بھٹو نے مسلم ممالک کے چند اہم رہنماؤں کا ایک اجلاس منعقد کیا جس میں مسلم ممالک کی بابت اتفاق رائے سے ایک اہم فیصلہ کیا گیاکہ جو مسلم ممالک سمندر سے ملحق ہیں وہ سمندر کے منسلک حصے سے نکالنے والے تیل کا نرخ خود مقرر کریں گے اور پھر ایسے ہی کیا گیا۔ اس سے قبل اس تیل کا نرخ ہمیشہ امریکا مقرر کرتا تھا۔ اس فیصلے کے بعد امریکہ بھٹو کے اتنا خلاف ہوگیا کہ اس نے شاہ فیصل پر دباؤ ڈالا کہ وہ بھٹو کی پھانسی کے سلسلے میں حمایت اور مدد کرے۔
(3) بھٹو کی حکومت نے اسٹیل مل قائم کی جس کے نتیجے میں پاکستان کی صنعتوں میں تیار ہونے والے مال کی برآمد میں کافی مدد ملی مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب اسٹیل مل کا جو حشر ہوا ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔
(4) پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں بنگلا دیش آزاد ہوگیا اور پاکستان کے 90ہزار جنگی قیدی ہندوستان کے قبضے میں تھے، جبکہ جنگ کے نتیجے میں پاکستان کا ایک وسیع علاقہ ہندوستان کے قبضے میں آگیاتھا مگر بھٹو صاحب نے ہمت نہیں ہاری، اندرا گاندھی سے بات چیت کے لئے بھٹو صاحب ہندوستان گئے، وہ اس دورے میں اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کو بھی ساتھ لے گئے۔ اس دورے میں بھٹو صاحب اور اندرا گاندھی کے درمیان بات چیت کے کئی دور ہوئے۔ آخر میں دونوں ملکوں میں معاہدہ ہوگیا۔ یہ معاہدہ عالمی تاریخ کا ایک لاثانی اور منفرد معاہدہ تھا حالانکہ عام تصور یہ تھا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوپائے گا اور بھٹو صاحب ناامید ہندوستان سے واپس آئیں گے۔
اس معاہدے کے تحت ہندوستان نے بغیر شرط کے 90 ہزار جنگی قیدی بھی پاکستان کو واپس کردیئے اور جو بھی علاقہ ہندوستان کے قبضے میں آگیا تھا وہ پاکستان کو واپس لوٹا دینے کا اعلان کردیا گیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق بھٹو نے بات چیت کے دوران ایسے دلائل دیئے کہ اندرا گاندھی بہت متاثر ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو نے اندرا سے بات چیت کرتے ہوئے ایک دلیل یہ دی کہ خوش قسمتی سے اس وقت ہم دونوں ملکوں میں سویلین حکومتیں ہیں اس وجہ سے ہمیں ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے ورنہ اگر کسی ایک ملک میں بھی غیر سیاسی حکومت ہوتی تو ایک دوسرے کیلئے بڑا نقصان ہوسکتا تھا۔ اندرا گاندھی بھٹو صاحب سے کتنا متاثر ہوئیں اس کی ایک مثال میں یہاں دے رہا ہوں۔
اس عرصے کے دوران ہندوستان کے چند صحافی پاکستان کے دورے میں سب سے پہلے کراچی پہنچے، وہ کراچی پریس کلب بھیآئے جہاں کراچی کے صحافی ان سے مل کر بہت خوش ہوئے اور کلب کے صدر نے ان کو ڈنر پر مدعو کیا۔ کلب کی گورننگ باڈی نے اس ملاقات میں چند اور صحافیوں کے علاوہ مجھے بھی مدعو کیا۔ ہندوستانی صحافیوں کے آنے کے بعد ایک کمرے میں ان کیساتھ ہماری دلچسپ گفتگو ہوئی۔ جب بھٹو صاحب کا ذکر نکلا تو ایک صحافی نے کہا کہ بھٹو صاحب کے حوالے سے وہ ایک اہم انکشاف کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکثر غیر ملکی دورے کرتے ہیں اور ان کے کچھ ملکوں کے سربراہوں سے اتنے گہرے تعلقات ہیں کہ وہ اکثر ان کے مہمان ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار ان کا لیبیا جانا ہوا جہاں وہ لیبیا کے سربراہ کرنل قذافی کے مہمان تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایک بار قذافی سے بات چیت کے دوران ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر نکلا تو قذافی نے مجھے کہا کہ رک جاؤ یہ کہہ کر وہ کمرے میں گئے جہاں انہوں نے الماری کھولی اور وہاں سے ایک فائل لے کر آئے اور مجھے وہ فائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ پڑھو اس میں ایک خط ہے جو ہندوستان کی سربراہ اندرا گاندھی نے مسلم ممالک کے سربراہوں کو بھٹو صاحب کے بارے میں لکھا ہے۔ ہندوستان کے صحافی نے کہا کہ جب میں نےوہ خط پڑھا تو مجھے بہت حیرت ہوئی ۔ اندرا گاندھی نے اس خط میں مسلم ممالک کے سربراہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ پاکستان کےسابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سخت خطرے میں ہیں۔ ان کو جنرل ضیاء کی مارشل لا حکومت نے پھانسی کی سزا کا فیصلہ عدالت سے دلوا دیا ہے جس پر کسی وقت بھی عمل ہوسکتا ہے۔ اندرا گاندھی نے کہا کہ اس بات پر وہ بہت پریشان ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتیں کہ بھٹو کو پھانسی دیدی جائے۔ بھٹو تیسری دنیا کے لئے ایک اثاثہ ہیں۔
اس سلسلے میں وہ آواز بھی نہیں اٹھا سکتیں کیونکہ اگر انہوں نے ایسا بیان دیا تو جنرل ضیاء بھٹو کو دوسرے دن پھانسی کے تختے پر لٹکا دےگا۔ اسی لئے وہ سارے مسلم ممالک کے سربراہوں کو یہ خط لکھ کر درخواست کررہی ہیں کہ وہ بھٹو کو پھانسی سے بچانے کیلئے پاکستان کی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ اس مرحلے پر میں یہ بات بھی کرتا چلوں کہ بھٹو صاحب پاکستان میں تیسری دنیا کے سربراہوں کا اجلاس بلانا چاہتے تھے وہ مسلم اورکچھ افریقی ممالک کے سربراہوں کے ساتھ رابطے میں تھے ان میں خاص طور پر کرنل قذافی اور سوئیکارنو شامل تھے۔ان کی یہ کوششیں کامیاب ہوگئی تھیں اور وہ اس سلسلے میں اعلان کرنے والے تھے کہ ان کی حکومت ختم کردی گئی ۔