برطانیہ کے سابق چانسلر ساجد جاوید نے اپنے والدین جیسے افراد کی برطانیہ آمد کی مخالفت کرکے تنازع کھڑا کر دیا۔
برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت وہ اپنے غیر ہنر مند والد یا انگریزی نہ بولنے والی والدہ کو بھی برطانیہ میں بسنے کی اجازت نہ دیتے۔
برطانوی جریدے سنڈے ٹائمز کو انٹرویو میں اُنہوں نے اپنی زندگی کے سفر کا احوال بیان کیا، جس میں غربت، گھریلو تشدد اور نسل پرستی سے لے کر کروڑ پتی بینکر بننے، وزیر خزانہ بننے اور بعد ازاں وزیر داخلہ تک کا سفر شامل ہے۔
سیاسی طور پر ساجد جاوید بریگزٹ کے بعد پوائنٹس کی بنیاد پر امیگریشن پالیسی کے حامی رہے ہیں، اُن کا ماننا ہے کہ برطانیہ غیر ہنرمند تارکین وطن کو ملک کے اندر بہت زیادہ آنے دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی معاشرے میں انضمام کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ زبان ہے، برطانیہ میں رہائش اختیار کرنے والوں کے لیے روانی سے انگریزی بولنے کی شرط پہلے ہی رکھ دینی چاہیے تھی۔
انٹرویو میں ساجد جاوید نے بتایا کہ اُن کے والدین 1960 کی دہائی کے شروع میں پاکستان سے برطانیہ آئے تھے، والد نے بس ڈرائیونگ کی، فیکٹری میں کام کیا اور دکان چلائی جبکہ اُن کی والدہ انگریزی نہ جاننے کے باعث سماجی مشکلات کا شکار رہیں۔
اپنی حالیہ خود نوشت میں جاوید لکھتے ہیں کہ اُن کا بچپن معاشی تنگی، خاندانی تناؤ اور گھریلو تشدد سے عبارت تھا، اُنہیں اسکول میں سفید فام نسل پرستی اور غنڈہ گردی کا سامنا کرنا پڑا۔
اُن کی والدہ دو سال تک اُن کی مسیحی اہلیہ Laura سے ملنے سے انکار کرتی رہیں، وہ اپنے شوہر کے ساتھ کام کرنے والے 2 سیاہ فام مزدوروں کو گھر کھانے پر بلانے پر اعتراض کرتیں، لیکن بعد میں جب انہوں نے انگریزی سیکھی تو اپنے تعصب پر پچھتاوا ظاہر کیا، اُن کے والد نے بھی بعد میں جاوید سے اپنے ماضی کے رویوں پر معافی مانگی۔
انٹرویو لینے والے نے لکھا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود ساجد جاوید کی فیملی کی کہانی استقامت کی ہے، اُنہوں نے اپنے والدین کے لیے بریسٹل میں گھر خرید کر اپنے بچپن کا خواب پورا کیا۔