• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصری دار الافتاء نے قرآن مجید کی تفسیر کیلئے اے آئی کے استعمال کو ممنوع قرار دیدیا

مصری دارالافتا میں جاری ایک لیکچر کا منظر(تصویر سوشل میڈیا)۔
مصری دارالافتا میں جاری ایک لیکچر کا منظر(تصویر سوشل میڈیا)۔

مصری دار الافتاء نے قرآن مجید کی تفسیر کیلئے مصنوعی ذہانت اپلیکیشنز کے استعمال کو ممنوع قرار دے دیا۔

ایک سائل کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مصری دار الافتاء کا کہنا ہے کہ قرآن پاک کی تفسیر کے لیے مصنوعی ذہانت اپلیکیشنز، جس میں چیٹ جی پی ٹی بھی شامل ہے، پر اعتماد کرنا شرعی لحاظ سے ممنوع ہے۔

مصری دار الافتاء نے مزید کہا کہ کیونکہ قرآن شریف کو سمجھنے کے لیے قیاس آرائی، تخمینوں، غیر مستند ذرائع اور معلومات پر انحصار کرنے والی مصنوعی ذہانت سے معاشرے میں شرعی اور تحقیقی فساد اور غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت اپلیکیشنز کسی مستند ذرائع پر انحصار نہ کرنے سے گمراہ کن اور غیر مستند معلومات پھیلنے سمیت غلط فہمیاں پیدا ہونے کا قوی خدشہ ہے۔

مصری دار الافتاء نے قرآن پاک کی تفسیر جاننے کے لیے مستند تفاسیر، باوثوق مفسرین، علمی شخصیات اور دینی اداروں سے رجوع کرنے پر زور دیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید