• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بظاہر تو کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع شاپنگ مال ’’گل پلازہ‘‘ کی آگ بجھ گئی، مگر 73جیتے جاگتے انسانوں کا المناک موت سے دوچار ہونا ایسا المیہ ہے جسکی سوزش عرصے تک محسوس ہو گی۔ گل پلازہ کی آگ بہت سے خاندانوں کےقلب و ذہن پر مرتب ہونیوالے شدید غم والم کے اثرات، اپنے پیاروں سے جدائی کے صدمے، مالی مشکلات کے سائے، مستقبل کے خدشات و خطرات کی ایسی کیفیت چھوڑ گئی جس سے باہر آنے میں وقت لگے گا۔ شہری پریشان ہیں کہ عشروں سے آگ لگنے اور جانی و مالی نقصانات کا سلسلہ جاری ہے، مگر تحقیقاتی کمیٹیاں بننے، معاوضوں کی ادائیگی کے اعلانات اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے موثر اقدامات کی یقین دہانیوں سے آگے بڑھکر انتظامی سطح پر ٹھوس اقدامات برسرزمین نظر نہ آرہے ہوں تواس بارکیسے سمجھا جا سکتا ہے کہ آگ واقعی بجھ گئی اور جانوں کے اتلاف کا سلسلہ رک گیا ہے۔ جہاں صورت یہ ہو کہ ہفتہ 17؍ جنوری 2026ءکی رات کو بھڑکنے والی آگ پر 33گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد پیر 19؍جنوری کو بمشکل قابو پانے کی اطلاعات کے چند گھنٹے گزرے ہی تھے کہ منگل کے روزشہر قائد میں نارتھ ناظم آباد سخی حسن کے قریب قائم کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن ،ریگل سولر مارکیٹ میں قائم 7منزلہ رہائشی عمارت کے فلیٹ، سائٹ (صنعتی علاقے) کی نئی سبزی منڈی کے شیڈ پر آگ لگنے کی خبریں آگئیں۔بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں لیاقت بازار کے چار منزلہ تجارتی پلازہ میں اور بعدازاں صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے گلبرگ کے علاقے میں19منزلہ ہوٹل میں آگ کے بھڑکنے کی خبر (3 اموات، 180ریسکیوڈ) آگئی ۔ایسی اطلاعات کا تسلسل ہوتو خدشات کے سایوں کا چھٹنا آسان معلوم نہیں ہوتا۔مذکورہ مقامات پر آگ کا بھڑکنا فی الواقع اس امر کی نشاندہی ہے کہ ان مقامات پر آگ بجھانے کے آلات سمیت ضروری انتظامات ہر اعتبار سے مطلوب سطح پر رکھے جانے کی ضرورت تاحال برقرار ہے۔ جانی و مالی نقصان کم ہونے یا نہ ہونے پر ریسکیو عملے کو اس کی مستعدی پر سراہانہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعہ 23؍ جنوری کو سندھ اسمبلی میں جو بیان دیا اس میں سانحہ گل پلازہ کے تمام ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطلب اگر وسیع معنوں میں یہ ہے کہ سرکاری دفاتر میں رشوت لے کر ناجائز کام کرنے ،مثلاً بلا تحقیق کلیئرنس دینے وغیرہ کا اور جائز کاموں میں رشوت لئےبغیر رکاوٹیں ڈالنے کاکلچر ختم کرنے پر توجہ دی جائے گی تو بہت سے دوسرے سنگین حادثوں اور مسائل سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے تمام امدادی اداروں کوایک کمان میں (ایک ہی اتھارٹی کے تحت) دینے کے جس فیصلے کا اعلان کیا اسے اتوار 25؍جنوری کو ان کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی گئی ہدایات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو یہ امر واضح ہوتا ہے کہ سندھ کی تمام سرکاری، نجی، کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کی ہدایت کے ساتھ عمارتوں کو آگ سے بچاؤ کے جدید نظام سے لیس کرنےسمیت حفاظتی معیارات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اس وقت کی صورت حال متقاضی ہے اس بات کی کہ گل پلازہ کی آگ سے متاثر ہونیوالے شہریوں اور دکانداروں کی دل جوئی کی جائے، ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے اور جس قدر جلد ممکن ہو، دکانداروں کو اپنا کاروبار دوبارہ شروع کرنے میں معاونت دی جائے۔ شعبان کا مہینہ شروع ہوچکا ہے۔ اس کے بعد رمضان المبارک عید کی خریداری کا خاص موجود ہیں۔ اس ضمن میںیہ رائے قابل عمل محسوس ہوتی ہے کہ صدر میں واقع پارکنگ پلازہ ان دکانداروں کو فوری طور پر منتقل کرنے کیلئے مناسب جگہ ہوسکتی ہے۔ اس طرح برسوں سے ناکارہ پڑی اس بڑی عمارت کا درست مصرف نکل آئے گا جبکہ بے روزگاری اور مشکل حالات سے دوچار دکانداروں کو فوری طور پر سہارا دینا بھی ممکن ہوگا۔ سندھ کی حکومت کے پاس اس باب میں جو بھی مناسب آپشن موجود ہو، اسے روبہ عمل لانے میں جتنی عجلت کی جائے گی اتنی ہی پریشان حال اور غمزدہ دکانداروں کی دل جوئی ہوگی۔ ایسی صورت حال میں کہ ایک طرف ملک کو دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے، دوسری جانب پڑوسی ملک سے آنے والے اشارے سیکورٹی کے حوالے سے چوکنا رہنے کی ضرورت اجاگر کررہے ہیں، تیسری طرف ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سر پر منڈلاتے محسوس ہوں تو نہ صرف صوبائی سطح پر تمام حلقوں کے ساتھ ملکر سوچ بچار ضروری ہے بلکہ ملکی سطح پر ایسا مشترکہ موقف سامنے آنا چاہیے جس سے ہر قسم کے چیلنجوں سے نمٹنے کا مضبوط عزم نمایاں ہو۔

اس ضمن میں انتظامی سطح پر گورننس بہتر بنانے کی سنجیدہ کوششوں کے علاوہ تعلیمی اداروں کی سطح پر اسکاؤٹنگ ، گرل گائیڈز ، فرسٹ ایڈ، شہری دفاع اور فائر فائٹنگ کی ابتدائی تربیت کا طریقہ بحال کرنے اور اسے محلوں، گلیوں، یونین کونسلوں کی سطح پر مستقل شکل دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہنگامی ضروریات میں فوری طور پر ایسے اقدامات بروئے کار لائےجا سکیں جوخطرات کو سنگینی کی طرف جانے سے روکنے میں معاون ہوں۔ ان امور پر آج کے مخصوص حالات میں توجہ مرکوز کرنے کی بطور خاص ضرورت ہے۔ بلدیاتی نظام کا متحرک اور فعال رہنا ہر ہنگامی صورت حال میں ملک کے ہر حصے کے لئے ضروری بھی ہے اور جمہوری نظام کی ضرورت بھی اسے کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ فائر سیفٹی کا شعبہ موجودہ حالات میں بالخصوص بڑے شہروں کیلئے خاص اہمیت کا حامل بن چکا ہے۔ عمارتوں کو آگ کے خطرے سے بچانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل فائر آڈٹ اور آن لائن سرٹیفکیٹ کا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ اس وقت، کہ گل پلازہ کی آگ بجھی محسوس ہو رہی ہے ہمارے اداروں کے عملی اقدامات ہی یہ بتاسکتے ہیں کہ کیا ہم اس سانحے کے بعد جاگے ہیں، یا کسی اور سانحے کے منتظر ہیں؟

تازہ ترین