• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ورلڈ اکنامک فورم کے منعقدہ اجلاس ڈیوس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کیساتھ ہونیوالی ملاقات کے دوران ای ایف ایف بیل آوٹ پیکج کے تحت ہونیوالی معاشی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ ملاقات کے دوران آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے معاشی اصلاحات پر وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کی تعریف کی۔ اسی نوعیت کی تعریف 2017ء میں نواز شریف کی حکومت کی بھی کی گئی تھی۔ آئی ایم ایف کا موجودہ پروگرام ای ایف ایف (EFF)کے تحت اپنا آدھا عرصہ مکمل کر چکا ہے اس پروگرام کے ذریعے پاکستان نے بنیادی معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے جس کے تحت ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً تین ماہ کے درآمدی بل کو فنانس کرنے کے قابل ہو چکے ہیں، معاشی گروتھ تین فیصد کی حد کو چھو چکی ہے افراط زر سنگل ڈیجٹ میں ہے۔ اس وقت پاکستان کی معاشی ٹیم آئی ایم ایف سے نرم شرائط کے تحت موجودہ پروگرام کے باقی عرصہ کیلئے درخواست کی خواہش رکھتی ہے، معاشی ٹیم کے قریبی ذرائع عندیہ دے رہے ہیں کہ پاکستان اگلے بجٹ 2026-27 ءکیلئے آئی ایم ایف سے رعایتیں حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے اس حوالے سے بات چیت کی گئی ہے لیکن اس امر کا صحیح اندازہ آئندہ ہونیوالے جائزہ اجلاس کے دوران ہی ہوگا ۔

پاکستان کی معاشی ٹیم آئندہ چند ہفتوں ہیں آئندہ بجٹ ترجیحات کا تعین کریگی۔ اس وقت معاشی ٹیم ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی کی خواہشمند ہے۔ اگلے مالی سال کے دوران سپر ٹیکس کی شرح میں کمی کی کوشش کی جائیگی اسکے علاؤہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کی درخواست کی جائے گی ۔ علاوہ ازیں تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس ریٹ میں کمی کی خصوصی درخواست آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کے سامنے رکھی جائیگی لیکن آئی ایم ایف کا جائزہ مشن اس بات کا اشارہ کر سکتا ہے کہ پاکستان میں زرعی انکم ٹیکس اور پرچون فروشوں پر ٹیکس میں کیسے اضافہ کیا جا سکتا ہے اسکے علاوہ پراپرٹی پر ٹیکسوں کی شرح پر بھی آئ ایم ایف سوالات اٹھا سکتا ہے مزید برآں اخراجات میں کمی کے حوالے سے بھی IMF کے سامنے ایک قابل عمل پروگرام رکھنا پڑیگا۔ اس وقت حکومت نے NFC کی تشکیل نو کر دی ہے اور ایک اجلاس بھی منعقد کر لیا لیکن دوسرا اجلاس ابھی تک نہیں بلایا گیا ۔ دوسری جانب اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے جس میں مختلف حساس نوعیت کی تبدیلیوں کے بارے میں پیش گوئیاں کی جارہی ہیں۔آئی ایم ایف کو اخراجات اور ریونیو میں توازن کیلئے ایک جامع اور قابلِ عمل پروگرام کیلئے لائحہ عمل دینا پڑے گا اس ضمن میں پنشن اصلاحات ، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور بی ائ ایس پی کے اخراجات میں صوبوں کے اوپر زمہ داریاں ڈالی جاسکتی ہیں۔پاکستان کی معیشت پر بیرونی اکاؤنٹ کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت بھی پریشانی کا باعث ہے۔ موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 19.2 بلین ڈالر کو کراس کر چکا ہے۔ ایک محتاط تخمینے کے مطابق ملک کا تجارتی خسارہ 40$ سے 44$ ارب ڈالر کے درمیان ہونے کے امکانات ہیں۔ کرنٹ اکاونٹ خسارہ جو پچھلے سال سر پلس تھا اس موجودہ مالی سال کے دوران 2.2$ ارب ڈالر ہو سکتا ہے۔ دانشمندی نہ دکھائی گئی تو ممکن ہے اگلے سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بے قابو ہو جائے ۔ اگر ماضی کے واقعات کو سامنے رکھا جائے تو ہر دفعہ IMF کے پاس جاکر معاشی استحکام حاصل کرنا پڑا تاہم یہ کبھی بھی دیر پا ثابت نہیں ہوا۔ اگر ماضی سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہے تو اس بار کچھ الگ کرنا پڑے گا لیکن معاشی ٹیم پر دباؤ بڑھنا شروع ہوچکا ہے جس کا مطالبہ تاجروں اور صنعتکاروں کی طرف سے زور پکڑ رہا ہے کہ آئ ایم ایف پروگرام کے اندر معیشت کا گلہ گھونٹ دیا گیا ہے اسلئے آئی ایم ایف کے پروگرام کی سخت شرائط کو نرم کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اب معاشی ٹیم کیلئے چیلنج ہے کہ وہ کس طرح پالیسیوں کو تشکیل دے جس کے نتیجے میں برآمدات کو فوقیت حاصل ہو ان کیلئے بجلی، گیس اور ٹیکسوں کی شرح کم ہو جس کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ ہو لیکن درآمدات میں ایک خاص حد سے زیادہ اضافہ نہ ہو۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان کی برآمدات 30 سے 32 بلین ڈالر تک محدود رہیں جبکہ درآمدات پر سے ہر قدغن ہٹاءے جانے سے یہ75$ سے 78$ ارب ڈالر پہنچ سکتی ہیں۔ اس تناظر میں حکومت وقت یہ دعوے کر رہی ہے کہ موجودہ ای ایف ایف (EFF) اور آر ایس ایف (RSF) پروگرام آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ثابت ہوں گے۔ اس کے برعکس معاشی حقائق دوسری سمت کی جانب بھی گامزن ہیں۔ اس وقت نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کا مینڈیٹ ہے کہ اس نے ایسی پالیسیاں اور روڈ میپ تشکیل دینے ہیں جن کے ذریعے موجودہ IMF پروگرام کو آخری پروگرام قرار دیا جائے، اب تک حکومت نے اس خواہش کو پورا کرنے کیلئے برآمدات کا ہدف 60$ ارب ڈالر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے کاروبار کے اخراجات میں کمی اور برآمدات کو بڑھانے کی ازحد ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی بنیاد کو بھی وسیع کرنا پڑیگا۔ آئندہ چند ماہ اس حوالے سے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی جائزہ ٹیم فروری / مارچ کے دوران اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے گی اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اگلے مالی سال کا بجٹ کن ترجیحات کی بنیاد پر آئی ایم ایف کیساتھ طے کرتی ہے۔ اگلے بجٹ کا تعین پاکستان کے معاشی روڈ میپ کو طے کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔

تازہ ترین