سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختون خوا کے برطرف پولیس اہلکاروں کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی سے متعلق فیصلہ جاری کیا ہے۔ فیصلے میں غلط برطرفی کا شکار ملازمین کو پچھلے تمام واجبات کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے بقایاجات کی ادائیگی کے فیصلے کے خلاف سرکاری اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔
سپریم کورٹ نے پولیس اہلکاروں کی اپیلیں منظور اور خیبر پختون خوا سروس ٹربیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے برطرف پولیس اہلکاروں کو ایک ماہ کے اندر تمام بقایاجات ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کا آغاز نظم کے شعر ’انصاف کا سورج طلوع ہوگا تو اندھیرے چھٹ جائیں گے،‘ سے کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں ولیم شیکسپیئر کا حوالہ ’رزق چھیننا زندگی چھیننے کے مترادف ہے‘ بھی دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیتے ہوئے لکھا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی کی ضمانت دیتا ہے، جس میں روزگار کا تحفظ بھی شامل ہے، غلط برطرفی کا شکار ملازم مکمل واجبات حاصل کرنے کا حقدار ہیں، حاکمیت کے کلچر کے بجائے جواز کے کلچر کی ضرورت ہے، آئین کے تحت ہر سرکاری افسر اپنے ہر فیصلے کا ٹھوس، عقلی اور معقول جواز فراہم کرنے کا پابند ہے، صوابدیدی اختیارات کا استعمال ایک مقدس امانت ہے، ذاتی پسند ناپسند کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق غیر منصفانہ، متعصبانہ یا من مانے فیصلے کرنے والے حکام کے خلاف عدالتی مداخلت ناگزیر ہے، ملازم کا یہ کہنا ہی کافی ہے کہ وہ بیروزگار تھا، اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے در در نہیں بھٹکنا پڑے گا، ملازم کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ثبوت لانا محکمے کی ذمہ داری ہے، نظام کی خرابی یا مقدمے بازی میں طویل تاخیر کی سزا غریب ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔
واضح رہے کہ خیبر پختون خوا پولیس کے برطرف ملازمین کو عہدوں پر بحال کرنے کے بعد پچھلے واجبات روک لیے گئے تھے، خیبر پختون خوا سروس ٹربیونل نے پولیس اہلکاروں کو پچھلے واجبات دینے سے انکار کیا تھا۔
پولیس اہلکاروں نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ وہ بحال ہو چکے ہیں، انہیں تمام واجبات بھی ملنے چاہئیں، محکمۂ پولیس کا مؤقف تھا کہ پچھلے واجبات کی ادائیگی اتھارٹی کی صوابدید ہے۔