• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی: دوران ڈکیتی فائرنگ سے مرنے والے ڈاکٹر آکاش کی موت سے متعلق تحقیقات شروع

کراچی کے علاقے کلفٹن 3 تلوار کے قریب دوران ڈکیتی فائرنگ سے ڈاکٹر آکاش کی موت سے متعلق پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ اہلخانہ نے ملزمان کی گرفتاری تک لاش رکھ کر دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ساؤتھ مہروز علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ ڈاکوؤں اور سیکیورٹی گارڈ کے درمیان فائرنگ سے پیش آیا، شہری گاڑی میں بینک سے رقم نکال کر دوسرے بینک جا رہا تھا، گاڑی میں آکاش کے والد اور کزن موجود تھے۔

ایس ایس پی ساؤتھ مہروز علی کا کہنا ہے کہ گاڑی بینک کے پاس جیسے ہی رکی ڈاکو بھی پیچھے سے آگئے، بینک سیکیورٹی گارڈ نے سمجھا کار میں بھی ڈاکو ہیں، سیکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کی تو ڈاکو نے بھی گولیاں چلا دیں۔

مہروز علی کا کہنا ہے کہ کار میں 25، 25 لاکھ روپے کے دو پیکٹس موجود تھے، ملزم ایک پیکٹ لوٹ کر موقع سے فرار ہوگئے، پولیس کی نفری کرائم سین پر موجود ہے، تفتیش کا عمل جاری ہے، شہری کی موت کس کی گولی سے ہوئی ہے، تحقیقات جاری ہے۔

دوسری جانب نوجوان ڈاکٹر کی میت جناح اسپتال سے سرد خانے منتقل کردی گئی، مقتول نوجوان ڈاکٹر آکاش کے چچا کھیم چند نے کہا کہ بینک کے باہر فائرنگ کرکے بھتیجے کو قتل کیا گیا۔

چچا کھیم چند نے بتایا کہ ڈاکٹر آکاش جناح اسپتال میں دو سال سے ڈیوٹی کر رہے تھے، ان کی عمر 28 سال تھی، جب تک ملزم گرفتار نہیں ہوں گے لاش رکھ کر دھرنا دیں گے۔

قومی خبریں سے مزید