گٹر میں گر کر ماں بیٹی کی ہلاکت پر مریم نواز نے لاہور انتظامیہ کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ کہا کہ اس واقعے اور قتل میں کوئی فرق نہیں۔ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر، منیجر، سیفٹی انچارج اور کنسلٹنٹ کو فوری گرفتار کرنے کا حکم بھی دے دیا۔
سانحہ بھاٹی پر بریفنگ کے دوران مریم نواز نے کہا کہ کمشنر لاہور، ڈی سی، اے سی، ڈی جی ایل ڈی اے اور ایم ڈی واسا بھی برابر کے ذمے دار ہیں، ان سب کو سزا ملنی چاہیے، خصوصاً اسسٹنٹ کمشنر کو سزا ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نااہلی چھپانے کے لیے مجرمانہ کہانیاں گھڑی گئیں۔ اداروں کی غفلت اور نااہلی سے 2 قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔ ساری باتیں بےمعنی ہیں، سوال یہ ہے کہ تعمیراتی جگہ کو سیکیور کیوں نہیں کیا گیا؟
مریم نواز نے کہا کہ خاتون نالے میں تین کلومیٹر دور چلی گئی، لاہور کی انتظامیہ کہتی رہی کہ کوئی گرا ہی نہیں، جو اسسٹنٹ کمشنر تعمیراتی جگہ کا دورہ ہی نہیں کرے وہ کس بات کا اسسٹنٹ کمشنر ہے ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ تعمیراتی کام کے دوران انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، سائٹ پر موجود تمام لوگ واقعے کے ذمہ دار ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے پوچھا کہ جس وقت یہ حادثہ ہوا کیا تعمیراتی کام جاری تھا؟ اگر وہاں روشنی ہوتی تو یہ حادثہ پیش نہ آتا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کو بتایا گیا کہ خاتون کے گرتے وقت رش کی وجہ سے کوئی آواز نہیں سنی گئی، واقعے کی جگہ رکشا پارکنگ کے لیے ٹوکن دیا جاتا تھا، سپروائزر، کنسلٹنٹ اور انجینئرز واقعے کے ذمہ دار ہیں۔
بریفنگ کے مطابق واقعے کی جگہ پر ایمبولینس 4 منٹ بعد پہنچی تھی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا سانحے پر میرا دل انتہائی دکھی ہے، تعمیراتی سائٹ پر انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا اسسٹنٹ کمشنر نے آج تک سائٹ کا دورہ نہیں کیا، تعمیرات کی جگہ پر کسی قسم کی پارکنگ نہیں ہونی چاہیے تھی، پینا فلیکس لگا کر سائٹ بند کی گئی، روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر سمیت تمام ادارے واقعے کے ذمہ دار ہیں۔ مریم نواز نے کہا ہر اجلاس میں واضح ہدایات دی جاتی ہیں کہ کوئی مین ہول کھلا نہ رہے، انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، غیر قانونی پارکنگ پر کسی نے توجہ نہیں دی۔
مریم نواز نے کہا کمشنر لاہور، ڈی سی لاہور، اے سی لاہور، وسا اور ایل ڈی اے کا اتنا ہی قصور ہے جتنا کسی اور کا ہے۔