ایران پر سخت امریکی حملے کا فوری خطرہ تو ٹل گیا تھا مگر ختم نہیں ہوا، ایرانی حکومت امریکیوں کو اس نوع کی یقین دہانی کرواتی دکھائی دی کہ وہ اپنے شہریوں پر مزید تشدد سے گریز کرے گی اور پھانسیوں کا عمل بھی روک دے گی جن کی تعداد 800 سے زائد بیان کی جارہی تھی، ان پر مقدمہ چلانے یا صفائی کا مناسب موقع یا اپیل کا قانونی حق دیے بغیر موت کی سزا کا احتمال تھا۔امریکی فوری حملہ ٹلنے کی بڑی وجہ عرب اتحادی خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات کا سفارتی رول تھا، شاید اسرائیل بھی فوری حملے کے حق میں نہیں تھا اگرچہ ٹرمپ نے اس کا کریڈٹ بھی اپنی امن پسندی کو دیا ہے۔ ویسے بھی امریکی خارجہ پالیسی میں کسی بھی ملک سے معاملات کرتے ہوئے فوجی ایکشن آخری آپشن قرار دیا جاتا ہے جبکہ اولین زور سفارت کاری پر ہوتا ہے۔ ایران میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے شروع ہوتے ہی اندرخانے بحرین کے ذریعے امریکا ایران روابط چل رہے تھے جن کا خود صدر ٹرمپ نے اعتراف کرتے ہوئے ماقبل کہا تھا کہ ایرانی قیادت نے موجودہ صورتحال میں ہمارے ساتھ رابطہ کیا ہے۔ اگر سفارت کاری سے معاملے کا حل نہ نکلا تو امریکا ایران کے خلاف بھرپور حملہ کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایرانی مظاہرین کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ آپ لوگ ایرانی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں بلکہ زمینی کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف اداروں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ آپ کے پاس فضائی حملوں کی صورت امریکی معاونت یا امداد جلد پہنچنے والی ہے۔صدر ٹرمپ کی اس اشیربادپر تنقید کے ساتھ مذمت ہی کی جاسکتی ہے۔ کسی بھی ملک کے احتجاجی عوام کو اس نوع کی کھلی ترغیب دینا انٹرنیشنل لا ہی نہیں سفارتی آداب کے بھی خلاف ہے۔ حکمت عملی کے لحاظ سے بھی یہ ایک احمقانہ فرمائش تھی۔ کیا آپ عام عوام کو اس طرح کسی بھی حکومت وقت کے خلاف بھڑکا یا لڑا کر ان کو مروانا چاہتے ہیں؟ آج پوری دنیا میں ایرانی احتجاجی تحریک کے دوران وسیع پیمانے پر ہونے والی اموات زیربحث ہیں اور ان پر غم و غصے کا اظہارکیاجارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ خود آپ لوگ عام عوام کو ایک بے رحم مسلح حکومتی طاقت سے ٹکرانے کا مشورہ کس برتے پر دیتے ہیں؟
آج ایران میں یہ احتجاجی مظاہرے پہلی دفعہ تو نہیں ہوئے۔ 2009ء 2017ء، 2019، 2022ء میں بھی اسی نوعیت کے مظاہرے ہوئے تھے، جن پر مغربی میڈیا نے اس نوع کے تبصرے کیے کہ ایرانی ملاؤں کی استبدادی حکومت بس گرنے کو ہے لیکن طاقت کے بے مہابا استعمال سے ایرانی حکومت ان مظاہروں کو دبانے یا کچلنے میں کامیاب ہوتی چلی آرہی ہے۔ بلاشبہ اب کی بار یہ عوامی مظاہرے سابقہ تمام ریکارڈز توڑتے ہوئے تشدد کی آخری حدود تک چلے گئے جن میں مرنے والوں کی تعدادمبینہ بارہ یا بائیس ہزار تک بیان کی جارہی ہے، لیکن اس مرتبہ نئی چیز یہ ہوئی ہے کہ یہ احتجاج پرامن رہنے کی جائے پرتشدد ہوگیا اور احتجاجیوں نے بھی نہ صرف یہ کہ حملے کرتے ہوئے مسلح فورسز کے ایک سو چودہ یا حکومتی ذرئع کے مطابق پانچ سو اہلکار مار ڈالے بلکہ اس مرتبہ احتجاج کرنے والوں کے رستے میں آنے والے مذہبی مقامات مساجد اور مزارات کو بھی آگ لگادی گئی۔ دوران احتجاج کئی مقامات پر امریکا اور اسرائیل کے جھنڈے بھی دکھائی دیے جس سے ایرانی حکومت کے اس مؤقف کو تقویت پہنچی کہ یہ سب کچھ امریکیوں اور یہودیوں کا کیادھرا ہے۔ یہ سوال بھی اٹھا کہ اگر اس میں غیر ملکی مداخلت نہیں تھی تو پھر احتجاج کرنے والے کئی لوگوں کے پاس اسلحہ کہاں سے آیا جو انہوں نے فورسز کے خلاف استعمال کیا؟ ان سوالات میں بلاشبہ وزن ہے اور اس نوع کی اطلاعات بھی ہیں کہ عراق اور ترکی کی طرف سے ایرانی انقلاب کے کرد مخالفین بھی ایران میں داخل ہوئے کیونکہ کرد علیحدگی پسند ترکی اور عراق کے علاوہ شام اور ایران میں بھی خاصی تعداد میں بستے ہیں اور وہ اپنی الگ کرد ریاست کے لیے جدوجہد کرتے چلے آرہے ہیں جس کے حصے کردوں کے بقول ان چاروں ممالک نے آپس میں بانٹ رکھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی اور عراق کی حکومتوں نے اپنے ان مخالفین کے ایران میں گھسنے یا نقل و حرکت کی فوٹیج اور اطلاعات فوری طور پر ایرانی حکومت کو دیتے ہوئے تہران کی معاونت کی ۔دوسری طرف احتجاجی تحریک اگرچہ تہران کے تاریخی گرینڈ بازار کے تاجروں یا کاروباری طبقات نے شروع کی تھی جو آگ کی طرح اکتیس میں سے کم از کم پچیس صوبوں میں فوری طور پر پھیل گئی یہ احتجاجی تحریک درحقیقت ایران میں ناقابلِ برداشت حد تک بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف تھی جہاں ایرانی ریال کی ویلیو اس قدر گرچکی ہے کہ ایک ڈالر کے بالمقابل سترہ لاکھ ریال درکار ہوتے ہیں اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ اس حالت میں کھانا پکانے والا تیل تو رہا ایک طرف سادہ روٹی کی قیمت کیا ہوگی؟احتجاج بنیادی طور پر معاشی بدحالی یا مہنگائی کے خلاف عوامی مشکلات کے خلاف عام آدمی کا ابال تھا جسے حکومتی تشدد نے رجیم چینج کے نعرے تک پہنچا دیا۔ایرانی احتجاجیوں نے جتنی بھی بے اعتدالیاں کی ہیں یا اپنی جدوجہد کو پرامن رکھنے کی بجائے تشدد کی حدود تک چلے گئے ہیں جو یقیناً قابلِ مذمت ہے لیکن اسے اس تناظر میں سمجھا جانا چاہیے کہ اس وقت ایرانی عوام میں حکومت کے خلاف جو بھڑاس ہے وہ کسی باوقار، دانشمند یا پاپولر قومی قیادت سے محرومی کا شکار ہے۔ نصف صدی بعد ایرانی عوام کو بھلا بادشاہت لوٹانے میں کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟ جو مظلوم لوگ اسلامی استبداد سے نک و نک آئے ہوئے ہیں بھلا وہ کسی شاہی استبداد کو واپس لانے یا قبول کرنے پر کیسے تیار ہوسکتے ہیں؟ یہ تو بیچارگی و بے بسی کی آخری حد ہے جو کچھ دکھی لوگ شاہ کے بیٹے رضا شاہ دوئم کا نام بطور کراؤن پرنس لیتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ کوئی تو ہو جو ہمیں لیڈ کرے۔