• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پارلیمنٹ ڈسپنسری کو 30 فیصد سستی دوا کی فراہمی پر سوال اٹھ گیا

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پارلیمنٹ ڈسپنسری کو 30 فیصد سستی دوا کی فراہمی پر سوال اٹھ گیا، ڈرگ ریگولیٹری اتھارتی سے معاملے کی وضاحت مانگ لی گئی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس ہوا، اس دوران عالیہ کامران نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ کی ڈسپنسری کو 30 فیصد سستی دوا فراہم کی جاتی ہیں، معاملہ کیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اس معاملے کی وضاحت کرے۔

سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبیداللّٰہ نے کہا کہ ہم نے دو مراحل میں ٹیسٹ کےلئے ادویات کے نمونے لیے، 36 نمونے میں سے 19کے رزلٹ کا انتظار ہے، باقی سب کلیئر ہیں، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ وفاقی حکومت نے روک لیا ہے۔

اس پر عالیہ کامران نے کہا کہ پولی کلینک کے ڈاکٹرز خود مانتے ہیں کہ ہماری ادویات معیاری نہیں، ڈریپ کا جواب ہے ہر دوا موثر ہے۔

وفاقی سیکریٹری صحت نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ڈسپنسری کو وسیع کرنے کی سفارش کردی ہے۔

کمیٹی چیئرمین نے نرسنگ کونسل بل پر سینٹ، قومی اسمبلی قائمہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز دی اور کہا کہ پرانے ایکٹ اور آرڈیننس کو زیر بحث لایا جائے۔

اس پر سیکریٹری صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ نرسنگ کونسل کی عبوری کونسل وزیراعظم کی سمری سے بنی، اجلاس بلانتیجہ رہا، الیکشن کے عمل میں مسائل درپیش آئے۔

چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ کیا نرسنگ کونسل وزیر اعظم سے بھی طاقتور ہے؟ اور بتایا کہ نرسنگ کونسل کی سابق سیکریٹری یاسمین آزاد کو ہٹا دیا گیا ہے۔

اس پر عالیہ کامران نے کہا کہ اس اقدام پر اجلاس کے شرکاء ڈیسک بجادیں۔

دوران اجلاس اسپیشل سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری نے کمیٹی کو نرسنگ کونسل پر بریفنگ دی اور بتایا کہ مجھے وزیر اعظم نے پاکستان نرسنگ کونسل کا صدر نامزد کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کونسل کے اجلاس میں صدر کونسل کے الیکشن پر بحث ہوئی، صدر نرسنگ کونسل کے الیکشن میں پرانے رکن نئے رکن کے ساتھ مل گئے۔

محمد اسلم غوری نے اجلاس کو یہ بھی بتایا کہ ہم سوچ رہے تھے کہ نئے رکن سرکاری ہیں، کونسل کے ارکان صوبوں کے نامزد تھے، جو پرانے ممبر کے ساتھ مل گئے، نرسنگ کونسل کا اجلاس نتیجہ کے بغیر ختم ہوگیا۔

قومی خبریں سے مزید