خواجہ محمد آصف ایسے زیرک سیاستدان ہیں جنکی قومی مسائل اور نظام کی ضرورتوں سے متعلق گفتگو ہمیشہ ہی تمام حلقوںکیلئے توجہ طلب رہی ہے ۔پچھلے دنوں انہوں نے بطور وزیر دفاع قومی اسمبلی کے ایوان میں مقامی حکومتوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے جن امور کی طرف توجہ مبذول کرائی وہ ہمارے جمہوری نظام کا تقاضا بھی ہیں اور کئی مسائل کے حل کی کلیدبھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ گلی محلے کی سطح پر لوگوں کی نمائندگی کا حق تسلیم کیا جانا چاہئے۔ ان کی گفتگو کا یہ پس منظر واضح ہے کہ شہریوں کا براہ راست رابطہ مقامی حکومت سے رہتا ہے۔پانی، صفائی، سڑک، روشنی، تعلیم، صحت اور دیگر مسائل میں شہری جس دروازے پر دستک دیتا ہے وہ مقامی حکومت یا بلدیاتی نظام ہی کا دروازہ ہوتا ہے۔ جمہوری نظام کی عمومی تعریف’’ عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے ، عوام کیلئے‘‘ کے الفاظ پر غور کیا جائے تو مفہوم یہی نکلتا ہے کہ جمہوری حکومت یا نظام کا آغاز اسی مقام سے ہوتا ہے، جہاں عام آدمی زندگی بسر کرتا ہے ۔
بلدیاتی یا مقامی حکومت ہی وہ واحد سطح ہے جہاں عوام اور ریاست آمنے سامنے ہوتے ہیں ۔ جہاں نہ فائلوں کی طوالت ہوتی ہے، نہ طاقت کے غیر مرئی پردے۔ اپنی ناگزیر ضروریات کی تکمیل کے لئے دور دراز علاقوں میں جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ شہری جانتا ہے کہ اسکے محلے کی نالی کیوں بند ہے۔گلی کی سڑک کیوں ٹوٹی ہوئی ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کس کونسلر یا چیئرمین کی سطح پر اس کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور اسے کس سے براہ راست رجوع کرنا ہوگا۔یہی وہ قربت ہے جومقامی حکومتوں کو دیگر حکومتی سطحوں سے ممیز کرتی ہے۔بلدیاتی حکومتوں کو جمہوریت کی نرسری بھی اسی وجہ سے کہاجاتا ہے کہ یہاں جمہوریت اپنی اصل حالت میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ منتخب نمائندے لوگوں کے مسائل ہی حل نہیں کرتے ان کے دکھ درد میں بھی شریک ہوتےہیں۔ پاکستان میں جب بھی مقامی سطح پر جمہوری نظام کو پنپنے کا موقع دیا گیا لوگوں کے روزمرہ مسائل آسانی سے حل ہوئے۔ گلیوں محلوں کی صفائی سے لے کر گٹر سسٹم کی رکاوٹیں دور کرنے، پانی کی پائپ لائن کی خرابی، مچھروں کی بہتات،آوارہ کتوں کی یلغار سمیت تمام معاملات ایک سسٹم کے تحت مقامی کونسل کے علم میں آتے اور حل ہوتے رہے۔ مارکیٹ کی صورتحال بھی مدنظر رکھی جاتی رہی۔عملے کی غفلت سے پیدا ہونے والے مسائل سادہ کاغذ پر دی گئی ایک درخواست یا رجسٹر میں شکایت درج ہونے پر آسانی سے حل ہوتے رہے۔جنرل ایوب خاں کا دور حکومت اگرچہ آمرانہ تھا مگر اس میں ’’بنیادی جمہوریت‘‘ کے نام سے انتخابات کے ذریعے متعارف کرائے گئے مقامی حکومتوں کے نظام کی کارکردگی، گلی محلوں کی کیفیت ،مارکیٹ کی صورتحال، سڑکوں کی بروقت مرمت سمیت مختلف شعبوں میں نظر آتی رہی۔ اس دور میں یونین کونسلوں کو عائلی تنازعات میں مصالحتی عدالت کا کردار ادا کرنے کا موقع دیا گیا تو اسکےبھی مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ فریقین کوکورٹ فیس، وکیلوں کی فیس،بار بار نئی تاریخوں کے جھنجھٹ کے بغیر اپنے گھر کے قریب ہی انصاف مل گیا۔ اگر اس نظام کو بالواسطہ انتخابات کا ذریعہ نہ بنایا جاتا اور1964ء کے صدارتی انتخابات میں قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو ہرانے کیلئے استعمال نہ کیا جاتا تو یہ نظام عوام کی نظر میں غیر معتبر نہ ہوتا۔برصغیر میں برطانوی راج نے استعماری کردار کے باوجود اپنی ضروریات کیلئے شہری نظام کے خطوط متعین کئے تھے۔پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے نتیجے میں کمزور ہونے والے برطانوی سامراج کو یہاں سے رخصت ہونا پڑا تو ہمیں اپنے شہروں میں صفائی،نکاسی وفراہمی آب،ٹاورز،گھنٹہ گھروں کے نظام کے علاوہ ایسا شہری ڈھانچہ ملا جسے ہم اپنی قومی ضرورتوں سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے اپنے شہروں،قصبوں،دیہات،سیاحتی مقامات کو زیادہ ترقی دے کر اور اپنے نظام کی خوبیاں نمایاں کرکے دنیا کے سامنے پیش کرسکتے تھے۔غیر منقسم ہندوستان میں بلدیاتی انتخابات نے سیاسی شعور کے اظہار کا موقع فراہم کیا اور جدوجہد آزادی کو مہمیز دیتے ہوئے اس حقیقت کا اظہار بھی کیا کہ یہاں کے لوگ جمہوری نظام چاہتے ہیں۔ برٹش انڈیا کے آخری دور میں جنگوں کے اثرات سے پیدا شدہ مہنگائی سے عام آدمی کو بچانےکیلئے گلی محلوں میںراشن ڈپو قائم کئے گئے جہاں لوگوں کو ضروری اشیاء کم نرخوں پر ملتی تھیں یہ راشن ڈپو کچھ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا ذریعہ بھی بنے۔علاج معالجے کی مفت سہولتوں تک رسائی ہوئی اور بہت سی دوسری آسانیاں ملیں۔قیام پاکستان کےبعد بھی اس نظام نے مشکل حالات میں لوگوں کو سہارا دیا۔عجیب بات یہ ہے کے مارشل لاکےادوار میں مقامی حکومتوں کی حوصلہ افزائی کی گئی جبکہ جمہوری کہلانے والی وفاقی وصوبائی حکومتوںنےقومی سلامتی،بیرونی تعلقات، قانون سازی،پالیسی سازی کے اعلیٰ اختیارات پراکتفا نہ کرتے ہوئے گلیوں محلوں کے معاملات بھی اپنے ہاتھ میں لینے کو ترجیح دی، مقامی حکومتوں کے انتخابات اور انہیں با اختیار بنانے سے روگردانی کی۔ جسکے مضر نتائج برآمد ہوئے۔ہماری صوبائی حکومتیں خود توزیادہ اختیارات کامرکز سے مطالبہ کرتی رہیں مگر نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے بچنے کیلئے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں عدم دلچسپی کا پہلو نمایاں رہا۔ یوں نچلی سطح پر ہیلتھ کیئر اور تعلیم سمیت متعدد شعبے منفی طور پر متاثر ہوئے، لوگوں کی بڑی تعداد کے مسائل اس طرح بروقت حل نہ ہوسکے جس طرح انہیں حل ہونا چاہئے تھا۔ضرورت اس بات کی ہےکہ جمہوری روایات کے مطابق تمام ادارے اپنے اپنے دائروں میں رہتے ہوئے مقامی حکومتوں سمیت تمام اداروں کو قانونی تقاضوں کے مطابق کام کرنے اور کارکردگی دکھانے کےمواقع دیں تاکہ نچلی سطح پر نئی قیادت ابھر کر سامنے آتی رہے۔ اور حکومتیں مخصوص اشرافیہ کی جاگیر نہ بنیں۔