• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نشہ کوئی بھی ہو انسان کیلئے اچھا نہیں ہوتا۔ سب سے بُرا اقتدار اور طاقت کا نشہ ہے۔ اقتدار کے نشے میں ڈوبا ہوا شخص صرف دوسروں کیلئے نہیں بلکہ اپنے لئے بھی مصیبت بن جاتا ہے۔ یہ نشہ اکثر انسانوں کو بالکل بدل کر رکھ دیتا ہے۔ آپ ایسے کئی انسانوں کو جانتے ہوں گے جو طاقت اور اختیار حاصل کرنے سے قبل بڑے عاجز تھے اور بات بات پر کہتے تھے کہ میں تو آپ کا خادم ہوں لیکن طاقت و اختیار حاصل کرتے ہی فرعونیت کا شکار ہو گئے۔ طاقت اور اختیار کا نشہ سب سے پہلے بصارت پر حملہ آور ہوتا ہے۔ مقتدر کو اپنے سوا نہ تو کچھ اور نظر آتا ہے اور نہ ہی کچھ سوجھتا ہے۔ وہ ملک اور قوم کے مفاد کو بھی اپنے ذاتی مفاد کے مطابق دیکھتا یا دیکھتی ہے۔ کچھ مقتدر لوگ تو اپنے آپ کو اللہ کا چنا ہوا قرار دینے لگتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اُنہیں تو اللہ نے کسی خاص مقصد کیلئے طاقت دی ہے اور وہ یہ مقصد ہر قیمت پر حاصل کر کے رہیں گے۔ وہ اپنے ہر ذاتی مقصد کو قومی مقصد قرار دیتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کیلئے اخلاق اور تہذیب کی تمام حدود کو عبور کرنا قومی مفاد میں جائز سمجھنے لگتے ہیں۔ اقتدار کے نشے میں ڈوبنے والے بھول جاتے ہیں کہ اُنہیں جو طاقت و اختیار ملا ہے یہ اللہ کی نعمت نہیں بلکہ امانت ہے۔ امانت تو انسانوں کو آزمائش میں ڈال دیتی ہے لیکن اقتدار کے نشے میں ڈوبے ہوئے شخص کو اکثر خوشامدی گھیر لیتے ہیں۔ یہ خوشامدی ہر طاقتور کو یہی کہتے ہیں کہ حضور اللہ نے آپ سے کوئی بہت بڑا کام لینا ہے، آپ تنقید کرنے والوں کی بالکل پروا نہ کریں۔ طاقت اور اختیار کے نشے میں ڈوبے ہوئے شخص کو تنقید بھی بہت بری لگنے لگتی ہے۔ اختلاف رائے برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ پھر اختلاف رائے غداری قرار پانے لگتا ہے اور اختلافی آوازوں کو دبانے کیلئے نت نئے قانون بننے لگتے ہیں۔ اچھی بھلی جمہوریت شخصی آمریت میں بدل جاتی ہے ۔ اس آمرانہ طرز حکمرانی کے رد عمل میں انتہا پسندی جنم لیتی ہے اور معاشرے میں تقسیم بڑھنے لگتی ہے۔ یہ طرز حکمرانی منافقت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ لوگ طاقت کے نشے میں ڈوبے حکمران کے سامنے تو اسکی تعریفیں کرتے ہیں لیکن بند کمروں میں اُسے بُرا بھلا کہتے ہیں۔ پھر طاقت کا یہ نشہ پورے معاشرے اور ریاست کیلئے ایک خطرہ بن جاتا ہے۔ کسی سرکاری دفتر میں ایک چھوٹے سے صاحب بہادر کے دروازے کے باہر بیٹھا ہوا چپراسی بھی رقعہ اندر لیجانے کے اختیار کو اپنے ذاتی مفاد کے مطابق استعمال کرنے لگتا ہے۔ ٹریفک پولیس کا کانسٹیبل، پولیس تھانے کا انچارج، عدالت میں بیٹھا کوئی جج اور اسکا عملہ بھی اپنے اپنے اختیار کو ذاتی مفادکے مطابق استعمال کرنے لگتا ہے۔ سب طاقتور لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کو ملنے والا اختیار ایک عارضی ذمہ داری ہے لیکن اس عارضی ذمہ داری کو اکثر اپنے اقتدار کو طوالت دینے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نشے کی بیماری میں مبتلا خواتین و حضرات کو صرف دوسروں کے عیب نظر آتے ہیں اپنے عیب نظر نہیں آتے۔ اُنکے ماتحت انہیں وہی کچھ بتاتےہیں جو اُنہیں اچھا لگتا ہے۔ پوری ریاستی مشینری اپنے باس کے ذاتی مفاد اور اقتدار کے تحفظ کو حکومت کی پالیسی بنا لیتی ہے جس کا نتیجہ ناانصافی اور ظلم و ستم کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں اقتدار کے نشے کی خرابیاں تو بیان کر رہا ہوں لیکن اس نشے میں ڈوبے کسی صاحب اختیار کا نام کیوں نہیں لے رہا؟ آپ یہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آج کل کی صحافت صاحبان اختیار کی غلام بن چکی ہے ،یہ کالم نگار کسی کا کیا نام لے گا؟ صحافت کی ان کمزوریوں کی وجہ سے کئی لوگ اخبار اور ٹی وی کو چھوڑ کر سوشل میڈیا کی طرف راغب ہو رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پرکسی کا بھی نام لے دینا کافی آسان ہے۔ اسلئے بہت سے صحافی اخبار اور ٹی وی کو چھوڑ کر یوٹیوب، فیس بک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی حق گوئی کا شوق پورا کر رہے میں لیکن میں جس طاقتور شخص کی بات کر رہا ہوں وہ تو سوشل میڈیا کو بھی کنٹرول کرنے کی تیاریوں میں ہے ۔ اگر سوشل میڈیا بھی کنٹرول ہو گیا تو پھر کیا ہوگا؟ اس شخص کو آزاد میڈیا سے بڑی نفرت ہے۔ یہ شخص اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نام لے لے کر انہیں بُرا بھلا کہتا ہے۔ طاقت کے نشے میں ڈوبا ہوا یہ شخص صرف آزاد میڈیا کیلئے نہیں بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ بن چکا ہے۔ یہ طاقتور شخص امن کا نوبل انعام حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے لیکن اس کا ہر عمل امن کیلئے خطرات پیدا کرتا ہے ۔ اب بھی آپکو سمجھ نہیں آئی تو میں تمام خطرات مول لیکر اس شخص کا نام بھی لکھ دیتا ہوں۔ میرا اشارہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف ہے جو نہ صرف خوشامد پسند بلکہ خود پسند بھی ہے ۔ اقتدار کے نشے میں ڈوبے ہر طاقتور انسان کی طرح ٹرمپ کا غصہ بھی بڑا سمجھدار ہے ۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ غصہ تو غصہ ہوتا ہے ۔ غصہ سمجھدار کیسے ہو سکتا ہے ؟ طاقتور لوگوں کا غصہ واقعی بڑا سمجھدار ہوتا ہے ۔ یہ غصہ صرف کمزوروں پر برستا ہے ۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غصہ ایران اور ونیزویلا پر تو برستا ہے لیکن چین اور روس پر برسنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ طاقت اوراختیار میں ڈوبے ہر مقتدر شخص کا غصہ عام طور پر صرف کمزوروں پر برستا ہے۔جب کوئی کمزور اس غصے سے جنم لینے والی ناانصافی کے خلاف چیخ و پکار کرے اور مزاحمت شروع کر دے تو پھر اُسے دہشت گرد قرار دیدیا جاتا ہے۔ آجکل ایران کے معاملے میں ٹرمپ کا رویہ سب کے سامنے ہے ۔ٹرمپ صاحب کے خیال میں اسرائیل دنیا کا سب سے مظلوم اور ایران دنیا کا سب سے ظالم ملک ہے ۔ ٹرمپ نے پہلے بھی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا تھا اور اب ایک دفعہ پھر ایران پر حملے کی تیاریوں میں ہے ۔ ٹرمپ نے ونیز ویلا پر حملہ صرف اور صرف تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کیلئے کیا تھا۔ ایران پر حملے کا مقصد بھی تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے ۔ٹرمپ جیسے لوگ قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بیانیہ بنا لیتے ہیں اور آخر کار عالمی امن کیلئے خطرہ بن جاتے ہیں۔ امن کیلئے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث سعودی عرب جیسے اہم ملک نے ایران کے خلاف کسی بھی امریکی سازش کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے ۔ دنیا میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور خدشہ ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے ایران پر حملے کی مخالفت کرنے والے ’دوست ممالک‘ کو بھی جلد ہی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہو جائیگا ۔ یہ دھمکیاں امریکا کو اسکے پرانے دوستوں سے محروم بھی کر سکتی ہیں۔ میں نے اس کالم کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ اقتدار کے نشے میں ڈوبا شخص صرف دوسروں کیلئے نہیں بلکہ اپنے لئے بھی مصیبت بن جاتا ہے۔ ٹرمپ اپنے ہی ملک کیلئے مصیبت بن چکا ہے کیونکہ ٹرمپ کا ایجنڈا امریکی مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ ہے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر چھوٹا اور بڑا ٹرمپ ہمیشہ اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد قرار دیتا ہے اور آخرکار اپنی قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے ۔ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کو اقتدار کے مہلک نشے میں ڈوبے تمام چھوٹے اور بڑے ٹرمپوں کے شر سے محفوظ رکھے۔

تازہ ترین