• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فائل فوٹو
فائل فوٹو

15 سے21 دسمبر2025 ء تک جاری رہنے والی پولیو مہم، سال کی پانچویں اور آخری قومی مہم تھی، جس کا ہدف مُلک بَھر میں پانچ سال سے کم عُمر45.4 ملین بچّوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلانا تھا۔ صوبہ پنجاب میں23.3 ملین، سندھ میں10.6 ملین، خیبر پختون خوا میں7.3 ملین، بلوچستان میں2.66 ملین، آزاد جمّوں و کشمیر میں 0.74 ملین، گلگت بلتستان میں0.28 ملین اور اسلام آباد میں0.46 ملین بچّوں کو ویکسین دینے کا ہدف مقرّر کیا گیا۔

یہ مہم ڈور ٹو ڈور ویکسی نیشن، فکسڈ اور ٹرانزٹ ٹیمز کے ذریعے چلائی گئی تاکہ نقل مکانی کرنے والی آبادی، شہری کچّی آبادیوں اور سرحدی علاقوں میں موجود بچّوں تک بھی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ اِس مہم میں تقریباً4 لاکھ، 8 ہزار فرنٹ لائن پولیو ورکرز، ایریا انچارجز، یو سی میڈیکل آفیسرز اور سپروائزرز نے حصّہ لیا۔ یہ ٹیمز ویکسی نیشن کے ساتھ، والدین کی کاؤنسلنگ، انکاری کیسز (Refusal Cases) کے فالو اَپ اور پولیو سے متعلق غلط فہمیوں کے ازالے میں بھی سرگرم رہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، مہم کے پانچویں دن تک 43.8ملین بچّوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا چُکے تھے، جب کہ چَھٹے اور آخری دن ہدف کے قریب پہنچتے ہوئے 45.4ملین بچّوں تک رسائی حاصل کی گئی، جو مطلوبہ ہدف کی96.475 فی صد کوریج کی عکّاسی کرتی ہے۔ یہ کارکردگی بہتر مائیکرو پلاننگ، ریئل ٹائم ڈیٹا ٹریکنگ، تھرڈ پارٹی ویری فکیشن اور ضلعی و صوبائی سطح پر مؤثر نگرانی کا نتیجہ تھی۔

2025 ء کے دَوران مُلک بَھر میں مجموعی طور پر30پولیو کیسز رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے74کیسز کے مقابلے میں واضح کمی ہے۔ ان30 کیسز میں سے19 خیبر پختون خوا میں رپورٹ ہوئے، جو اب بھی پولیو کے ضمن میں سب سے حسّاس صوبہ تصوّر کیا جاتا ہے۔ سندھ میں9 کیسز سامنے آئے، جب کہ پنجاب اور گلگت، بلتستان میں ایک، ایک کیس رپورٹ ہوا۔ یہ اعداد و شمار یاد دہانی ہیں کہ پولیو کا خطرہ اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور معمولی غفلت بھی وائرس کو دوبارہ پھیلنے کا موقع دے سکتی ہے۔ 

یہ صُورتِ حال اِس امر کو بھی واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں پولیو اب محض ایک انتظامی یا لاجسٹک مسئلہ نہیں رہا، بلکہ ایک پیچیدہ سماجی، رویّہ جاتی مسئلہ اور حکومت کے لیے چیلنج بن چُکا ہے۔ غلط معلومات کی بنیاد پر ویکسین سے انکار، بار بار کی مہمّات سے عوامی تھکن اور ریاستی اداروں پر اعتماد کی کمی، بالخصوص خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں اب بھی بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ پھر، روٹین امیونائزیشن کے کم زور ڈھانچے کے باعث مہمّات کے درمیان حفاظتی خلا دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے۔

پولیو کی تاریخ پر نظر ڈالیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ بیسویں صدی کے وسط تک یہ بیماری دنیا کے اکثر ممالک میں صحتِ عامّہ کا ایک سنگین مسئلہ تھی۔ امریکا، یورپ، ایشیا اور افریقا میں ہر سال لاکھوں بچّے اس کا شکار ہوتے اور کئی مستقل معذوری یا موت کا نشانہ بن جاتے۔ پولیو کی تباہ کاری نے دنیا کو ویکسین کی اہمیت سے روشناس کروایا اور پھر سائنس دانوں نے اس بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے ویکسین تیار کر ہی لی۔1955ء میں پہلی ویکسین متعارف ہوئی، جس نے دنیا بَھر میں لاکھوں بچّوں کی زندگیاں محفوظ بنائیں۔ 

عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف نے1988ء میں”گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹیو“شروع کیا، جس کے نتیجے میں دنیا کے زیادہ تر ممالک نے پولیو ختم کرنے میں کام یابی حاصل کی۔

واضح رہے، پولیو ایک انتہائی متعدّی اور خطرناک وائرل بیماری ہے، جو بنیادی طور پر پانچ سال سے کم عُمر بچّوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بیماری، پولیو وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے، جو آلودہ پانی، ناقص صفائی اور انسانی فضلے کے ذریعے ایک بچّے سے دوسرے بچّے تک منتقل ہوتا ہے۔ 

پولیو وائرس، اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے اور بچّوں میں مستقل معذوری، خاص طور پر ٹانگوں کا فالج پیدا کرتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ چوں کہ اِس بیماری کا کوئی مستقل علاج موجود نہیں، اِس لیے دنیا بَھر میں اس کی روک تھام کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسی نیشن ہی ہے۔

پاکستان میں پولیو کے خلاف باقاعدہ قومی پروگرام کا آغاز1994 ء میں ہوا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مُلک کے ہر بچّے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جائے، خواہ وہ کسی دُور دراز یا پس ماندہ علاقے ہی میں کیوں نہ رہتا ہو۔ ابتدا میں اس پروگرام کے نتائج حوصلہ افزا رہے اور پولیو کیسز میں نمایاں کمی دیکھی گئی، تاہم وقت کے ساتھ، کئی پیچیدہ مسائل پیدا ہوئے۔ یہ مسائل سماجی، ثقافتی، سیاسی اور سیکیوریٹی نوعیت کے تھے۔ 

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سماجی اور ثقافتی غلط فہمیاں رہی ہیں۔ بعض حلقوں میں یہ تاثر پایا گیا کہ پولیو ویکسین غیر محفوظ ہے، بچّوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے یا اس کے ذریعے مغربی دنیا کے مقاصد حاصل کیے جا رہے ہیں۔ 

ان بے بنیاد افواہوں نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ کم تعلیم یافتہ علاقوں میں مذہبی یا مقامی رہنماؤں کی غلط تشریحات نے والدین کو ویکسین سے دُور رکھا، جس کے نتیجے میں کئی بچّے حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ گئے۔ 

خصوصاً پس ماندہ طبقات کے علاقوں میں عوامی ہچکچاہٹ اور ویکسین سے انکار ایک واضح مسئلہ رہا ہے۔ یہاں والدین اکثر مذہبی یا ثقافتی خدشات کے تحت بچّوں کو ویکسین نہیں دیتے۔ بعض مقامی رہنماؤں نے ویکسین سے متعلق منفی رائے دی، جس نے والدین کے درمیان شکوک و شبہات کو بڑھاوا دیا۔ 

اِن علاقوں میں سخت سیکیوریٹی حالات اور ماضی میں پولیو ورکرز کے خلاف تشدّد نے بھی عوامی شمولیت کو کم زور کیا۔ اس کے نتیجے میں کچھ دیہی اور قبائلی علاقوں میں ویکسی نیشن کی کوریج بہت کم رہی اور وائرس اب بھی وہاں موجود ہے۔ عوامی عدم قبولیت(Refusal)کی ایک اور بڑی وجہ ریاستی نظام پر اعتماد کا فقدان ہے۔

جب لوگوں کو بنیادی صحت، صاف پانی، تعلیم اور دیگر سہولتیں میسّر نہ ہوں، تو وہ پولیو ویکسین کو ترجیح نہیں دیتے۔ بعض والدین یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ اگر حکومت پولیو کے لیے بار بار ٹیمز بھیج سکتی ہے، تو دیگر بیماریوں، غذائی قلّت اور ماں بچّے کی صحت کے مسائل کے لیے کیوں نہیں ایسا کرسکتی۔ یہ احساسِ محرومی پولیو مہم کے خلاف مزاحمت کو مزید تقویت دیتا ہے۔

پاکستان میں پولیو ورکرز پر حملے اِس پروگرام کا سب سے دردناک اور افسوس ناک پہلو ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دَوران درجنوں پولیو کارکنان، جن میں خواتین بھی شامل ہیں، اپنی جانوں کا نذرانہ دے چُکے ہیں۔ اِن حملوں کے پیچھے شدّت پسند سوچ، ریاست مخالف جذبات اور غلط معلومات کا گہرا عمل دخل رہا ہے۔ 

یہ کارکن اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر گھر گھر جا کے بچّوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہیں، مگر بدقسمتی سے بعض علاقوں میں انہیں شک، نفرت اور تشدّد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سیکیوریٹی مسائل کے باعث کئی بار مہمّات متاثر ہوئیں، ٹیمز کی رسائی محدود ہوئی اور بعض علاقے ویکسی نیشن سے محروم رہ گئے۔ نتیجتاً پولیو وائرس کو پھیلنے کا موقع ملا اور پاکستان اُن دو ممالک میں شامل رہا، جن سے پولیو مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔

اس کے ساتھ، اندرونِ مُلک نقل مکانی، مہاجرین کی آمد و رفت اور شہری آبادی میں بے ہنگم اضافہ بھی پولیو کے پھیلاؤ کا سبب بنتا رہا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، پاکستان نے پولیو کے خلاف جدوجہد تَرک نہیں کی۔ قومی اور صوبائی سطح پر حکمتِ عملیوں میں بہتری لائی گئی، کمیونٹی بیسڈ ویکسی نیشن، خصوصی موبائل ٹیمز، علماء اور مقامی رہنماؤں کی شمولیت اور میڈیا کے ذریعے آگاہی مہمّات کو فروغ دیا گیا۔ 

خواتین ورکرز کو مقامی سطح پر ذمّے داریاں دے کر عوامی اعتماد بحال کرنے کی بھی کوشش کی گئی، جب کہ سیکیوریٹی فورسز کے تعاون سے ٹیمز کو تحفّظ فراہم کیا گیا۔ پاکستان میں پولیو مہم کی کام یابی میں عوامی تعاون سب سے اہم عُنصر ہے۔ والدین کی شمولیت، مقامی کمیونٹی کی حمایت اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے درست معلومات کی فراہمی سے ویکسی نیشن کی کوریج بہتر ہوتی ہے۔

تاہم، کچھ مخصوص طبقاتی پس ماندہ علاقوں میں عوامی ہچکچاہٹ کی وجہ سے کئی بار مہم متاثر ہوئی۔ حکومتی اقدامات اِس امر کی عکّاسی کرتے ہیں کہ پولیو کا مکمل خاتمہ صرف حکومت یا پولیو ورکرز کی کوششوں سے ممکن نہیں، بلکہ یہ منزل معاشرے کی اجتماعی شمولیت ہی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

پاکستان کے لیے پولیو فِری مستقبل حاصل کرنے کی کلید یہی ہے کہ معاشرے کا ہر فرد، اجتماعی طور پر ویکسی نیشن کے عمل میں شریک ہو اور غلط فہمیاں دُور کرے۔ اِس ضمن میں والدین، اساتذہ، علماء، میڈیا اور ہر باشعور شہری کا تعاون لازمی ہے تاکہ ہر بچّے تک ویکسین پہنچ سکے۔ 

دسمبر کی قومی پولیو مہم ایک قومی ذمّے داری، اجتماعی امتحان اور روشن مستقبل کی ضمانت تھی۔ اگر پاکستان میں تمام والدین اپنے بچّوں کو ویکسین پلوانے میں تعاون کریں، تو نہ صرف اپنے بچّوں، بلکہ پوری قوم کو معذوری اور بیماری سے بچایا جا سکتا ہے۔ (مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، سروسز اسپتال کراچی، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید