یمن، قدیم تہذیب، شان دار تاریخ کا حامل مُلک ہے۔ تاریخ میں اس کا نام مملکتِ سبا، مملکتِ حِمیَر، تیمن، یمنت، یمنہ کے ناموں سے درج ہے اور ہر نام اس کی کسی جغرافیائی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی خصوصیت کا مظہر ہے۔ زرخیز زمین اور سرسبز و شاداب علاقہ، جس میں کئی ہزار سال پہلے آب پاشی کا اِتنا بڑا نظام تھا، جس کی مثال اُس زمانے اور مدّتوں بعد تک کہیں اور نہیں ملتی تھی۔
اس کے ناموں میں ایک صفاتی نام’’ Felix‘‘ہے، جو اس کے بابرکت، باثروت اور خوش حال مُلک ہونے کی نشان دہی کرتا ہے۔ قرآنِ مجید کی سورۂ سبا اور سورۃ النمل میں اِس مُلک کا ذکر ہے۔ ملکۂ سبا، حضرت سلیمان علیہ السّلام کے عہد میں اِس مُلک پر حکومت کرتی تھیں۔ ملکۂ سبا کے قصّے میں یمن کی خوش حالی اور فوجی طاقت کے واضح اشارے موجود ہیں۔
لفظ’’ڈیم‘‘ یا بند جدید دَور کا عام فہم لفظ ہے،عربی میں ڈیم کو’’سدّ‘‘ کہتے ہیں۔ ’’سدِّ مآرب‘‘ یا’’سدِّ عرم‘‘ اُس مشہور ڈیم کا نام ہے، جس کے نیچے چھوٹے ڈیمز کا جال بچھا ہوا تھا اور جو آب پاشی کا ذریعہ تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مال و دولت کی فراوانی انجامِ کار قوموں کو سرکشی، عیش و عشرت اور اخلاقی بگاڑ میں مبتلا کر دیتی ہے کہ جس اللہ نے اُن اقوام کو انعامات سے نوازا ہوتا ہے، یہ اُسی کی ناشکری اور نافرمانی کی روش اختیار کر لیتی ہیں۔
اہلِ یمن زراعت کی ترقّی اور دولت کی فراوانی میں ڈوب کر اللہ تعالیٰ کو بھول گئے تھے۔ یہ قوم سورج کو دیوتا مان کر اُس کی پرستش کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے جنّات، ہوائیں اور چرند پرند سب حضرت سلیمانؑ کے تابعِ فرمان کر دیئے تھے۔ ھُدھُد پرندے نے آ کر اُنہیں اطلاع دی کہ’’مَیں نے وہاں(مُلکِ سبا میں) ایک عورت دیکھی، جو اُس قوم کی حُکم ران ہے۔
اُسے ہر طرح کا سروسامان بخشا گیا ہے اور اُس کا تخت عظیم الشّان ہے۔ مَیں نے دیکھا کہ وہ اور اُس کی قوم اللہ کی بجائے سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے۔‘‘(سورۃ النّمل)۔ اِس باغیانہ روش کی وجہ سے اُن پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ سَیلِ عرم ایک بڑا سیلاب تھا، جس کی وجہ سے بڑا بند ٹوٹا، تو باقی سارے بندوں کو بھی بہا لے گیا اور یمن کی زرعی معیشت تباہ ہوگئی۔ سرسبز و شاداب کھیتوں اور پھل پھول والے باغوں کی جگہ ایسے باغ رہ گئے، جن میں کڑوے پھل، جھائو کے درخت اور کانٹے دار بیریاں تھیں۔
یمن کی آبادی میں اصل عربوں کے علاوہ افریقی اور ایرانی نسل کے لوگ بھی ہیں، کیوں کہ حبش کے بادشاہ نے وہاں اپنا گورنر ابراہہ مقرّر کیا تھا، جس کے ساتھ افریقی لوگوں کی بڑی تعداد یمن آ کر آباد ہو گئی تھی۔ وہ ابراہہ ہی تھا، جو ہاتھیوں والا لشکر لے کر کعبہ شریف کو (نعوذ باللہ) مسمار کرنے نکلا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ابابیلوں سے کنکریاں مروا کر اُس کا لشکر تباہ کر دیا تھا۔ اس واقعے کا ذکر قرآنِ مجید کی سورۃ الفیل میں ہے۔
افریقیوں کے بعد یمن پر ایرانیوں نے قبضہ کرلیا۔ رسول اللہﷺ کے عہدِ نبوّت کے آخری عرصے تک ساسانی ایرانی بادشاہ کے گورنر، باذان یہاں مقرّر رہے، جنہوں نے دس ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا تھا۔ اُن کی گورنری میں ایرانی بھی یمن آ کر آباد ہوئے۔
تاریخ میں اصل عرب، یمن ہی ہے۔ یہ مدّتوں سے عربی زبان اور تہذیب و ثقافت کا مرکز ہے۔ اب جسے سعودی عرب کہا جاتا ہے، اس کی شہرت و اہمیت اور تقدیس و عظمت، اللہ تعالیٰ کے گھر، کعبہ شریف کی وجہ سے ہے، جو تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السّلام اور اُن کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السّلام نے ایک بے آب و گیاہ پہاڑی وادی میں تعمیر کیا تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السّلام کا سسرالی قبیلہ، بنو جُرہم یمنی تھا، جو آنحضرت ﷺ کی والدہ کی اجازت سے مکّہ مکرّمہ میں آ کر آباد ہوا تھا۔
اہلِ یمن کو یہ معلوم تھا کہ بحرِ احمر میں بڑی بڑی سمندری چٹانیں کہاں کہاں ہیں، اِس لیے وہ بغیر کسی رکاوٹ کے سمندر میں تجارتی سفر کرتے تھے اور چین، ہندوستان، مالابار(انڈونیشیا)تک سے مال انہی کے ذریعے بحرِ متوسط تک اور وہاں سے آگے یورپ تک جاتا تھا اور شمال مغرب سے تجارتی مال عدن کی بندرگاہ سے بحرِ ہند کے راستے چین اور ہندوستان تک جاتا تھا۔ اِس طرح یمنی بحرِ احمر کے اجارہ دار بن گئے تھے۔ یمن کے سب سے بڑے اور مشہور قبیلے حِمیَر کے لوگوں نے بحرِ احمر کے ساتھ، جنوب سے شمال تک جانے والی شاہ راہ پر اپنی تجارتی بستیاں بسا لی تھیں۔
رسول اللہ ﷺکا جن اہلِ یمن سے تعامل و تعارف ہوا، اُن کی خصوصیات میں حضورﷺ نے فرمایا۔’’تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں۔ وہ نرم دل اور رقیق القلب ہیں۔ ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔‘‘(ترمذی) آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ’’ اُن کے اندر سکون اور وقار ہے۔‘‘ واضح رہے، قوموں پر بہت سے عوامل اثرانداز ہوتے ہیں، تو اِس لحاظ سے اُن کی صفات بھی بدل جاتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ آج بھی یمنی اِنہی اوصاف کے حامل ہوں۔
ظہورِ اسلام کے وقت یمن جنوبی اور شمالی، دو ممالک میں تقسیم نہیں تھا۔ یہ خلافتِ عثمانیہ کا حصّہ رہا ہے، لیکن1839 ء میں اس کی بہت ہی اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل، عدن کی بندرگاہ پر برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے قبضہ کر لیا۔ 1869 ء میں نہر سویز کُھلی، تو عدن کی بندرگاہ کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اُس وقت ہندوستان پر برطانوی استعمار کا قبضہ تھا۔ برّعظیم پاک و ہند، برطانیہ کی کالونی ہی نہیں، بلکہ ایک بہت بڑی منڈی بھی تھی، جس سے اُس کا تجارتی مال عدن کی بندرگاہ کے ذریعے بحرِ احمر سے بحرِ متوسّط اور آگے یورپ تک جاتا تھا۔1918ء میں عرب کے بہت سے حصّوں کی طرح یمن بھی برطانوی تسلّط سے آزاد ہوا۔
یمن میں زیدی شیعہ مسلک کا پھیلاؤ اِس طرح ہوا کہ یمنی قبائل میں خون ریز تصادم ہوتے رہتے تھے۔ اِس صُورتِ حال سے نجات کے لیے اِن قبائل نے اِمام یحییٰ بن حسین کو دعوت دی کہ وہ آ کر ان میں مصالحت کروائیں۔ پہلے وہ 893عیسوی میں آئے اور صُورتِ حال سے مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔897ء میں دوبارہ آئے اور بنو رسّی یا رسّین اور بکیل قبائل کو اکٹھا کر کے یمن کے ایک حصّے میں حکومت قائم کی، جو 1962ء کے انقلاب تک قائم رہی۔ صعدۃ اس ریاست کا دارالحکومت تھا۔
یہی ریاست زیدی شیعہ مسلک کے فروغ اور پرچار کا ذریعہ بنی۔ اِس وقت اِس مسلک کی یمن میں آبادی تیس سے چالیس فی صد ہے۔ حوثی ’’انصاراللہ‘‘ بھی کہلاتے ہیں اور زیدی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِس تنظیم یا تحریک کی بنیاد 2004ء میں سیّد بدرالدّین حوثی اور اُن کے بھائی، حسین بدرالدّین نے رکھی تھی، جس کا بنیادی مقصد یمن میں زیدیہ مکتبِ فکر کا فروغ اور اس کی اِمامت کی تجدید تھا۔
زیدی شیعہ اپنی نسبت، حضرت زیدؒ بن علیؒ بن الحسینؓ بن علیؓ سے جوڑتے ہیں۔ یہ شیعہ فرقوں میں اہلِ سُنّت کے زیادہ قریب ہے۔ پڑوسی ہونے کے باوجود، گزشتہ تقریباً ایک صدی سے، جب شاہ عبدالعزیز بن سعود نے سعودی خاندان کی حکومت قائم کی اور شیخ محمّد بن عبدالوہاب کے عقائد و نظریات کو اپنا سرکاری مسلک بنایا، زیدی شیعہ سعودی عرب سے اختلاف رکھتے ہیں۔
بیسویں صدی کے نصف آخر میں روس اور امریکا کی نظریاتی کشمکش عروج پر تھی۔ دونوں نظریاتی قوّتیں عرب ممالک کو اپنے اپنے بلاک میں شامل کرنا چاہتی تھیں۔ اِس دوران عرب ممالک میں عرب قوم پرستی اور اشتراکیت کے نظریات کو فروغ مل رہا تھا۔ اشتراکی فکر کے زیرِ اثر مصر، شام، عراق، الجزائر اور تنظیمِ آزادیٔ فلسطین کی روس سے قربت تھی، جب کہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں پر امریکا کا سایہ تھا۔
اُس عرصے میں سعودی عرب اور مصر کی آویزش عروج پر تھی۔ 1951ء میں اٹلی سے آزادی کے بعد لیبیا میں صوفی گروہ سنوسی سے وابستہ محمّد ادریس بن محمد المہدی سنوسی کی بادشاہت قائم ہوئی تھی۔ بادشاہ علاج کے لیے تُرکی گئے ہوئے تھے کہ جمال عبدالناصر کی پُشت پناہی سے لیبیا میں انقلاب برپا ہوا اور کرنل معمر قذافی نے بادشاہ کو معزول کر کے اپنی فوجی آمریّت قائم کر لی۔
مصر کا فوجی ڈکٹیٹر، جمال عبدالناصر عرب دنیا کا آئیڈیل بن گیا تھا اور پھر ناصر کی تقلید اور حمایت ہی سے کئی عرب ممالک میں فوجی انقلاب آئے اور آمریتیں قائم ہوئیں۔ 1962ء میں جنوبی یمن پر برطانوی تسلّط قائم تھا۔ شمالی یمن میں اِمام محمّد البدر کی متوکّلی بادشاہت تھی۔ امام محمّد البدر زیدی شیعہ تھے۔ وہ اپنے والد اِمام احمد محمد البدر کے جانشین کے طور پر26 ستمبر1962ء کو اپنے والد کی وفات کے بعد یمن کے بادشاہ بنے۔
اُن کے بادشاہ بننے کے کچھ ہی عرصے بعد مصر کے ڈکٹیٹر، جمال عبدالنّاصر کی سرپرستی اور حمایت سے یمن میں انقلاب آیا اور اِمام محمّد البدر کو معزول کر کے عبداللہ السلال نے فوجی انقلابی حکومت قائم کر لی۔ اِمام محمّد البدر کی جان بچ گئی تھی۔ وہ معزول ہو کر شمال کے پہاڑی خطّے میں چلے گئے اور قبائلی زعماء کی مدد سے فوجی حکومت سے جنگ کا آغاز کردیا۔ جب کہ سعودی عرب نے مسلکی اختلافات بالائے طاق رکھ کر مصر نواز حکومت کے خلاف اِمام محمد بن بدر کی کُھلی حمایت شروع کر دی۔
برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے30نومبر 1967ء کو جنوبی یمن کو آزاد کر کے عدن کی بندرگاہ خالی کر دی۔ جمال عبدالناصر قدیم بادشاہتوں، امیریوں اور شیخیوں کا خاتمہ کر کے انقلابی اشتراکی حکومتیں قائم کر رہا تھا۔ اُس نے شمالی یمن میں اپنی ستّر ہزار فوج لا کھڑی کی اور کرنل عبداللہ السّلال کی قیادت میں 1962ء میں اِمام محمد البدر کی حکومت کے خلاف فوجی انقلاب برپا کیا ۔حوثی اپنے اِمام کی معزولی پراُٹھ کھڑے ہوئے اور شمالی یمن میں خانہ جنگی شروع ہوگئی، جو 1967ء تک جاری رہی۔
جب جنوبی یمن کو ایسٹ انڈیا کمپنی نے خالی کر دیا، تو وہاں’’پیپلز ڈیموکریٹک ری پبلک آف یمن‘‘ کے نام سے کمیونسٹ حکومت قائم ہو گئی، جسے سوویت یونین، کیوبا اور مشرقی جرمنی کی سرپرستی حاصل تھی۔ ناصریت کی یہ انقلابی پیش قدمی سعودی عرب کی بادشاہت کے لیے بھی خطرہ تھی۔ سعودی عرب میں اُس وقت شاہ سعود بن عبدالعزیز السّعود کی حکومت تھی اور شاہ فیصل ولی عہد تھے، جو بعد میں شاہ سعود کو معزول کر کے بااختیار حُکم ران بن گئے۔
اشتراکی نظریاتی خلفشار کی وجہ سے شمالی اور جنوبی یمن دو الگ ممالک میں بٹ گئے تھے۔ جنوبی یمن اشتراکی فکر اختیار کر کے روس سے وابستہ ہو گیا تھا۔ سعودی عرب نے مصر کے جواب میں اپنی فوج سرحد پر متعیّن کر دی، لیکن وہ مصر سے براہِ راست ٹکر لینے کی بجائے معزول اِمام کی بحالی کے مطالبے پر حوثیوں کو پراکسی کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔ آگے جا کر سعودی عرب، حوثیوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگا، تو 2015ء اور پھر 2024ء میں اِن ہی حوثیوں کے خلاف ایک کثیرالملکی اتحاد قائم کر کے جنگ شروع کر دی۔
ہم حوثیوں کا موضوع چھوڑ کر جنوری 2011ء کی’’عرب بہار‘‘ کا صفحہ کھولتے ہیں، جس پر عالَمِ عرب کے تیس تیس، پینتیس پینتیس سال سے مسلّط حُکم رانوں کے قصرِ اقتدار منہدم ہوگئے۔ اِس لہر میں تیونس کے زین العابدین بن علی، مصر کے حُسنی مبارک اور یمن کے علی عبداللہ صالح نام کے پرانے پیڑ اُکھڑ گئے۔ واضح رہے، علی عبداللہ صالح خُود حوثی تھا۔ شام کے صدر، بشار الاسد کو بچانے کے لیے روس، ایران، لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ کے علاوہ، یمن کے حوثیوں نے ایک اتحاد قائم کیا۔
تاہم، قدرت کا لکھا غالب آیا اور بشارالاسد اقتدار سے محروم ہو کر روس میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔ اس دوران فلسطین میں حماس کے عسکری وِنگ عزالدّین القسّام بریگیڈ کے’’ طوفان الاقصٰی‘‘ کے نام سے ایک شجاعیانہ عمل نے ساری دنیا کی توجّہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ مجاہدین نے بحری، برّی اور فضائی راستوں سے اسرائیل پر حملہ کیا، تو جواب میں اسرائیل نے غزہ پر یلغار کر دی اور اس کا سارا انفرا سٹرکچر، اسکولز، اسپتال، دفاتر، بڑی بڑی عمارات اور رفاہی ادارے تباہ کر دیئے۔
کم از کم تین ہزار معصوم بچّے بم باری اور خوراک کی بندش سے شہید ہوئے، جب کہ مارے جانے والے نوجوانوں، عورتوں اور مَردوں کی تعداد بھی ہزاروں ہی میں ہے۔ امریکا، یورپ، خلیجی ممالک اور بھارت، سب اسرائیل کی پُشت پر کھڑے تھے۔ ایران نے حماس کی کوئی عملی مدد تو نہیں کی، لیکن اخلاقی طور پر حماس کی حمایت کرتا رہا۔ لبنان کی حزبُ اللہ بھی اسرائیل کے نشانے پر تھی۔
اُس کی قیادت شہید ہو گئی اور تنظیمی ڈھانچا بکھر گیا۔ حماس کے دو قائد، اسماعیل ہانیہ اور یحییٰ سنوار نے جامِ شہادت نوش کیا۔ دو سال کی جنگ میں اسرائیل نے بہت کچھ تباہ کر دیا، لیکن حماس کی عسکری طاقت بہرحال ختم نہ کر سکا۔
اِس عرصے میں یمن کے حوثیوں نے بحرِ احمر سے گزرنے والے امریکی، برطانوی اوراسرائیلی مال بردار بحری جہازوں کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔ اسرائیل پر بھی راکٹ اور میزائل برسائے۔ جواب میں امریکا نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر بم برسائے، لیکن حوثی جانی نقصانات کے باوجود تاحال جنگ کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف جو کثیرالملکی محاذ قائم ہوا تھا، اُس میں دراڑیں پر گئیں۔
باب المندب ایک انتہائی اسٹریٹیجک سمندی ٹکڑا ہے۔ بحرِ احمر کے انتہائے جنوب میں خلیجِ عدن کو بحرِ ہند سے اور افریقا کے ممالک دیبوچی اور اریٹیریا سے یمن کا صرف تیس کلومیٹر فاصلہ بنتا ہے۔ یہاں گزشتہ دنوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی تلخی عروج پر رہی۔ (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)