• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ: رفح کراسنگ محدود آمدورفت کیلئے دوبارہ کھولنے کا اعلان

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ پیر کے روز محدود اور آزمائشی بنیادوں پر دوبارہ کھولی جائے گی جہاں سے صرف پیدل آمد و رفت کی اجازت ہو گی] اس اقدام کا مقصد شدید بیمار اور زخمی فلسطینیوں کو علاج کے لیے مصر منتقل کرنا ہے۔

عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی ادارے کوآرڈینیٹر آف گورنمنٹ ایکٹیویٹیز اِن دی ٹیریٹوریز (COGAT) کی جانب سے رفح کراسنگ کا آغاز ایک محدود ’پائلٹ فیز‘ کے تحت کیا جا رہا ہے جس کی نگرانی مصر اور یورپی یونین کے تعاون سے ہو گی۔ 

کراسنگ سے دونوں اطراف آمد و رفت ممکن ہو گی تاہم صرف پیدل سفر کی اجازت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ رفح کراسنگ غزہ کی وہ واحد سرحدی گزرگاہ ہے جو اسرائیل کے بجائے مصر سے ملتی ہے، یہ مئی 2024ء میں اسرائیلی فوج کے قبضے کے بعد تقریباً 2 سال سے بند تھی۔

دوسری جانب غزہ کے حکام کے مطابق تقریباً 22 ہزار شدید بیمار اور زخمی فلسطینیوں کو فوری طور پر بیرونِ ملک منتقل کرنے اور علاج کی ضرورت ہے جبکہ جنگ کے دوران غزہ چھوڑنے والے 80 ہزار سے زائد فلسطینی واپسی کے منتظر ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ابتدائی دنوں میں روزانہ تقریباً 200 افراد جن میں مریض اور ان کے اہلِ خانہ شامل ہوں گے، جو مصر جائیں گے جبکہ روزانہ 50 افراد کی غزہ واپسی متوقع ہے۔

مصری حکام کے مطابق اتوار کے روز کم از کم 50 مریضوں کو مصر منتقل کیا گیا ہے۔

ادھر غزہ میں اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں، اتوار کے روز مختلف ڈرون حملوں میں کم از کم 3 فلسطینی شہید ہوئے، اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک 511 فلسطینی شہید اور 1,405 زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے دھمکی آمیز اعلان کیا ہے کہ وہ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (MSF) کی غزہ میں سرگرمیاں ختم کر دے گا جس پر اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کو روزانہ کم از کم 600 امدادی ٹرکوں کی ضرورت ہے جبکہ موجودہ صورتِ حال میں امداد کی رسائی انتہائی محدود ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید