• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قائمہ کمیٹی اجلاس، سول پروسیجر کوڈ ترمیمی بل و آربیٹریشن بل 2026 پیش

اسکرین گریب بشکریہ نیشنل اسمبلی / فیس بیک
اسکرین گریب بشکریہ نیشنل اسمبلی / فیس بیک

چوہدری محمود ورک کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس جس میں سول پروسیجر کوڈ ترمیمی بل کمیٹی میں پیش کیا گیا۔ یہ بل ممبر قومی اسمبلی صوفیہ سعید نے پیش کیا۔

صوفیہ سعید نے کہا کہ خواتین کو وراثت کے معاملے میں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 18 سے 20 سال ہوگئے میرے اپنے وراثت کیس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

اس موقع پر ممبی کمیٹی حسن صابر نے کہا کہ اس وقت بہن بھائیوں کے درمیان عدالتی کیسز کا بڑا مسئلہ ہے۔

علی قادر گیلانی بولے کہ پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ پر عدالت نے حکم امتناع جاری کردیا تھا، اس قانون کے خلاف بھی بعد میں ایسے کوئی حکم امتناع جاری نہ ہوجائے۔

چیئرمین کمیٹی چوہدری محمد ورک نے کہا کہ اس بل پر ووٹنگ کروالیں یا کوئی اور آپشن ہے، جس پر وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل کا کہنا تھا کہ اس کو مؤخر کرکے مزید ترمیم کرلی جائے، ایک بار مؤخر کردیں پھر ہم بیٹھ کر اس میں دوبارہ ترمیم کردیتے ہیں۔

کمیٹی نے سول پروسیجر کوڈ ترمیمی بل ممبران کی تجاویز پر مؤخر کردیا۔

اجلاس کے دوران تنازعات کے متبادل حل کےلیے آربیٹریشن بل 2026 قائمہ کمیٹی قانون و انصاف میں پیش کیا گیا۔ اس دوران کمیٹی ارکان عالیہ کامران اور نوید قمر نے بل پر تحفظات کا اظہار کیا۔ 

نوید قمر کا کہنا تھا کہ قانون سازی کرنا ہائیکورٹ یا حکومت کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کا کام ہے، پہلے تھا کہ کوئی فریق ثالثی میں نہیں جا رہا تو اس کی مرضی ہے، اب آپ کہہ رہے ہیں ثالثی میں جانا لازمی ہوگا۔

رکن کمیٹی سائرہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پہلے فیصلوں کے بعد بھی لوگوں میں دشمنیاں چلتی رہتی تھیں، اب اگر عدالت اس میں مداخلت کرے گی تو دشمنیاں کم ہوں گی۔ نوید قمر کے تحفظات دور کریں، میں ثالثی کے حق میں ہوں۔

اس موقع پر عالیہ کامران کا کہنا تھا کہ ہم نے مستقل یہاں نہیں رہنا، وہ قانون بنائے جائیں جن کا سر پیر موجود ہو۔ مجھے اس قانون میں کوئی سر پاؤں نظر نہیں آیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم سے ہمارا اختیار لے کر حکومت اور ہائیکورٹ کو دیا جا رہا ہے، اگر ہم اچھائی کی طرف جارہے ہیں تو بتادیں کہ کتنے معاملات حل ہوچکے ہیں؟

اجلاس کے دوران ایڈیشنل سیکریٹری وزارت قانون و انصاف نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ برٹش پارلیمنٹ بھی پارلیمانی عمل کے آغاز سے ایسی ایکسرسائز کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2017 میں اسی کمیٹی روم میں یہ بات سامنے آئی کہ موجودہ وقت میں کوئی مکمل سسٹم نہیں ہے۔ وزارت قانون نے بتایا تھا 5 سے 7 سال میں ایک مکمل سسٹم تیار کیا جائے گا۔

ایڈیشنل سیکریٹری قانون و انصاف کا کہنا تھا کہ اس بل سے پارلیمنٹ سے براہِ راست اختیار نہیں لیا جا رہا، پارلیمنٹ سے گزارش کی گئی ثالثی کے قانونی اصولوں کے مطابق ضروری ترامیم کی جائیں۔

قومی خبریں سے مزید