وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ ہمیں قدرت کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی کو روکنا ہو گا۔
اسلام آباد میں ورلڈ ویٹلینڈز ڈے کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ جنگلی حیات انسانی زندگی کے لیے بہت اہم ہے، ماحول کا تحفظ ہم سب کی ذمے داری ہے، محفوظ مستقبل کے لیے ہمیں آلودگی پر قابو پانا ہوگا، پانی بنیادی ضرورت ہے، دنیا بھر میں دیکھیں جہاں جہاں پانی ہے وہاں آبادی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قدرت سے ہمارا صدیوں کا رشتہ ہے، کسی پرانے گاؤں میں جائیں تو نظر آئے گا کہ کتنے ستارے ہیں، سائنس نے یہی بتایا ہے کہ اب تک جتنے سیارے اور گیلیکسیز ہیں یہ بے جان ہیں، صرف ہمارے سیارے زمین پر زندگی موجود ہے، پانی میں زندگی کی موجودگی ضروری ہے، ہم جو قدرت پر ظلم کر رہے ہیں وہ رکنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ کئی سال پہلے راول ڈیم آیا تو یہاں تعفن نہیں تھا، آپ کو معلوم ہے آج یہاں تعفن کیوں ہے؟ یہاں اردگرد کی آبادیوں کا فضلا گرتا ہے، بتایا گیا کہ یہاں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگ رہا ہے، یہیں سے راولپنڈی اسلام آباد کو پانی جا رہا ہے، فلٹر یشن پلانٹ کا برسوں سے ٹینڈر کا معاملہ چل رہا ہے، قدرت سے جنگ کا پہلا نقصان خاموشی ہے، ہم یہ قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔
وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ لگنے تک فضلہ جمع کرنے کا متبادل نظام بنانے کی کوشش کریں گے، ہمیں نیچر پر ظلم بند کر دینا چاہیے، جن آبادیوں کی زندگی دلدلی علاقوں میں گزرتی ہے وہ متاثر ہوتے ہیں، پاکستان کی 99 فیصد آبادی ایف 6، ڈی ایچ اے، کلفٹن، بحریہ میں نہیں رہتی، یہ صرف پانی، جھیلیں اور کشتیاں نہیں، لاکھوں لوگوں کا ذریعۂ روزگار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وٹ لینڈز پر گزارا کرنے والے خاندانوں کے لیے یہ زندگی اور بقا کا سوال ہے، یہ وسائل 99 فیصد عوام کے لیے ہیں، ناکہ صرف اشرافیہ کے لیے، درخت اور وٹ لینڈز ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ عوامی روزگار کا سہارا ہیں، یہ ملک ایلیٹ نہیں، ان 99 فیصد لوگوں کا ہے جو قدرتی وسائل پر انحصار کرتے ہیں، وٹ لینڈز تباہ ہوں گی تو روزگار ختم ہو گا، درخت کاٹنا صرف ماحول نہیں، عام آدمی کی معیشت پر وار ہے، سندھ حکومت نے ایک پارک میں جنگل لگایا جس پر وہ مبارکباد کی مستحق ہے۔
مصدق ملک نے یہ بھی کہا کہ جب اس پارک میں داخل ہوا تو تعفن تھا، مسئلہ وہاں بھی یہی تھا کہ فضلہ پھینکا جاتا ہے، امونیا گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ سے زیادہ خطرناک ہے، سب سے غلیظ کاربن سنک یہ وٹ لینڈ ہیں، مینگروز کے جنگلات کاربن سنک ہیں، قدرت کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کا طریقہ یہ جنگلات ہیں۔