• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ ماہ جب انڈونیشیا کے صدر پاکستان کے دورے پر آئے اور جیسے ہی اُن کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو پاک فضائیہ کے 6 جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں نے استقبال کرتے ہوئے اُن کے طیارے کو اپنے حصار میں لے لیا اور وائرلیس پر انڈونیشیا کے صدر کو پاکستان آمد پر مبارکباد پیش کی۔ انڈونیشیا کے صدر نے جب اپنے طیارے کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو دونوں اطراف جے ایف 17 طیارے دیکھ کر وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور اپنے دورے کے دوران انہوں نے حکومت پاکستان سے جے ایف 17 طیاروں کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ یہ پہلا موقع نہیں، اس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر بھی اُن کا استقبال جے ایف 17 طیاروں سے کیا گیا تھا اور وہ ان طیاروں سے اتنے متاثر ہوئے کہ بعد ازاں سعودی عرب اور پاکستان کے مابین 4 ارب ڈالر مالیت کے 40 جے ایف 17 طیاروں کی خریداری کا معاہدہ طے پایا۔

غیر ملکی سربراہانِ مملکت کا جے ایف 17 طیاروں کے ذریعے استقبال اِن طیاروں کی موثر مارکیٹنگ کی اعلیٰ مثال ہے۔ اس تناظر میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار قابل تحسین ہے جو پاکستان اور اسکی دفاعی صلاحیتوں کی مارکیٹنگ بڑے موثر انداز میں کررہے ہیں۔ جنرل عاصم منیر جس ملک کا دورہ کرتے ہیں، پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کے آرڈرز کے ساتھ وطن واپس لوٹتے ہیں جسکی حالیہ مثال اُن کا دورہ سوڈان اور لیبیا ہے جہاں سے وہ جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے آرڈرز کے ساتھ وطن واپس لوٹے۔ چین کے اشتراک سے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں تیار ہونے والا جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارہ پاکستان کی دفاعی صنعت کی عالمی سطح پر پہچان بن چکا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت جنگ ’’معرکہ حق‘‘ میں پاکستان کی شاندار فتح کے بعد پوری دنیا میں جے ایف 17 طیاروں کی دھاک بیٹھتی نظر آرہی ہے جسکے خوف سے بھارتی فضائیہ نے اپنے جنگی طیارے گرائونڈ کردیئے تھے۔ جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے کے منصوبے کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب پریسلر ترمیم کے تحت امریکہ نے پاکستان کو 28ایف سولہ جنگی طیاروں کی فراہمی روک دی تھی جسکے بعد پاکستان اور چین کے درمیان جے ایف 17طیاروں کی تیاری کے باقاعدہ منصوبے کا آغاز ہوا۔

اس سلسلے میں 1998ءمیں نواز شریف دور میں پاک چین ایئر فریم معاہدہ اور 1999ءمیں جے ایف 17منصوبے کا معاہدہ طے پایا جبکہ 2003ء میں طیارے کا پہلا ماڈل تیار ہوا اور آج اس طیارے کے 58فیصد پرزے پاکستان میں ہی تیار کئے جاتے ہیں جو ملکی دفاعی خود انحصاری کی ایک واضح مثال ہے۔ پاکستان، دنیا کو جے ایف 17 تھنڈر طیارے مکمل دفاعی پیکیج کے طور پر پیش کررہا ہے جس میں پائلٹ کی تربیت، تکنیکی معاونت اور مینٹی نینس جیسی سہولیات بھی شامل ہیں۔ اس طیارے کی قیمت 30 سے 40 ملین ڈالر ہے جبکہ اس کے مقابلے میں فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کی قیمت 100ملین ڈالر سے زائد ہے۔ جے ایف 17 طیارہ 8سے زائد میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جدید ریڈار سسٹم کے ذریعے دشمن کے اہداف کو موثر انداز میں نشانہ بناسکتا ہے۔ دبئی ایئر شو سمیت مختلف بین الاقوامی فضائی نمائشوں میں اس طیارے نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور عالمی توجہ حاصل کی۔ یہ وہی ایئر شو تھا جس میں بھارتی تیجاس طیارہ گرکر تباہ ہوا تھا۔

گزشتہ سال بھارت کیساتھ ہونیوالی جنگ ’’معرکہ حق‘‘ پاکستان کیلئے ایک نعمت ثابت ہوئی ہے اور اس جنگ میں کامیابی کے بعد جہاں ایک طرف دنیا میں پاکستان کی عزت و وقار میں اضافہ ہوا، وہاں دوسری طرف جنگ میں شاندار صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنیوالے جے ایف 17تھنڈر طیاروں اور دیگر دفاعی ساز و سامان کی بیرون ملک طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو نے سعودی عرب میں سعودی ایئر چیف اور پاکستان میں بنگلہ دیش کے ایئر چیف سے ملاقات کی اور دونوں ممالک نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی۔ اسی طرح انڈونیشیا جو فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری کے معاہدے کے بہت قریب تھا، اب ’’معرکہ حق‘‘ میں جے ایف 17طیاروں کی شاندار کارکردگی کے باعث ان طیاروں کی خریداری میں دلچسپی رکھتا ہے۔ خلیجی ممالک، وسط ایشیائی ریاستیں، میانمار (برما)، نائیجریا، سوڈان، ایتھوپیا، لیبیا، بنگلہ دیش، مراکو، ایران اور انڈونیشیا اُن ممالک میں شامل ہیں جن سے جے ایف 17طیاروں کی فروخت پر بات چیت جاری ہے جبکہ 13ممالک میں سے 8 ممالک سے جے ایف 17 کی فروخت کے معاہدے حتمی مراحل میں ہیں جن میں مراکو بھی شامل ہے۔ اس طرح جے ایف 17 تھنڈر طیارہ، پاکستان کی دفاعی برآمدات کی حکمت عملی کامرکز بن چکا ہے اور اسے ایک حقیقی گیم چینجر قرار دیا جارہا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف جو حال ہی میں مراکو کے دورے سے وطن واپس آئے ہیں، یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ’’ہمیں جے ایف 17 طیاروں کے اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ مستقبل میں آئی ایم ایف کی ضرورت ہی نہ پڑے گی اور انشاء اللہ بہت جلد دفاعی برآمدات پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکال سکتی ہیں۔‘‘

تازہ ترین