نیورو سائنس دانوں کے مطابق جنریشن زی (Gen-Z) تاریخ کی پہلی ایسی نسل قرار دی جا رہی ہے جو ذہانت کے اعتبار سے اپنے والدین سے کمزور ہے، جبکہ محققین نے اس کمی کی ممکنہ وجوہات بھی بیان کر دی ہیں۔
نیورو سائنس دان ڈاکٹر جیرڈ کونی ہوروَتھ کا کہنا ہے کہ 1997ء سے 2010ء کے درمیان پیدا ہونے والے افراد جو جنریشن زی کہلاتے ہیں، تعلیمی نظام میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار کے باعث ذہانت میں کمی کا شکار ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر ہوروَتھ کے مطابق انسانی دماغ مختصر آن لائن ویڈیوز یا پیچیدہ خیالات کو چند جملوں میں سمیٹ کر پڑھنے سے مؤثر طریقے سے سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ایل ایم ای گلوبل کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے ڈاکٹر ہوروَتھ نے 15 جنوری 2026ء کو امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے تجارت، سائنس و ٹرانسپورٹیشن کو بتایا کہ جنریشن زی میں ذہنی نشوونما کی سطح 19 ویں صدی کے آخر میں ریکارڈ رکھے جانے کے بعد سے سب سے کم دیکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر ہوروَتھ کی تحقیق کے مطابق جنریشن زی میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت کمزور، توجہ کا دورانیہ مختصر اور ریاضی کی مہارت میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر آئی کیو (IQ) کی سطح میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔
ادارے کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2010ء کے بعد ذہنی صلاحیتوں میں زوال کا آغاز ہوا۔
نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر ہوروَتھ نے کہا کہ انسانی دماغ فطری طور پر اپنے ماحول اور مطالعے کی گہری عادت کے ذریعے سیکھنے کے لیے تشکیل پایا ہے، نہ کہ مسلسل اسکرین اسکرول کرنے سے۔
جنریشن زیڈ کے بارے میں پائی جانے والی مبینہ حد سے زیادہ خود اعتمادی پر تنقید کرتے ہوئے ڈاکٹر ہوروَتھ نے کہا کہ لوگ خود کو جتنا زیادہ ذہین سمجھتے ہیں، حقیقت میں اتنے ہی کم ذہین ہوتے ہیں۔