• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہانگ کانگ کے ’کوفن ہومز‘ میں 2 لاکھ افراد کیسے رہتے ہیں؟

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

ہانگ کانگ کو دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے، یہاں بلند و بالا عمارتیں، لگژری گاڑیاں اور ارب پتی شخصیات نظر آتی ہیں مگر اسی شہر میں ایک تلخ حقیقت بھی چھپی ہے جہاں ہزاروں لوگ انتہائی تنگ اور غیر معیاری گھروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جنہیں ’کوفِن ہومز‘ کہا جاتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ گھر صرف 16 اسکوائر فٹ پر مشتمل ہوتے ہیں، یعنی تقریباً 4 فٹ لمبے اور 4 فٹ چوڑے، ان کمروں میں نہ سیدھا کھڑا ہونا ممکن ہے اور نہ ہی بازو پھیلانا، ایک چھوٹا سا بستر ہی پوری جگہ گھیر لیتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ہانگ کانگ میں 2 سے ڈھائی لاکھ افراد ایسے ذیلی یا ’کوفن‘ نما گھروں میں رہتے ہیں، ان افراد میں زیادہ تر بزرگ، کم آمدنی والے مزدور اور تارکینِ وطن شامل ہیں۔

ہانک کانگ میں سرکاری رہائش بھی مہیا کی جاتی ہے مگر اس کے لیے اوسط انتظار 5 سال یا اس سے بھی زیادہ ہے۔

ان 16 اسکوائر فٹ کے گھروں کا ماہانہ کرایہ 230 سے 450 امریکی ڈالرز تک ہوتا ہے۔

’کوفن ہوم‘ دراصل لکڑی یا دھات کے بنے ہوئے چھوٹے ڈبے ہوتے ہیں جو ایک ہی فلیٹ میں کئی منزلوں کی شکل میں لگائے جاتے ہیں، ایک 800 اسکوائر فٹ کے فلیٹ میں تقریباً 30 تک ایسے یونٹس بنائے جاتے ہیں جبکہ رہائشی اسی تنگ جگہ میں سوتے، کھاتے اور اپنی روزمرہ کی زندگی گزارتے ہیں۔

یہ یونٹس اکثر پرانی عمارتوں میں غیر قانونی طور پر بنائے جاتے ہیں، انہیں بنانے کے لیے عموماً چھتیں نیچی کر کے ایک منزل کو 2 حصوں میں بانٹ دیا جاتا ہے، بجلی کے تار اوورلوڈ ہوتے ہیں، ہوا اور روشنی کا انتظام نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق  گرمیوں میں اِن چھوٹے فلیٹس کا درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے جس سے یہ کمرے بھٹی بن جاتے ہیں جبکہ اشیاء کو پھپھوندی لگ جانا، گُھٹن، مچھر، کھٹمل اور لال بیگ کی بھرمار یہاں کا عام مسئلہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق کئی ’کوفن ہومز‘ میں کچن نہیں ہوتا، اس لیے لوگ باتھ روم میں اور بعض اوقات ٹوائلٹ کے ساتھ ہی چولہا رکھ کر کھانا پکاتے ہیں، یہ صورتِ حال نہایت غیر انسانی اور صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔

ہانگ کانگ کی چمکتی اسکائی لائن خوش حالی کی تصویر دکھاتی ہے مگر اسی شہر میں کوفن ہومز میں بسنے والے افراد اس ترقی سے کوسوں دور ہیں، یہ گھروں کی کمی اور مہنگائی کا وہ رُخ ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔

دلچسپ و عجیب سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید