نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ (NBER) کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے وسیع استعمال کے باوجود بیشتر کمپنیوں میں نہ تو روزگار پر کوئی اثر پڑا ہے اور نہ ہی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
امریکا، برطانیہ، جرمنی اور آسٹریلیا میں تقریباً 6 ہزار اعلیٰ عہدیداروں سے کیے گئے سروے میں 90 فیصد سے زائد کمپنیوں نے بتایا کہ گزشتہ 3 برس میں اے آئی کے استعمال سے ملازمتوں یا پیداواری صلاحیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
تحقیق کے مطابق دو تہائی ایگزیکٹیوز اے آئی استعمال کر رہے ہیں تاہم اس کا اوسط استعمال صرف ڈیڑھ گھنٹہ فی ہفتہ ہے جبکہ 25 فیصد اداروں نے اے آئی کے استعمال سے مکمل طور پر گریز کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 89 فیصد کمپنیوں نے فی ملازم مصنوعات کی فروخت کے لحاظ سے بھی اے آئی کا کوئی اثر محسوس نہیں کیا ہے، اس کے باوجود ادارے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔
کمپنیوں کے ایگزیکٹیوز کے مطابق آئندہ 3 برسوں میں اے آئی سے پیداوار میں 0.8 فیصد اور پیداواری صلاحیت میں 1.4 فیصد اضافہ متوقع ہے جبکہ 75 فیصد کاروبار اے آئی ٹیکنالوجی اپنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق 2028ء تک موجودہ کمپنیوں میں اے آئی کے باعث تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار ملازمتیں کم ہونے کا خدشہ ہے۔
فی الحال اے آئی کا سب سے زیادہ استعمال ٹیکسٹ جنریشن، بصری مواد کی تیاری اور مشین لرننگ کے ذریعے ڈیٹا پروسیسنگ میں ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایم آئی ٹی کی ایک رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ 95 فیصد اداروں کو اے آئی میں سرمایہ کاری کے باوجود کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں ہو سکا۔