ناروے کے سائنسدان نے ’ہوانا سنڈروم‘ کے وجود کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں اپنے ہی دماغ کو نقصان پہنچا لیا۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ناروے کے ایک سائنس دان نے ’ہوانا سنڈروم‘ کے وجود کو غلط ثابت کرنے کے لیے بنائے گئے ایک آلے کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے دماغ کو نقصان پہنچا لیا۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2024ء میں ناروین سائنسدان ایک انتہائی خفیہ تحقیقی منصوبے پر کام کرتے ہوئے ایک ایسی ڈیوائس بنائی جو مائیکرو ویو ریڈی ایشنز خارج کرنے کے قابل تھی۔
امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ناروین سائنسدان اس تحقیقی منصوبے کے دوران ایک پُراسرارا بیماری میں مبتلا ہوگئے جس کے بعد ناروے کی حکومت سی آئی اے تک پہنچ گئی۔
جس کے بعد پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کے حکام نے ناروے کے کم از کم 2 دورے کیے۔
امریکی حکومت سرکاری طور پر ان پُراسرار معاملات کی’غیر معمولی صحت کے واقعات‘ کے طور پر درجۂ بندی کرتی ہے لیکن اس حوالے سے زیادہ مشہور تھیوری اب بھی برقرار ہے کہ ہوانا سنڈروم پلزڈ انرجی ویپنز کے استعمال سے ہونے والے حملوں کا نتیجہ ہے۔
’ہوانا سنڈروم‘ کا کیس پہلی بار 2016ء میں کیوبا میں موجود امریکی سفارت خانے میں سامنے آیا اور بعد میں روس، چین، بھارت اور برطانیہ سمیت 15 سے زائد ممالک میں اس کے کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔