ہمارے ملک میں انڈیا اور پاکستان کو بالعموم حریف ممالک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ درویش کی ہمیشہ یہ تمنا ہوتی ہے کہ یہ دونوں برادر ہمسایہ ممالک حریف نہیں، حلیف ہونے چاہئیں اور اسی طرح انہیں پیش کیا جانا چاہیے۔ یہ خواہش محض اِس صحافی یا قلمکار کی نہیں ۔ اس ملک کے بانی محمد علی جناح صاحب سے جب وائس آف امریکا کے صحافی نے اس نوع کا سوال کیا کہ مستقبل میں آپ پاک انڈیا تعلقات کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ تو انہوں نے فی البدیہہ جواب دیا کہ یہ ایسے ہی ہوں گے جیسے کینیڈا اور امریکا کے ہیں۔ ان دنوں اگرچہ لاابالی امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ نے امریکا اورکینیڈا کےمثالی تعلقات کے شہد میں بھی سرکہ ملا رکھا ہے مگر یہ ایک وقتی شرارت ہے، امریکی ڈیمو کریسی کی جڑیں اس قدر مضبوط ہیں کہ اگلی ہی جست میں یہ وقتی خرابی قصہ ماضی بن جائے گی۔حال ہی میںجب پاکستان اور بھارت مقابل آگئے تواس جنگ بندی کا سارا کریڈٹ پاکستان نے بجا طور پر ٹرمپ کو دیا۔ اس کے بالمقابل پرائم منسٹر انڈیا نے جنگ بندی میں ٹرمپ کا سرے سے کوئی رول تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔مودی شاید ٹرمپ کی رنگ بدلتی شخصیت کوسمجھنے سے قاصر رہے۔ پھر کیا تھا ٹرمپ اپنی انا کی تسکین کیلئے ہاتھ دھو کر اس بری طرح سے مودی کے پیچھے پڑ ئے کہ انھیں نیچا دکھانے کا کہیں کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیا۔ انڈیا امریکا باہمی مفادات و تعلقات کی بنیادیں کتنی گہرائی تک جا چکی ہیں؟ ٹرمپ نے اس کی پرواکیے بغیر کسی اصول ضابطے یا حساس سفارت کاری کا کوئی لحاظ نہ کرتے ہوئے رشین کے ساتھ انڈین اکانومی کو بھی ڈیڈ قرار دے دیا۔ انڈین برآمدات پر خوفناک حد تک بھاری ٹیرف عائد کرنے کے اعلانات شروع کردیئے۔ ہمارے ابلاغی حلقوں نے اِس وقتی ابال کو پاکستان کیلئے گویا ہنی مون خیال کیا کہ اب پاکستان کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ بلوچستان میں موجود قیمتی معدنیات کے حوالے سے بھی ٹرمپ قائل اور مائل گیا بلکہ امریکا نے اس حوالے سے سرمایہ کاری کرنے کا نہ صرف عندیہ ظاہر کیا بلکہ سرمایہ کاری کا معاہدہ بھی ہو گیا۔
امریکی تاریخ میں لاابالی پن یا یوٹرن کے حوالے سے شاید ٹرمپ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا کہ آج وہی ٹرمپ یہ اعلان کرتے دکھائی دیئے کہ انڈیا اور امریکا کے درمیان شاندار تجارتی معاہدہ ہو گیا ہے۔ جس کے تحت بھارت پر عائد کیا جانے والا ٹیرف سو، دو سو، پچاس یا پچیس سے بھی گر کر محض اٹھارہ فیصد رہ گیا ہے۔ یہ بھی کہا کہ اب انڈیا امریکی مصنوعات کی خریداری میں پانچ سو ارب ڈالرز سے زائد کااضافہ کرئے گا۔ بھارت روس سے تیل کی خریداری بند کرتے ہوئے امریکا اور ممکنہ طور پر وینزویلا کا تیل خریدے گا یہ معاہدہ دونوں بڑی معیشتوں اور جمہوریتوں کے درمیان تعاون کا مظہر ہے۔جوابی طور پر پرائم منسٹر مودی نے ایکس پر لکھا کہ آج اپنے عزیز دوست پریذیڈنٹ ٹرمپ سے بات کر کے خوشی ہوئی کہ اب ”میڈ ان انڈیا“ مصنوعات پر ٹیرف کم ہو محض اٹھارہ فیصد رہ گیاہے۔
انہوں نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے بھارت کیلئے تاریخی کامیابی قرار دیا۔ کہنے والے جو بھی کہیں مگر سچائی یہ ہے کہ بالآخر ٹرمپ نے مودی کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں کیونکہ انڈیا کیلئے روسی تیل سے کہیں اہم اسکی طرف سے امریکا جانے والی برآمدات ہیں جن پر ٹیرف پاکستان سے بھی ایک درجہ کم کر دیا گیا جبکہ ان کا حجم پاکستان سے کوئی مماثلث ہی نہیں رکھتا ۔ نیز وینزویلا کا خام تیل روسی تیل کا بہتر متبادل ہو گا۔ مزید یہ کہ رشیا یوکرین جنگ بندی کے بعد اس نوع کی کوئی رکاوٹ ویسے ہی ختم ہونے والی ہے۔ دوسری طرف رشین حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ انھیں انڈیا کی طرف سے اس نوع کا کوئی اشارہ نہیں ملا ۔انڈیا کو اس سے بھی بڑی کامیابی چند روز قبل بھارت اور یورپی یونین میں ہونے والے تجارتی معاہدے کی صورت ملی ہے جسکے تحت یورپ بھارت سے درآمد99.5اشیاءپر محصولات صفر کر دئے گا جبکہ انڈیا یورپی گاڑیوں پرٹیرف 110 سے کم کرتے ہوئے 10 فیصد پر لے آئے گا۔
فریقین نے دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دو ارب انسانوں کیلئے ہونے والے اس معاہدے کو عالمی تجارتی نظام میں ہلچل قرار دیا جا رہا ہے جو بھارت اور یورپی یونین میں بیس سالہ مذاکرات کے بعد ایک جامع معاشی معاہدہ ہے جسے خود یورپی قیادت نے تمام تجارتی معاہدوں کی ماں قرار دیا ہے۔ انڈین پرائم منسٹر نریندر مودی نےکہا ہے کہ یہ معاہدہ دنیا کی ایک تہائی عالمی تجارت کو متاثر کرئے گا۔
اس کے ساتھ ہی بھارت کو ایک بڑی کامیابی نایاب معدنیات Rare earth minerels سے متعلق عالمی اقتصادی کانفرنس میں باضابطہ شرکت اور اہم کردار کا ملنا ہے جبکہ پاکستان کو اسکانفرنس میں مدعو ہی نہیں کیا گیا، جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔ واضح رہے کہ یہ عالمی اقتصادی کانفرنس امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کی سربراہی میں دو سے چار فروری تک واشنگٹن میں منعقد ہوئی جس میں امریکا، انگلینڈ، یورپی یونین، آسٹریلیا، جاپان، انڈیا اور دیگر امریکی اتحادی ممالک جن میں جی سیون کے علاوہ قریباً بیس ممالک نے شرکت کی۔ جس میں نایاب زمینی دھاتوں پر بڑھتے ہوئے انحصار، سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے عدم استحکام کو جدید ٹیکنالوجی دفاعی صنعت، قابل تجدید توانائی اور صنعتی پیداوار کیلئے اہمیت واضح کی گئی۔ان حالات میں ہمارے وزیراعظم کی وہ ویڈیو قابل ملاحظہ ہے جس میں وہ قرضوں کے حصول کیلئے اپنی کاوشوں کے بارے میں بتا رہے ہیں ۔ اس میں ہماری معاشی بدحالی کی پوری کہانی پوشیدہ ہے۔ درویش کی التماس ہے کہ ہمیںخطے میں منافرت کو محبت میں بدلنا ہو گا ،یہی خطے کے دو ارب انسانوں کے حق میں بہتر ہے ۔