شوہر سے بچوں کی حوالگی کے لیے خاتون کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے حکم دیا کہ بچوں کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے، بچوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے ریمارکس میں کہا کہ میاں بیوی میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن ان کو ماں باپ کی لڑائی میں تبدیل مت کریں، گھر بیوی کے نام کرانا کوئی بڑی بات نہیں، میری جائیداد بھی اہلیہ کے نام ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ میاں بیوی خود جو معاملہ حل کر سکتے ہیں وہ جج اور وکیل نہیں کر سکتے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اب بچوں کی تربیت کا وقت ہے، چند سالوں میں بچے بڑے ہوجائیں گے تو دونوں سے نفرت کریں گے، اُس وقت اگر صلح بھی کریں گے تو کام نہیں آئے گی۔
عدالتی استفسار پر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے معافی مانگنے پر تیار ہو گئے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے دونوں کو کمرہ عدالت میں ساتھ بیٹھنے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے میاں بیوی کو آئندہ سماعت پر چاروں بچوں کو عدالت پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ جمعے تک ملتوی کر دی۔