• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بسنت کو اگر صرف ایک تہوار سمجھ لیا جائے تو یہ لاہور کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ وہ دن ہوتے تھے جب یہ شہر صرف آباد نہیں ہوتا تھا بلکہ سانس لیتا تھا۔ چھتیں کھلتی تھیں، د ل کِھلتے تھے، اور لوگ چند گھنٹوں کیلئے ہی سہی اپنی تلخیوں،پریشانیوں اور خوف کو نیچے رکھ کر آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ رنگ برنگی پتنگیں محض کاغذ کے ٹکڑے نہ ہوتیں،اس بات کا اعلان ہوتیں کہ زندگی ابھی باقی ہے اور یہ شہر ابھی تھکا نہیں۔بسنت صدیوں پرانا تہوار ہے جو مختلف تہذیبوں، رسموں اور ثقافتوں سے گزرتا ہوا پنجاب کی اجتماعی زندگی کا حصہ بنا۔ وقت کےساتھ اسکی مذہبی شناخت پیچھے رہ گئی اور ثقافتی پہچان نمایاں ہوتی چلی گئی۔ مغل دور میں یہ درباروں تک پہنچی، مگر اصل رنگ اسے عوام نے دیا، اور لاہور نے اسے اپنی پہچان بنا لیا۔ خاص طور پر اندرون لاہور، جہاں بسنت کسی کیلنڈر کی محتاج نہ تھی۔دو ہزار سات تک بسنت پاکستان کے ان چند تہواروں میں شامل تھی جو عید کے بعد سب سے بڑے پیمانے پر منائے جاتے تھے۔ لاہور اس کا مرکز تھا، مگر اسکی بازگشت چار دانگ عالم میں سنائی دیتی ۔

یہ صرف پتنگ بازی نہیں، ایک مکمل سماجی اور معاشی سرگرمی تھی۔ پتنگ اورڈور سازی کی صنعت سےہزاروں خاندانوں کا چولہا جلتا۔اسکے بعد کیٹرنگ، ہوٹلنگ، ایونٹ مینجمنٹ، موسیقی، ڈھول، لائٹس، ساؤنڈ سسٹم، ٹرانسپورٹ ہر شعبہ حرکت میں آ جاتا ۔ لوگ دور دراز علاقوں سے لاہور آتے تھے۔ رشتہ داروں کےہاں قیام ہوتا، چھتوں پر کھانے بنتے، قہقہے گونجتے۔ بسنت نے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا تھا، اسی لیے اسکی یاد آج بھی اتنی گہری ہے۔مگر سچ یہ ہے کہ بسنت خود خونیںنہیں ہوئی، اسے خونیں بنایا گیا۔ مسئلہ تہوار نہیں تھا، مسئلہ وہ ضد تھی جو دوسرے کی پتنگ کاٹنے کے جنون میں انسانیت کاٹنے لگی۔ کیمیکل اور دھاتی ڈور نے خوشی کو خطرے میں بدل دیا۔ موٹر سائیکل سواروں کے گلے کٹے، بچے زخمی ہوئے، راہگیر زندگی سے محروم ہوئے۔ریاست کو اس تہوارپر پابندی لگانا پڑی کہ انسانی جان سب سے قیمتی ہے۔ نیت درست تھی، مگر کیا مکمل پابندی ہی واحد حل تھی؟ ریاست چاہتی تو سخت قوانین، مؤثر نفاذ اور عوامی شعور کے ذریعے اس تہوار کو محفوظ نہیں بنا سکتی تھی؟ یہ سوال سترہ برس تک معلق رہا۔ لوگوں کے چہروں سے خوشی غائب ہوتی چلی گئی۔ مہنگائی بڑھی، بیروزگاری نے پنجے گاڑے، ذہنی دباؤ معمول بن گیا۔

سیاسی کشمکش نے معاشرے کو تھکا دیا۔ایسے میں بسنت کی واپسی محض ایک فیسٹیول کی بحالی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی سانس بن کر سامنے آئی۔ آج اگر لاہور کی سڑکوں، بازاروں اور محلوں میں نکلیں تو یہ بات صاف محسوس ہوتی ہے کہ لوگ اس تہوارکےدیوانےہیں۔ہر کوئی بسنت منانےکیلئے ڈور گڈی کی تلاش میں ہےبچے ضد کر رہے ہیں، نوجوان منصوبے بنا رہے ہیں، بزرگ پرانی یادیں تازہ کر رہے ہیں۔لوگ ویڈیوز بنا رہے ہیں، تصویریں شیئر کر رہے ہیں، اور کہہ رہے ہیں: ’’سترہ سال بعد وہ دن آ رہا ہے‘‘۔ یہ محض تفریح نہیں، یہ برسوں کے دبے ہوئے جذبے کا اظہار ہے۔

اسی پس منظر میں پنجاب میں بسنت کو ایس او پیز کے ساتھ بحال کرنے کا فیصلہ سامنے آیا۔ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ ایک متنازع اور حساس تہوار کو دوبارہ زندہ کرنا سیاسی رسک بھی تھا اور انتظامی امتحان بھی۔ یہاں یہ بات واضح طور پر کہنی چاہیے کہ یہ فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی ہدایات اور رہنمائی کے بغیر ممکن نہ تھا۔ نواز شریف کی سیاست ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ معیشت، ثقافت اور عوامی زندگی کے رنگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس فیصلے کی عملی ذمہ داری لی، یہ آسان کام نہیں تھا۔ ایوی ایشن سیفٹی کے معاملات ہوں یا مخصوص علاقوں میں پابندیاں، موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈ ہوں یا کیمیکل ڈور کے خلاف سخت اقدامات یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت اس بار صرف اجازت نہیں دے رہی بلکہ نظم بھی قائم کرنا چاہتی ہے۔ امید یہی ہے کہ مریم نواز اس امتحان میں کامیاب ہونگی، ابتدائی انتظامات یہی پیغام دے رہے ہیں۔ صرف پتنگوں کی اربوں روپے کی فروخت ایک الگ معاشی سرگرمی ہے۔ اسکے ساتھ ڈور، کیٹرنگ، ایونٹس، لائٹس، ساؤنڈ سسٹمز اور دیگر خدمات سے ہزاروں افراد کو روزگار ملا ہے۔ ایک رکا ہوا پہیہ دوبارہ چل پڑا ہے، اور یہی کسی بھی معاشی نظام کیلئے خوش آئند علامت ہوتی ہے۔لیکن یہاں بات صرف حکومت کی نہیں، عوام کی بھی ہے۔ اگر تین دن کے لیے موٹر سائیکل پر حفاظتی راڈ لگانا جان بچا سکتا ہے تو اسے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ نہ اس سے غیرت کم ہوتی ہے، نہ شان۔ ویسے بھی ہم آئینے اتار دیتے ہیں، ہیلمٹ نہیں پہنتے، قوانین توڑتے ہیں، اور پھر شکایت کرتے ہیں۔ بسنت کو واقعی بچانا ہے تو رویے بھی بدلنے ہوں گے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فیسٹیول کسی حکومت کی مجموعی کارکردگی کا نعم البدل نہیں ہوتے۔ کنسرٹس، تقریبات اور بسنت جیسے تہوار اپنی جگہ، مگر روٹی، کپڑا اور مکان بنیادی سوال ہیں۔ عوام آخرِکار ووٹ خوشی کے لمحوں پر نہیں بلکہ مجموعی کارکردگی پر دیتے ہیں۔ حکومت کویہ توازن ہر حال میں قائم رکھناہوگا۔بسنت ایک موقع ہے ریاست کے لیے بھی اور عوام کے لیے بھی۔

ریاست کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ ثقافت، معیشت اور انسانی جان کو ایک ساتھ لے کر چل سکتی ہے۔ عوام کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ دکھائیں کہ وہ خوشی منانا بھی جانتے ہیں اور ذمہ داری نبھانا بھی۔اگر یہ توازن قائم ہو گیا تو لاہور کی چھتیں واقعی پھر بول اٹھیں گی، آسمان ایک بار پھر رنگوں سے بھر جائے گا، اور شاید کچھ دیر کے لیے ہی سہی مگر یہ شہر دوبارہ مسکرا اٹھے گا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو بسنت ایک بار پھر کاغذی نوٹیفکیشن، ایک یاد اور ایک حسرت بن کر رہ جائے گی۔

تازہ ترین