حمل کے دوران یا بعد میں شدید ذہنی تناؤ اور ڈیریشن کی شکار ماؤں کے بچوں میں آٹزم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اس تحقیق کے دوران 23 ہزار سے زائد ماؤں اور بچوں کے ڈیٹا کا مطالبہ کیا گیا، اس سے متعلق چوہوں پر کیے گئے تجربات نے حیاتی تعلق کی تصدیق کی۔
جاپان میں ہونے والی تحقیق کے مطابق پیرینٹل ڈپریشن کا سامنا کرنے والی خواتین کے بچوں میں آٹزم جیسی علامات زیادہ دیکھی گئیں۔
خاص طور پر لڑکیوں میں یہ اثر نمایاں رہا، ایسی بچیاں اکثر کم وزن کے ساتھ پیدا ہوئیں، جن کا اپنی ماؤں کے ساتھ جذباتی تعلق بھی کمزور پایا گیا۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر لڑکوں میں آٹزم جیسی علامات لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ تھیں، چاہے ماں کی ذہنی حالت کچھ بھی ہو۔
محققین نے اس بات پر زور دیا کہ ماؤں کی ذہنی صحت کی بروقت تشخیص اور مدد بچوں میں آٹزم کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ذہنی دباؤ آکسی ٹوسن ہارمون کی سطح کو متاثر کرتا ہے، اس لیے دوران حمل یا بعد میں ماؤں کی ذہنی صحت کی اسکریننگ انتہائی ضروری ہے۔
1 لاکھ 40 ہزار سے زائد حاملہ خواتین پر ہوئی تحقیق کے مطابق حمل کی دوسری اور تیسری سہ ماہی میں ڈیرپشن کے علاج کےلیے اینٹی ڈپریسنٹس لینے سے بچوں میں آٹزم کا خطرہ تقریباً 2 گنا ہوجاتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج نے آٹزم کی تشخیص، خاص طور پر لڑکیوں میں کم تشخیص اور حمل کے دوران ذہنی صحت کی اہمیت پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔